Monday, July 4, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeتازہ ترینصرف دو دن کے لیے باہر نکلنے والی بھڑ چارسالہ تحقیق کے...

صرف دو دن کے لیے باہر نکلنے والی بھڑ چارسالہ تحقیق کے بعد نئی نوع قرار

نیویارک: سائنسدانوں نے چار سال تک ایک بھڑ (واسپ) کی نئی قسم دریافت کی ہے لیکن اس کی شناخت میں کوئی چار سال لگے ہیں کیونکہ یہ اپنی پناہ گاہ سے صرف دو دن کے لیے باہر نکلتی ہے۔
اسے بھڑ کہیں یا تتیا، یہ انڈے نکلنے سے بلوغت تک بید کے درختوں کی کھو، یا پتوں کے نیچے یا پھولوں میں ہی رہنا پسند کرتی ہے۔ بہار میں بھی یہ کوئی لمحہ ضائع نہیں کرتی اور چند دن کے لیے باہر نکل کر ملاپ کرتی ہے اور انڈے دے کر مرجاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اس کے درخت قریب ہونے کے باوجود سائنسدانوں کو اسے دیکھنے میں چار برس لگے۔ دوم اس کی زندگی کا دورانیہ بھی بہت کم ہوتا ہے۔ اسی لیے رائس یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے برسوں بعد اس کی نئی نوع ہونے کی تصدیق کی ہے۔
اب ایک ملی میٹر جسامت کی اس بِھڑ کو ’نیوروٹیرس ولہالا‘ کا نام دیا ہے۔ یہ گال واسپ سے تعلق رکھتی ہے جس کی اب تک 1000 اقسام دریافت ہوچکی ہے اور یہ اس ضمن میں ایک نیا اضافہ ہے۔ 2018 میں پروفیسر پیڈرو برانڈاؤ ڈیاس نے اس کی ایک جھلک دیکھی تھی جس کی ٹانگیں غیرمعمولی لمبی تھی ۔ ان کا خیال تھا کہ شاید یہ بھڑ کی کوئی نئی قسم ہے۔
پھر 2019 میں فلوریڈا کے ماہرین نے ایک بِھڑ کو پکڑ ہی لیا اور اس کا جینیاتی جائزہ لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ ایک نئی قسم ہے لیکن اپنی زندگی میں صرف دو یا تین دن کے لیے باہر نکلتی ہے۔ دوم اس کی چھوٹی جسامت کی وجہ سے اسے دیکھنا اور تحقیق کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments

AllEscortAllEscort