Thursday, January 27, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeاسلام آبادافغانستان کی صورتحال پراسلامی تعاون تنظیم کا غیر معمولی اجلاس

افغانستان کی صورتحال پراسلامی تعاون تنظیم کا غیر معمولی اجلاس

اسلام آباد(این اے نیوز)افغانستان کی صورتحال پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس جاری ہے۔

اسلام آباد میں افغانستان کی صورتحال پر پر اسلامی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کا غیر معمولی اجلاس جاری ہے جس میں پاکستان کی دعوت پر20 ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت 10 ممالک کے نائب وزیر خارجہ اور 70 وفود شریک ہیں، 1974ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی پاکستان کررہاہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : دنیا کے کسی ملک نے افغانستان سے زیادہ مسائل نہیں دیکھے، وزیراعظم
وزیراعظم عمران خان؛

اوآئی سی وزرائےخارجہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 41 سال بعد او آئی سی کا اجلاس پاکستان میں ہو رہا ہے، معزز مہمانوں کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جتنی مشکلات افغانوں نے اٹھائیں، کسی اور ملک نے نہیں اٹھائیں، کسی بھی ملک کو افغانستان جیسی صورتحال کا سامنا نہیں رہا، افغانستان 4 دہائیوں سے خانہ جنگی کا شکار رہا ہے، اور وہاں کے حالات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان پاکستان نےاٹھایا اور سب سے زیادہ پاکستان ہی متاثر ہوا، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جان کی قربانی دی۔

شاہ محمود قریشی؛

او آئی سی اجلاس سے خطاب میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں، افغانستان کے عوام کو خوراک کی قلت کا سامنا ہے، اجلاس افغانستان کے لوگوں کے مسائل سے آگاہی کے لیے ہے، غیر معمولی اجلاس کے لیے او آئی سی کا پاکستان پر اعتماد خوش آئند ہے، 40سال قبل بھی پاکستان نے افغانستان کے لئے اسی طرز کا اجلاس بلایا تھا، یہ اجلاس افغانستان کی بقا کے لیے اہم ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان کا معاشی بحران خطے کےلیے تباہ کن ہوگا، ورلڈ فوڈ پروگرام افغانستان میں خوراک کے مسئلے کی نشاندہی کر چکا ہے، دنیا تمام چیزوں سے بالاتر ہو کر افغان مسئلے پر آگے بڑھے، پاکستان ایک بار پھر افغانستان میں انسانی بحران کے حل کے لیے سرگرم ہے، افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلئے مسلم امہ اور عالمی دنیا اپنا کردار ادا کرے، افغانستان کے معاشی حالات دنیا کی توجہ چاہتےہیں، اس وقت افغانستان کی نصف آبادی کو خوراک کی کمی کا سامنا ہے، افغانستان کا معاشی بحران خطے کو بری طرح متاثر کرے گا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : سعودی وزیرخارجہ کا افغانستان کے لیے ایک ارب ریال امداد کااعلان

سعودی وزیرخارجہ؛

سعودی وزیرخارجہ نے او آئی سی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ او آئی سی اجلاس کے انعقاد اور بہترین انتظامات پر پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں، پاکستان نے کم ترین وقت میں اجلاس کا انعقاد کیا، اہم ترین اجلاس کے انعقاد پر پاکستان کے مشکور ہیں، اجلاس میں شرکت پر او آئی سی سیکریٹری جنرل اور دیگر کے شکر گزار ہیں، افغانستان کے معاملے کو انسانی بنیادوں پر دیکھنا ہوگا، افغانستان میں خواتین، بچوں سمیت افغان عوام مشکلات کا شکار ہیں، افغانستان میں معاشی بحران مزید خراب ہو سکتا ہے۔

سیکریٹری جنرل او آئی سی؛

سیکریٹری جنرل او آئی سی نے کہا کہ افغانستان کے مسئلے پر اجلاس بلایا جانا خوش آئند ہے، او آئی سی اجلاس کے بہترین انتظامات قابل تعریف ہیں، افغانستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، افغانستان کے عوام ہماری مدد کے منتظر ہیں۔

افغانستان صورتحال؛
افغانستان میں اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق 38لاکھ افراد خوراک کی شدید قلت کا شکارجبکہ عالمی ادارہ خوراک نے متنبہ کیا ہے کہ 3.2ملین افغان بچے خوراک کی کمی سے متاثر ہیں اورساڑھے 6لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے، او آئی سی وزراء خارجہ غیر معمولی اجلاس میں تمام مسلم امہ یک آواز ہو کر افغانستان میں انسانی صورت حال پر پالیسی اپنائے گی، اور افغان بھائیوں کی مدد کیلیے ٹھوس اقدامات کرنے کی طرف جائیگی۔افغان عبوری وزیرخارجہامیر خان متقی نے افغانستان میں امن اور ترقی کیلیے پاکستان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ بیمثال ہے، خصوصا وزیراعظم عمران خان کے مشکور ہیں جنہوں نے افغانستان میں انسانی بحران کا حل تلاش کرنے کیلیے اہم کانفرنس کاانعقادکیا۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments