Sunday, August 14, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمپرویز ملک کی وفات، ضمنی انتخاب سے لاہور زبردست سیاسی سرگرمیوں کا...

پرویز ملک کی وفات، ضمنی انتخاب سے لاہور زبردست سیاسی سرگرمیوں کا شہر بن گیا!

اللہ پرویز ملک مرحوم کی مغفرت فرمائیں، ان کے درجات بلند ہوں، ان کی وفات کے بعد خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشست پر ضمنی انتخاب نے ہمارے شہر لاہور کی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی۔ اس ضمنی انتخاب میں نشست تو مرحوم کی اہلیہ کے پاس رہی اور مسلم لیگ (ن) کو اس حوالے سے کوئی فرق نہ پڑا، لیکن پیپلزپارٹی کے لئے یہ تریاق ثابت ہوئی اور پانچ ہزار ووٹوں سے ایک دم 32ہزار سے زائد ووٹوں کے باعث تو آصف علی زرداری کو بھی اپنی علالت بھول کر کارکنوں میں آنا پڑا اور انہوں نے جشن منایا گو ان کے بعض ریمارکس سے مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بدمزگی ہو گئی۔ حالانکہ ہر دو جماعتیں قومی سطح پر اپوزیشن میں ہوتے ہوئے تعاون کرتی ہیں، حتیٰ کہ بلاول بھٹو نے تو محمد شہبازشریف کو لیڈ ربھی مان لیا تھا، تاہم حلقہ این اے 133میں ووٹوں کی بڑی چھلانگ نے سابقہ تعاون پر بھی غور نہ کیا، اب صورت حال یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) سندھ میں بلدیاتی قانون کے خلاف اپوزیشن کا حصہ بن گئی۔ وہ نہ صرف ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے ساتھ بیٹھی، بلکہ تحریک انصاف کی بلائی کانفرنس میں چلی گئی کہ دشمن کا دشمن اپنا دوست ہوتا ہے، بہرحال پیپلزپارٹی کو اس ضمنی انتخاب میں پذیرائی ملی تو آصف علی زرداری کی حکمت عملی کی تعریف شروع ہو گئی
اور انہوں نے بھی سب کچھ بھول کر لاہور میں ڈیرہ جمایا اور پھر جشن منایا، شاید یہ جماعت کسی حوالے سے کسی عمل کا کوئی حصہ پورا کرنے کا یقین دلانے میں کامیاب رہی ہے اور اب دعویٰ ہے کہ اگلی حکومت بنائیں گے۔ اس ضمنی انتخاب سے قبل بھی ایسی باتیں سنی جا رہی تھیں کہ مفاہمت کے بادشاہ یا سیاسی حکمت عملی کے ماہر سابق صدر آصف علی زرداری کچھ کریں گے۔آصف علی زرداری نے اپنا کام کر دکھایا، اس عرصے میں بلاول بھٹو خود دبئی میں آرام کر رہے تھے۔ اب وہ لاہور آئے اور گزشتہ سے پیوستہ روز ان کی موجودگی میں بہت سے اہم حضرات نے پیپلزپارٹی میں شرکت کی۔ ان سب کا تعلق مختلف جماعتوں سے تھا۔ بلاول بھٹو نے ان کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا کہ پنجاب میں پھر سے ہر اس گھر پر پیپلزپارٹی کا پرچم لہرائے جس پر بھٹو کے دور میں لہرایا گیا تھا، اس سلسلے میں بہت حضرات متحرک تھے۔ حلقہ 133 کے لئے جو بارہ کوآرڈی نیٹنگ کمیٹیاں بنائی گئی تھیں۔ ان ارکان کو بھی تعریف سے نوازا گیا۔ جہانگیر بدر (مرحوم) کے صاحبزادے ذوالفقار علی بدر بھی متحرک نظر آئے۔ یہ سب اپنی جگہ لیکن پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اس ضمنی انتخاب کے دوران یا اس کی وجہ سے جو ”کلام“ ہوا، اس سے اپوزیشن کی قومی سیاست کو نقصان ہوگا کہ جب بلاول بھی پنجاب فتح کرنے کی بات کرتے ہیں تو ان کا مقصد بھی مسلم لیگ (ن) سے اپنا چھینا گیا اقتدار واپس لینا مقصد ہوتا ہے۔
یہاں سیاسی عمل میں تیزی یوں بھی ہے کہ حکومت پنجاب نے بلدیاتی انتخابات کے لئے قانون سازی کے کچھ لمبے عمل سے بچنے کی غرض سیآرڈیننس کا سہارا لیا اور گورنر نے حکومت کی طرف سے بھجوائے گئے آرڈیننس پر دستخط بھی کر دیئے،حکومت مارچ میں انتخابات کرانا چاہتی ہے۔ اس کے لئے یہ قانون سازی کی گئی ہے۔ پنجاب میں سپریم کورٹ کے حکم سے بحال بلدیاتی اداروں کی مدت 31دسمبر کو ختم ہو جائے گی۔ ابھی سے انتخابی ماحول بننا شروع ہو گیا۔ آصف علی زرداری نے کہا تھا،بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے اور پنجاب میں پھر سے واپسی ہوگی اور اب بلاول بھٹو اس جدوجہد کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ دوسری طرف اب حکمران جماعت تحریک انصاف بھی سرگرم عمل ہے اور آئندہ بلدیاتی انتخابات باقاعدہ معرکہ بن جائیں گے کہ نچلی سطح پر جماعتوں کی مقبولیت کا اندازہ ہوگا۔ تحریک انصاف کے علاوہ مسلم لیگ (ق) بھی اپنا حصہ وصول کرنے کی فکر میں ہے اور وہ تحریک انصاف ہی سے ایڈجسٹمنٹ کرے گی کہ ابھی وہ وقت نہیں آیا، جب یہ بھی شاہین بن کر پرواز کرے، تاہم ابھی تک تو اس جماعت نے فائدہ ہی اٹھایا، حتیٰ کہ تحفظات کا اظہار کرکے بلدیاتی آرڈیننس میں اپنی پسند کی ترامیم بھی کرائیں اور اب گجرات باقاعدہ میٹرو پولیٹین شہر بن گیا۔ یہ انتخابات اب ان جماعتوں کے لئے ایک بڑا اثاثہ ثابت ہوں گے۔
سیاست رہی اپنی جگہ، یہاں شہری مہنگائی کا رونا روتے روتے ”سموگ“ کی پریشانی ہی سے نجات نہیں پا سکے۔ ہر روز یہی خبر ہوتی ہے کہ لاہور دنیا بھر میں آلودگی میں اول آ گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ صوبائی وزیر ماحولیات اسے مانتے ہی نہیں اور اسے دشمنوں کا پروپیگنڈہ قرار دیتے ہیں، انہوں نے کہہ دیا کہ یہاں سموگ ہے ہی نہیں، اگر محکمہ کے انچارج وزیر صاحب یہ کہیں گے تو انسداد کون کرے گا۔ گلے، آنکھ اور معدے کے امراض ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، حالانکہ کورونا کی شرح میں بہت کمی آئی اور اب لاہور والے کسی احتیاطی تدبیر کو بھی خاطر میں نہیں لاتے، ادھر کورونا کے ساتھ ڈینگی کا شور ہوا، ایک دم بحرانی کیفیت بنی، کئی الزام لگے اور بڑے دعوے کئے گئے اس کے باوجود یہ سلسلہ پھیلتا گیا، تاہم اب اس کی شدت بھی کم ہو گئی ہے کہ رات کے درجہ حرارت میں زیادہ کمی کی وجہ سے مچھر از خود مر گئے اور جو باقی بچے وہ بارش کے بعد سردی اور بڑھے گی تو مر جائیں گے۔ اس لئے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت کیا ہے۔
ملک کے بڑے شہروں میں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور دوسری سواریوں کی بڑھتی تعداد نے مسائل پیدا کئے تو لاہور بھی بُری طرح متاثر ہے۔ یہاں دن کے کم از کم 8سے 10گھنٹے مختلف مقامات پر ٹریفک بند رہتی اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔ ٹریفک پولیس ٹریفک وارڈنز روانی کو برقرار رکھنے کی بجائے مشکل وقت میں غائب ہوجاتے ہیں یا پھر زیادہ معروف چوکوں کے اردگرد گاڑیوں کی میلوں لمبی قطاریں لگوا کر خوش ہوتے ہیں۔ ایسے کئی سگنل والے چوراہوں کے سگنل بند کرکے ٹریفک وارڈن خود ٹریفک گزارتے ہیں، ان کی طرف سے شہریوں کو سہولت دینا مقصود ہے، لیکن یہ زحمت بن جاتی ہے کہ اہل کار خود ٹریفک گزارتے اور کوشش سے ایک طرف کی ٹریفک کو زیادہ وقت دے کر دوسری طرف آتے ہیں تو وہاں قطار اتنی لمبی بن چکی ہوتی ہے کہ اس کو گزارنے کے لئے دوگنا وقت ضروری ہے۔ حالانکہ ان سب کو سمجھایا جا سکتا ہے کہ ٹریفک پولیس بے بس ہو چکی ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments