Sunday, August 14, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeدلچسپ و عجیبڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے مُردوں کو بھی کہانیاں سنانے کے قابل بنا...

ڈیپ فیک ٹیکنالوجی نے مُردوں کو بھی کہانیاں سنانے کے قابل بنا دیا

تل ابیب: اسرائیلی کمپنی ’’مائی ہیریٹیج‘‘ نے ایک نئی آن لائن سروس ’’لائیو اسٹوری‘‘ کا آغاز کردیا ہے جس میں ڈِیپ فیک ٹیکنالوجی کے ذریعے مُردوں کو اسکرین پر اس طرح اپنی زندگی کے واقعات خود سناتے دیکھا جاسکتا ہے کہ جیسے وہ آج بھی زندہ ہوں۔
واضح رہے کہ یہی کمپنی پچھلے سال ’’ڈِیپ ناسٹیلجیا‘‘ کے عنوان سے اپنی سروس متعارف کرواچکی ہے۔
ڈیپ ناسٹیلجیا میں بھی ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کی مدد سے عام لوگ بھی اپنی ماضی کی یادوں پر مشتمل، لیکن حقیقت سے قریب تر، اینی میشنز تیار کرکے اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرسکتے تھے۔ اب تک اس سروس کے ذریعے 10 کروڑ سے زیادہ اینی میشنز بنائی جاچکی ہیں۔
یہ خبریں بھی پڑھیے:
ہتھیلی کی رگوں کے ذریعے شناخت کرنے والی جدید ٹیکنالوجی
جنوبی کوریا میں بھی اصل جیسی ’’کمپیوٹرائزڈ‘‘ نیوز کاسٹر خبریں پڑھنے لگی
ملکہ برطانیہ کی ڈانس کرتے پیروڈی ویڈیو چلانا چینل کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا کی یہ یوٹیوبر حقیقت میں وجود نہیں رکھتی
’ڈِیپ فیک‘ ٹیکنالوجی سے جمہوریت کو بھی خطرہ ہے، یورپی ماہرین
نئی سروس ’’لائیو اسٹوری‘‘ میں یہی سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے، صارفین کو سہولت دی گئی ہے کہ وہ اپنے مرحومین کی زندگی سے متعلق چیدہ چیدہ معلومات اس طرح لکھیں کہ جیسے وہ خود اپنے بارے میں بتا رہے ہوں۔
متکلم واحد (فرسٹ پرسن سنگولر) کے انداز میں لکھی گئی ان معلومات کے ساتھ صارفین کو اس فرد کی چند متعلقہ تصاویر، اور آواز کا نمونہ بھی (اگر دستیاب ہو تو) اپ لوڈ کرنے ہوں گے۔
اس کے بعد ’’لائیو اسٹوری‘‘ کا الگورتھم خود ہی ان فراہم کردہ معلومات (تحریر، تصاویر اور آواز کے نمونے) کو استعمال کرتے ہوئے ایک ویڈیو تیار کردے گا جس میں وہ شخص اپنے بارے میں بتا رہا ہوگا جبکہ اسکرین پر متعلقہ تصویریں ایک کے بعد ایک کرکے نمودار ہورہی ہوں گی۔
یہاں صارفین کو یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ وہ خودکار طور پر تیار کی گئی اس ویڈیو کو حتمی (فائنل) شکل دینے سے پہلے اس میں تحریر، تصاویر اور آواز میں تبدیلی کرسکیں۔
اچھی بات یہ ہے کہ ’’لائیو اسٹوری‘‘ سے استفادہ کرنے کےلیے رجسٹریشن کی بھی ضرورت نہیں اور ایک بار ویڈیو فائنل ہوجانے کے بعد صارف کی فراہم کردہ تمام معلومات اس کمپنی کے سرور سے ڈیلیٹ کردی جاتی ہیں۔
البتہ مفت رجسٹریشن کروانے والے صارفین کا ڈیٹا اس سرور پر محفوظ رکھا جاتا ہے۔
بتاتے چلیں کہ ’’ڈِیپ فیک‘‘ ٹیکنالوجی میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کمپیوٹر کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ کسی شخص کی کچھ تصویروں اور آوازوں کو استعمال کرتے ہوئے ایسی جعلی ویڈیوز اور آڈیوز تخلیق کرسکے کہ جو بالکل اصلی محسوس ہوں۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments