Thursday, January 27, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمکولڈ وار اور بلاک پالیٹکس (آخری قسط)

کولڈ وار اور بلاک پالیٹکس (آخری قسط)

میں اس لئے اس موضوع (کولڈ وار اور بلاک پالیٹکس) پر زور دے رہا ہوں کہ پاکستان کی ساری داخلی اور خارجی مشکلات کا حل اس ایک بات میں ہے کہ وہ نہ تو کسی بین الاقوامی سیاسی بلاک کا حصہ بنے اور نہ کسی کولڈ وار (قسط دوم) میں شرکت کرے۔ پاکستان نے، جیسا کہ ہم جانتے ہیں گزشتہ پون صدی میں یہ ’کاروبار‘ کرکے دیکھ لیا ہے۔ لیکن اس سے ہماری مشکلات میں اضافہ ہی ہوا ہے، کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آئی۔

سرد جنگ کیا ہے، اس کی مختصر تشریح عسکری مورخین نے اس طرح کی ہے: ”کولڈ وار (سرد جنگ) 1947ء میں شروع ہوئی تھی اور 1989ء میں ختم ہو گئی۔ یہ 42سالہ دور دنیا کی دو سپرپاورز کے درمیان کشیدگی کا بدترین دور تھا۔“…… اس دور میں یہ اگرچہ دونوں سپرپاورز براہِ راست تو کسی جنگ میں شریک نہ ہوئیں، مگر روس (جو اپنے آپ کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بالمقابل سوویت یونین کہلاتا تھا) آخر یہ سرد جنگ ہار گیا۔ اس 42سالہ دور میں دنیا میں کئی جنگیں لڑی گئیں جن میں کورین وار، ویت نام وار، انڈو پاک وارز، عرب اسرائیلی وارز اور افغانستان وار شامل تھیں لیکن ان جنگوں میں دونوں سپرپاورز کے فوجی دو ایسی بھی جنگوں میں شریک ہوئے جن میں ان کا مقابلہ اپنے حریف سے براہِ راست نہ تھا۔
ان میں پہلی جنگ ویت نام وار کے نام سے جانی جاتی ہے۔ یہ 1962ء میں شروع ہوئی اور 1975ء میں ختم ہوئی۔ 13برسوں پر پھیلی اس جنگ میں امریکی فوج کا مقابلہ کسی روسی یا چینی فوج سے نہیں تھا۔ امریکہ، ویت نام کو اپنے حلقہ ء اثر میں لینا چاہتا تھا۔ امریکی نظام کو سرمایہ دارانہ نظام کہا جاتا تھا اور اس کے مقابل روس کے حمائتیوں کو کمیونسٹ نظام کا پیروکار خیال کیا جاتا تھا۔ یہ جنگ، امریکی سولجرز (بری، بحری، میرین اور ہوائی فوج کے سولجرز) اور ویت نامی سولجرز جن کو ویت کانگ کہا جاتا تھا کے مابین لڑی گئی۔ اس میں کُشت و خون کی انتہا دوسری جنگ عظیم کے خونریز ترین معرکوں کے برابر تھی۔ ویت کانگ کے جانی نقصانات بے تحاشا تھے لیکن امریکہ جب 1975ء میں اس جنگ سے واپس ہوا تو امریکی اعداد و شمار کے مطابق 58 ہزار امریکی سولجرز اس جنگ میں کام آئے اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اس سے تین گنا زیادہ تھی!

تین ہزار ارب ڈالر کے اثاثے؟ایپل دنیا کی سب سے بڑی اور پہلی کمپنی بننے کے قریب پہنچ گئی
روس اور چین نے ویت کانگ کی مدد کی۔ ان ملکوں کی زمینی سرحدیں ویت نام سے ملتی ہیں اس لئے دونوں کمیونسٹ ممالک نے سلاحِ جنگ اور فوجی انتظام و انصرام کے سلسلے میں ویت کانگ گوریلاؤں کی مدد کا بیڑا اٹھائے رکھا۔ جبکہ امریکہ اور اس کے حواری (جو جنگ میں براہِ راست شریک نہ تھے) سات سمندر پار سے آکر اس جنگ میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ جب یہ جنگ ختم ہوئی تو دنیا کو معلوم ہوا کہ یہ ”سرد جنگ کا حصہ تھی“۔…… لاحول ولا قوت اللہ باللہ…… دوسرے لفظوں میں گرم جنگ کا مطلب یہ تھا کہ دونوں سپرپاورز اپنے فوجیوں کو اس جنگ میں صف آراء کرتیں اور جنگ عظیم دوم کی یاد تازہ کرتیں۔
سرد جنگ کی دوسری طویل ترین مثال ’افغان جہاد‘ کی تھی۔ یہ دسمبر 1979ء میں شروع ہوئی اور 1988ء میں ختم ہو گئی۔ اس جنگ میں، ویت نام دار کی طرح، صرف روسی ٹروپس ہی شامل تھے۔ افغانستان کی سرحدیں چونکہ کسی سمندر سے ملحق نہ تھیں اس لئے اس وار میں صرف روسی آرمی اور روسی ائر فورس نے حصہ لیا۔ جو کردار ویت نام کی جنگ میں چین اور روس نے ادا کیا تھا وہی کردار اس افغان وار میں پاکستان نے ادا کیا۔ پاکستان نے افغانستان کے اندر جا کر تو کسی معرکے میں شاذ و نادر ہی حصہ لیا لیکن افغان مجاہدین کی ٹریننگ، انصرام (لاجسٹکس) اور اخلاقی و سفارتی مدد میں بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔ اگر پاکستان اس افغان وار میں افغانستان کی مدد نہ کرتا تو افغانستان کی شکست نوشتہ ء دیوار تھی۔ لیکن ایسی صورت میں روس کا اگلا اقدام پاکستان کے خلاف جنگ ہوتا۔ یعنی پاکستان نے اس جنگ میں وہی کردار ادا کیا جو ویت نام وار میں روس اور چین نے امریکہ کے خلاف ادا کیا تھا۔ یعنی اپنی سرزمین کو جنگ سے الگ رکھا۔ جب یہ جنگ ختم ہوئی تو روس اقتصادی اعتبار سے اتنا کمزور ہو چکا تھا کہ اپنی یونین (اتحاد) کو باقی نہ رکھ سکا اور 1990ء میں ہاتھ کھڑے کر دیئے…… اس طرح اس جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی سرد جنگ کی پہلی قسط ختم ہو گئی۔

’ حکومت غیر سرکاری اداروں اور کمپنیوں کو اپیل ہی کر سکتی ہے ،ڈنڈے نہیں مار سکتی ‘
عمران خان نے اسی لئے وارننگ دی ہے کہ چین اور امریکہ آپس میں اب اتنا آگے بڑھ چکے ہیں کہ اسی طرح کی کشیدگی جنم لے رہی ہے جو 1947ء میں امریکہ اور روس میں تھی۔ اور ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہہ دیا کہ پاکستان کسی ”بلاک سسٹم“ میں شریک نہیں ہوگا۔ کولڈ وار کے دوران دو بلاک بن گئے تھے ایک مشرقی بلاک کہلاتا تھا جس میں کمیونسٹ روس اور چین شامل تھے اور دوسرا مغربی بلاک کہ جس میں سارا مغربی یورپ شامل تھا۔ اس بلاک سسٹم کے فوائد بھی تھے (اور ہیں) اور نقصانات بھی…… لیکن جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس نے مغربی بلاک کی طرفداری کرکے خود کو پہلے دو نیم کیا اور پھر بچے کھچے پاکستان کی سلامتی کو بھی داؤ پر لگا دیا۔
لیکن پاکستان اس حقیقت کا اعتراف کرے یا نہ کرے اسے بالآخر کسی نہ کسی بلاک میں تو شامل ہونا پڑے گا۔ سرد جنگ کی دوسری قسط کا آغاز ہوا تو پاکستان کے لئے غیر جانبدار رہنا مشکل ہو جائے گا۔ دنیا کو معلوم ہے کہ 20ویں صدی میں یورپ کا واحد ملک جو غیر جانبدار رہا وہ سوئٹزرلینڈ تھا۔ آج سوئٹزر لینڈ کی حیثیت ایک اور طرح سے مسلم ہے لیکن تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ سوئٹزرلینڈ نے بھی ”نہ نہ“ کرتے ہوئے مغربی بلاک کی طرف داری میں ایک خاموش اور بے آواز کردار ادا کیا تھا!
پاکستان آج ایک دو راہے پہ کھڑا ہے۔ اس کے مسائل بے حد و حساب ہیں جن کو ہم صبح و شام میڈیا پر دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔ لیکن میرے نقطہ نظر سے پاکستان کے بے شمار مسائل کی والدۂ ماجدہ اس کی ناقابلِ کنٹرول آبادی ہے۔ اس کی طرف کوئی دھیان نہیں دے رہا۔ گزشتہ سات عشروں میں حکومتیں آتی جاتی رہیں، وقفے وقفے سے سب نے ”بآواز بلند“ اس عفریت کے پاؤں میں بیڑیاں ڈالنے کی کوششیں کیں لیکن یہ ایک ایسا آسیب ہے جو ہمارے قابو میں ہونے کے باوجود بے قابو ہے۔ اس کو نہ تو کسی کولڈ وار کی پرواہ ہے اور نہ کسی بلاک پالیٹکس میں شمولیت کا خوف ہے۔ کارکنانِ قضا و قدر بھی بے بس ہیں کہ پاکستان کی مین سٹریم آبادی کی دعاؤں کا خیال کریں یا بہبود آبادی کے محکمے کی ان دواؤں کا کہ جن کو کوئی پوچھتا نہیں۔ کاش کوئی مولوی صاحب کسی خطبہء جمعہ میں اِس سلگتی چنگاری کا احساس بھی نمازیوں کو دلائیں کہ جو ایک طویل عرصے سے سلگ سلگ کر پاکستان کے لکڑیوں کے پورے ’ٹال‘ کو ختم کر رہی ہے۔ اب یہ ’ٹال‘ اس قدر نڈھال اور بے حال ہو چکا ہے کہ خدا ہی اس وبال کو ٹالے تو ٹالے، ہم پاکستانی اس جنجال کو گلے میں ڈال کر دھمال ڈال رہے ہیں …… تفنن برطرف! خدارا عمران خان اس طرف بھی توجہ دیں اور ریاست مدینہ ہی کا کوئی ایسا حوالہ قوم کو دیں کہ جس سے پاکستان کی آبادی کنٹرول میں آ سکے۔صحت کارڈ اور احساس کارڈ اور نجانے کیا کیا کارڈ آئے روز دکھائے اور سنوائے جاتے ہیں کاش کسی روز ”آبادی کارڈ“ بھی کہیں نظر آئے! …… میری درخواست ہے کہ انسٹی ٹیوٹ آف سٹرٹیجک سٹڈیز میں ایک سمینار ایسا بھی منعقد کروائیں جس میں دنیا بھر کے ماہرینِ انسدادِ کثرتِ آبادی کو بلوائیں اور اپنے ”غریب مزدوروں، کسانوں اور دستکاروں“ کو اُن سے ملوائیں۔ اور ان کو سمجھائیں کہ آبادی اور اقتصادیات میں ایک صحت مند تناسب کس طرح پیدا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اپنی بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کا جو چیلنج آج درپیش ہے اس کا مداوا اگر آج ہی نہ کیا گیا تو آنے والا کل ہماری پاکستانی قوم کے لئے آفتِ جاں بن جائے گا۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments