Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمآصف زرداری وزیر اعظم ہو سکتے ہیں؟

آصف زرداری وزیر اعظم ہو سکتے ہیں؟

انٹرمیڈیٹ میں اختیاری مضمون کے طور پر تاریخِ پاک و ہند کے وہ اسباق ابھی نہیں بھولے جن میں ایشوری پرشاد، جادو ناتھ سرکار، وی۔اے۔ سمتھ اور لین پُول کی کتابوں کے ا قتباس بار بار پڑھنے کو ملتے۔ جی سی(یو) لاہور کی تاریخ میں جس کی تحقیق و تدوین انگریزی ادب کے نامور استاد پروفیسر کے۔ایم۔ صدیقی نے کی، حوالہ جات کے اِسی رکھ رکھاؤ سے کام لیا گیا ہے۔ پھر بھی یہ طے ہے کہ تاریخ نگاری اپنے متن، مجموعی طرزِ فکر اور اسلوب کے لحاظ سے اگر مخصوص مہارتوں کا مطالبہ کرتی ہے تو سچائی کا دامن پکڑے ہوئے صحافت کو خواندنی تحریر کے دائرے سے باہر نہ نکلنے دینا بجائے خود ایک اَور طرح کی فنکاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں جی سی(یو) کے مورخ نے ذاتی پسند یا ناپسند کو اپنی معروضی سوچ پہ اثر انداز نہیں ہونے دیا، وہیں آپ کا کالم نگار تاریخی واقعات کے کسی ایسے پہلو کو تشنہء اظہار چھوڑ دینے کے حق میں نہیں، جس سے قارئین پر رُعب ڈالنے کا موقع اُس کے ہاتھ سے نکل جائے۔

آرمی چیف سے امریکی سینیٹرز کی ملاقات، افغانستان سمیت دیگر امور پر گفتگو
احتیاط کے باوجود پچھلی قسط میں عوامی پرنسپل، ڈاکٹر نذیر احمد کی کہانی سناتے ہوئے خفیف سی چُوک پھر بھی ہو گئی اور ڈاکٹر صاحب کے بعد از ریٹائر منٹ تخلیقی کارناموں کا ذکر نہ ہو سکا۔ جیسے سید بابر علی کے ایما پر بابا فرید شکر گنج، شاہ حسین، سلطان باہو اور بابا بُلھے شاہ کے منتخبہ کلام کی ترتیب و ادارت،اِس کے علاوہ حضرت امام حسین کی شان میں اُن کا منظوم ہدیہء عقیدت جس کا کوئی چرچا نہیں۔ یہ الگ بات کہ مَیں اپنے ممدوح کے۔ایم۔ صدیقی کے برعکس یہاں دستاویزی شہادتوں کی بجائے ڈاکٹر صاحب کے حق میں ایک ایسی ہستی کی شخصی ضمانت پیش کروں گا جو اب دنیا میں نہیں۔ مراد ہیں کالم نگار کے ماموں اور ایک وقت میں دربار داتا صاحب کے مقبول نعت خواں حاجی محمد سعید اور ہم نوا، جن سے ڈاکٹر صاحب کے یہ اشعار لحن سے سُنے:

ڈاکٹر نذیر احمد کے جانشین پر جی سی (یو) کی زیر ِنظر تاریخ کا تعارفی بیانیہ اِن نپے تُلے الفاظ میں ہے کہ اکنامکس کے صدرِ شعبہ پروفیسر محمد رشید گورنمنٹ کالج کے سابق طالب علم نہ ہوتے ہوئے بھی اِس ادارے کی روایات و اقدار سے بخوبی آشنا تھے۔ اِسی سبب اُنہیں کالج میں نظم و ضبط کا وہ کڑا معیار بحال کرنے کی کوششوں میں مدد ملی جسے اُن کے پیش رو ’عوامی‘ پرنسپل کے دَور میں ضعف پہنچا۔ اِس ضمن میں کالج کے چیف پراکٹر کے طور پر اُن کا طویل تجربہ بھی کام آیا۔ مورخ کے۔ ایم۔ صدیقی نے اِس ضمن میں پروفیسر رشید کے پرنسپل بننے پر جی سی کے مجلہ ’راوی‘ کا ایک کارٹون یاد دلایا ہے۔ منظر ہے ایک سرو قد درخت کا، جس کے بالکل ساتھ ہے ایک جھُکا ہوا پیڑ۔ اوپر نیم انگریزی میں ایک عبارت درج ہے جس کا آزاد ترجمہ ہوگا: ”اوئے سِدھا کھلو جا، تکدا نئیں پروفیسر رشید پیا آؤندا اے۔“

احیہ انداز میں سہی، لیکن نظم و ضبط بحال کرنے کی کوششوں کے بارے میں یہ بہرحال ایک تاریخی حقیقت کا اظہار ہے۔ پھر بھی آپ کے کالم نویس کو ہر کتاب میں اپنی مرضی کا کوئی نہ کوئی نکتہ ابھارنے کی ترغیب مِل ہی جاتی ہے۔ یوں شروع ہوتی ہیں اُس کی وہی صحافیانہ فنکاریاں جیسے شاہی قصیدوں کی شاعری کے بارے میں کہا کرتے تھے کہ سب سے پہلے تمہید یا تشبیب، تشبیب کے بعد گریز، پھر مدح اور آخر میں اظہارِ مدعا۔ ہمارے مورخ نے پروفیسر رشید کی قلمی تصویر بناتے ہوئے آج کا ڈیجٹل کیمرا نہیں برتا بلکہ مصور کے موقلم سے کام لیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”خوبرو اور خوش لباس، پروفیسررشید جاذبِ نظر شخصیت کے مالک تھے اور اِس جاذبیت سے آگاہ بھی۔ کبھی کبھار پروفیسر صاحب کے شاگرد کلاس میں اُن کی زبان سے اپنی بیگم کے بارے میں یہ سُن کر محظوط ہوتے کہ موصوفہ کے نین نقش مجھ سے کم دلکش ہیں۔“

خواتین پر نوٹ نچھاور کرنے پر جھگڑا، شادی والے گھر کو آگ لگادی گئی
آنے والے دنوں میں کچھ تو ایساہو سکتا ہے ہیں جوپاکستان پیپلز پارٹی کو زیروسے ہیرو بنادے گاکیونکہ دسمبر 2020ء میں اگر پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کو عین استعفوں کا آپشن استعمال کرنے سے قبل بیچ منجدھار چھوڑ کر حکومت کے لئے ایک بہت بڑا ریلیف یقینی بنایا تھا تو دسمبر 2021میں پیپلز پارٹی پی ڈی ایم کے سامنے آن کھڑی ہوئی ہے جبکہ این اے 133کے ضمنی انتخاب میں سبھی نواز شریف مخالف قوتیں پیپلز پارٹی کے پیچھے جم کر کھڑی نظر آئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا اسٹیبلشمنٹ بھی نواز لیگ کے خلاف کھڑی ہوگئی ہے؟ کیا امریکہ، سعودی عرب اور چین بھی ایسا ہی کریں گے؟ ان سوالوں کا جواب آنے والے دنوں میں مل سکے گا!

آرمی چیف سے امریکی سینیٹرز کی ملاقات، افغانستان سمیت دیگر امور پر گفتگو
گزشتہ برس پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر حکومتی اتحاد میں سے باپ کے ووٹوں نے یوسف رضا گیلانی کونہ صرف سینٹ انتخابات میں جیت دلوائی تھی بلکہ بعد میں پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر دی گئی کمٹمنٹ سے روگردانی کرکے یوسف رضا گیلانی کوسینٹ میں اپوزیشن لیڈر بنوانے کیلئے بھی وہی ترپ کاپتہ استعمال کیا تھا اور پی ڈی ایم کو اس محاذ پر بھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد سے پی ڈی ایم کے غبارے سے یکسر ہوا نکل چکی ہے اور مولانا فضل الرحمٰن کے فدائین دوبارہ پہلے جیسا رنگ نہیں جما سکے ہیں۔
جناب آصف زرداری نے اس سے قبل 2008میں یہ کہہ کر شہرت پائی تھی کہ وعدے قرآن اور حدیٹ نہیں ہوتے ہیں اور نواز شریف سے کیے گئے وعدے کے برعکس سابق چیف جسٹس افتخار چودھری کو ساتھی ججوں سمیت بحال کرنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد مشہور زمانہ لانگ مارچ ہوا تھا جو ابھی گوجرانوالہ تک ہی پہنچا تھا کہ سب کچھ وعدے کے مطابق انجام پاگیاتھا۔اس مرتبہ بھی زرداری صاحب نے جیالوں کوگرم کرنے کے لئے نواز شریف کے خلاف غداری اور ملک کی مٹی میں مرنے سے کترانے ایسے الزام لگادیئے جس سے ان کے جیالوں کی باچھیں تو کھل گئیں مگر پھر طلال چودھری کے بانکے پن نے رنگ میں بھنگ ڈال دیا اورپیپلز پارٹی اپنے زخم چاٹ رہی ہے۔

کراچی یونیورسٹی نے انٹری ٹیسٹ کی تاریخ کا اعلان کردیا
جناب آصف زرداری نے 2008میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے باوجودالیکشن میں جانے کا فیصلہ کیاتھا اور وفاق میں حکومت بنانے میں کامیاب رہے تھے مگر پھراس کے بعد اگلے پانچ سال میں ان کی کارکردگی پی ٹی آئی سے بھی بودی ثابت ہوئی تھی اور 2013 تک پیپلزپارٹی غیر مقبولیت کے قعر مذلت میں گر چکی تھی لیکن اب پی ٹی آئی نے کورونا کی آڑ میں جس نااہلی کا مظاہر ہ کیا ہے اس نے دوبارہ سے پیپلز پارٹی کے گھوڑے میں جان ڈال دی ہے اور نواز شریف مخالف قوتیں اب اس کی پشت بانی کے لئے تیار ہیں۔ خود عمرا ن خان نے گرین لائن بس پراجیکٹ کا افتتاح کرتے ہوئے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کا عندیہ دیاہے۔ اس سے قبل این اے 133میں اپنے امیدوار اور ان کے کورنگ امیدوار کو انتہائی کھلے طریقے سے الیکشن کے لئے نااہل کرواکر پیپلز پارٹی کے لئے ووٹ لینے کی راہ ہموار کی تھی۔ چنانچہ اب جب کہ قوم 2022میں داخل ہونے کوتیار ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ایک مرتبہ پھر پی ٹی آئی سے ناامید دلوں کی امید بن کر سامنے آگئی ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں عوام بھول گئے کہ پیپلزپارٹی نے کس طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے کاروبار زندگی معطل کرکے رکھ دیا تھا۔ اس دوران اگر کوئی شے اس کے کریڈٹ پرتھی تو اٹھارویں ترمیم کا پاس ہونا تھا مگر اب کھلے بندوں یہ بات ہوتی ہے کہ اٹھارویں ترمیم کے تحت وفاق سے ملنے والے پیسوں کو جناب زرداری صاحب ملک بھر میں انتخابات کی سرکس پر بے دریغ خرچ کر رہے ہیں جس کا مظاہرہ این اے 133میں بھی دیکھنے کو ملا تھا۔

خواتین پر نوٹ نچھاور کرنے پر جھگڑا، شادی والے گھر کو آگ لگادی گئی
جناب زرداری اور بلاول بھٹو کی باتیں سنیں تو لگتا ہے کہ وہ ایک نئے سلیکٹڈ کے طور پر سامنے آنے کو پوری طرح تیار ہیں۔ سوال یہ ہے کہ مہنگائی، بے روزگاری، روپے کی بے قدری، بجلی اور گیس کے بھاری بلوں اور ٹیکسوں کی بھرمار سے تنگ عوام پیپلز پارٹی پر اعتبار کرنے کو تیارہوں گے؟بظاہر اس کا جواب نفی میں ملتا ہے، خاص طور پر پنجاب کے عوام تو دوبارہ اس سوراخ سے ڈسے جانے کو تیار نہیں ہوں گے۔ سندھ، بلوچستان اور کے پی کی بات الگ ہے!

پی ڈی ایم اگرچہ مارچ میں ایک فیصلہ کن لانگ مارچ کا اعلان کرچکی ہے لیکن اس سے قبل اعلیٰ عدلیہ سے کوئی ایسا فیصلہ آگیا جس سے پی ٹی آئی حکومت اپنی قدروقیمت کھوبیٹھی تو سیاسی منظر نامہ ایک دم سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب عوام جیبوں میں پتھر ڈالے پھر رہے ہیں اوراپنے اپنے حلقوں میں پی ٹی آئی کے ایم این ایز اور ایم پی ایز کے منتظر ہیں،لانگ مارچ سے قبل اگر ان ہاؤس تبدیلی آجائے اور پی ٹی آئی مائنس عمران خان پیپلزپارٹی سے تعاون کے لئے تیار ہو جائے تو جناب زرداری اگلے دو سالوں کے ملک کے وزیر اعظم بن سکتے ہیں۔ شوکت ترین کو سینٹ میں منتخب کروانے کے عمل کو اسی تناظر میں دیکھا جا سکتاہے کہ وہ ا س سے قبل پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔ اگر عدلیہ سے کوئی بڑا فیصلہ آگیاتو نہ صرف تبدیلی کا نعرہ ٹھس ہو جائے گا بلکہ ثاقب نثاراور ان کی ڈوریں ہلانے والوں میں سے کئی ایک چہرے افشاہوجائیں گے اورملک میں ایسی افراتفری کاسماں پیدا ہوسکتاہے کہ ان ہاؤس چینج سب سے بہتر آپشن نظر آئے گا۔
قومی اسمبلی میں سیٹوں کی پوزیشن کچھ یوں ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس 156نشستیں ہیں، پیپلزپارٹی کے پاس 56 ہیں، اور لگ بھگ21نشستیں ایم کیوایم، پی ایم ایل کیو، باپ، جی ڈی اے، عوامی مسلم لیگ اور آزاد امیدواروں کو ملا کر ہو جاتی ہیں۔ ایک عمران خان کے ہٹ جانے سے آصف زرداری اس ارینجمنٹ کے ساتھ وزارت عظمیٰ کے سنگھاسن پر بیٹھ سکتے ہیں بشرطیکہ کی کاتب تقدیر کو کچھ اور منظور نہیں ہے تو!

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments