Sunday, August 14, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeانٹرنیشنلامریکا کے مسترد شدہ ڈیزائن پر چین کا ہائپرسونک لڑاکا طیارہ

امریکا کے مسترد شدہ ڈیزائن پر چین کا ہائپرسونک لڑاکا طیارہ

بیجنگ(این اے نیوز رپورٹ )چین کے جدید ترین ہائپرسونک لڑاکا طیارے کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس کا ڈیزائن 20 سال پہلے امریکی ادارے ’ناسا‘ نے مسترد کردیا تھا لیکن اب چین اسی ڈیزائن پر بہت تیزی سے کام کر رہا ہے۔ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، یہ ڈیزائن 1990 کے عشرے میں ’ناسا‘ سے وابستہ چینی نژاد چیف انجینئر منگ ہانگ تانگ نے بنایا تھا جسے امریکی حکام نے مسترد کردیا۔2000 میں امریکا اور چین میں تناؤ بڑھنے کے بعد منگ ہانگ تانگ سمیت درجنوں چینی ماہرین اپنے وطن واپس آگئے؛ اور تقریباً اسی زمانے میں چین نے بھی ہائپرسونک طیارے کے منصوبے پر کام کا آغاز کردیا۔واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو آواز سے پانچ گنا یا اس سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرسکے، اسے تکنیکی زبان میں ’ہائپرسونک‘ کہا جاتا ہے۔اس منصوبے پر اب تک کی پیش رفت یہ ہے کہ اس طیارے کے پروٹوٹائپ انجن کی آزمائشیں کامیابی سے مکمل کی جاچکی ہیں۔ البتہ یہ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔
یہ ’ناسا‘ کے متروک ’ایکس 47 سی‘ (X-47C) منصوبے کی بنیاد پر بنایا گیا ہے جس کے تحت پروفیسر تانگ نے دو مرحلوں والا طیارہ ڈیزائن کیا تھا: پہلے مرحلے میں اس کے انجن، عام جیٹ انجنوں کی طرح کام کرتے ہوئے اسے مناسب بلندی پر پہنچاتے؛ پھر تیز رفتاری سے آگے بڑھنے کےلیے یہ ’ہائپرسونک موڈ‘ میں چلے جاتے اور طیارے کی رفتار آواز سے پانچ گنا زیادہ ہوجاتی۔اس پر بوئنگ کارپوریشن میں ’مینٹا ایکس 47 سی‘ پروگرام کے عنوان سے ابتدائی کام ہوا تھا لیکن بعض تکنیکی اور مالیاتی وجوہ کی بناء پر ناسا نے یہ منصوبہ منسوخ کردیا۔اب تک چینی ہائپرسونک طیارے کے بارے میں اتنا ہی معلوم ہوا ہے کہ اس کے انجنوں کو جیانگسو، چین میں واقع ’نانجنگ یونیورسٹی آف ایئروناٹکس اینڈ ایسٹروناٹکس‘ کی جدید ہوائی سرنگ (وِنڈ ٹنل) میں کامیابی سے آزمایا جاچکا ہے۔یہ ہوائی سرنگ، طیاروں اور میزائلوں کے پروٹوٹائپس کو آواز سے 4 تا 8 گنا رفتار پر آزمانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments