Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeانٹرنیشنلپاکستان سے آنے والی کال پر اشرف غنی فرار ہونے پر آمادہ...

پاکستان سے آنے والی کال پر اشرف غنی فرار ہونے پر آمادہ ہوگئے، امریکی اخبار

نیویارک(این اے نیوز رپورٹ) امریکی میگزین نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی ایک کال اور ایک ٹیکسٹ میسیج پر ہی افغان صدر اشرف غنی اور مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب افغانستان سے فرار ہوگئے تھے۔ ڈان ڈاٹ کام کے مطابق نیویارکر میگزین نے پیر کو ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستانی موبائل نمبر سے آنے والے ایک ٹیکسٹ پیغام اور کال نے افغان قومی سلامتی کے مشیر حمد اللہ محب کو سابق صدر اشرف غنی اور ان کے خاندان کے ساتھ افغانستان چھوڑنے پر آمادہ کیا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ کال 15 اگست کو ایک بجے کے قریب اس وقت آئی جب طالبان کابل میں داخل ہوچکے تھے اور اہم علاقوں کا کنٹرول بھی حاصل کرچکے تھے۔رپورٹ کے مطابق خلیل حقانی نے مشیر قومی سلامتی حمد اللہ محب سے بات کرتے ہوئے نہ صرف ہتھیار ڈالنے کو کہا بلکہ اقتدار سے دستبردار ہونے کا بیان جاری کرنے کو کہا اور ایسا کرنے پر ملاقات کی پیشکش بھی کی۔ تاہم حمد اللہ محب نے ہتھیار ڈالنے اور بیان جاری کرنے کے بجائے پہلے فون پر معاملات طے کرنے کو ترجیح دی تاہم خلیل حقانی نے کال کاٹ دی جس پر افغان مشیر قومی سلامتی نے زلمے خلیل زاد کے نائب ٹام ویسٹ کو کال کی۔زلمے خلیل زاد کے نائب نے محب اللہ کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی میٹنگ کے لیے نہ جائیں کیوں کہ ملاقات کے بہانے آپ کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے جس کے بعد حمد اللہ محب اور صدر اشرف غنی نے متحدہ عرب امارات کے ایک سفارت کار کے ساتھ صدارتی دفتر میں فرار کا منصوبہ بنایا۔امریکی میگزین کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ جب اشرف غنی اور حمد اللہ محب متحدہ عرب امارات کے سفارت کار سے ملک سے فرار ہونے کے منصوبہ طے کر رہے تھے اُس وقت صدارتی محل کے باہر سے گولیوں کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔اسی دوران متحدہ عرب امارات کے رابطہ کاروں نے ایمریٹس ائیرلائن کی پرواز میں نشستیں پیش کیں جو سہ پہر چار بجے کابل سے روانہ ہونے والی تھی۔اس موقع پر اشرف غنی نے مشیر قومی سلامتی کو ہدایت کی کہ وہ حفاظتی دستے کے ہمراہ خاتون اوّل کو دبئی لے جائیں اور پھر وہاں سے دوحہ میں مذاکراتی ٹیم میں شامل ہو کر زلمے خلیل زاد اور طالبان رہنما ملا برادر کے ساتھ کابل کے حوالے کرنے کے بارے میں بات چیت کو حتمی شکل دیں۔امریکی میگزین کے مطابق اس گفتگو کے بعد حمد اللہ محب واپس کسی کام کے لیے چلے گئے اور دو بجے اشرف غنی کی رہائش گاہ پر واپس آئے اور خاتون اوّل رولا غنی کو حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ للے جانے کے لیے دلکشا پیلس کے عقب میں ہیلی پیڈ پر لے کر گئے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments