Tuesday, January 18, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالممعاشی غلامی اور طبقہ اشرافیہ

معاشی غلامی اور طبقہ اشرافیہ

فرد ہو یا قوم، سب سے بڑی مجبوری، سب سے بڑی غلامی، معاشی غلامی ہوتی ہے۔ ہمیں مان لینا چاہئے دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام نے نہ صرف چھوٹے بلکہ بڑے ممالک کی آزادی کو بھی غلام بنا رکھا ہے۔ ہماری تو 74 سالہ تاریخ گواہ ہے ہمیں ایک دن کے لئے بھی سرمایہ داری کے عالمی نظام سے آزادی نہیں ملی، جس طرح بنیا سود پر قرض لینے والوں کو تلاش کرتا پھرتا ہے اسی طرح یہ عالمی سرمایہ دار بھی کمزور معیشت والے ممالک کی تلاش میں رہتے ہیں۔ انہیں قرضوں کے جال میں ایسا پھنساتے ہیں کہ اس کے پاس قرض لوٹانے کے لئے بھی رقم نہیں ہوتی، پہلے اس کی شرائط پر قرضہ دیتے ہیں جب وہ پھنس جاتا ہے تو اپنی کڑی شرائط لاگو کر دیتے ہیں۔ آئی ایم ایف اس سرمایہ دارانہ عالمی نظام کا سب سے بڑا ”بدمعاش“ ہے، یہ یہود و نصاریٰ کے اشارے پر چلتا ہے اور جہاں کہیں امریکی مفادات کو زد پڑتی ہے اس کا گلا دبا کر اس کی ڈکٹیشن لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ پاکستان ان بدقسمت ممالک میں سے ایک ہے جو اس عالمی استعمار کے نمائندہ مالیاتی ادارے کے دروازے پر بار بار جاتا رہا ہے مگر اس حکومت نے آکر ابتداء میں یہ نعرہ لگایا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گی۔ اس کی اس غلطی نے آئی ایم ایف کو پھنکارتے سانپ کی طرح خوفناک بنا دیا اور ہم تیرہویں مرتبہ اس کے دروازے پر مجبور ہو کر گئے تو ہماری حالت اس ہارے ہوئے انسان جیسی تھی جو ہر طرف سے مایوب ہو کر ہر قیمت پر مدد کا طلبگار ہوتا ہے۔ حالت یہ ہو چکی ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ حتیٰ کہ منی بجٹ بھی اس کے حکم پر نافذ کیا جا رہا ہے جس میں 360 ارب روپے کے ٹیکس اور تمام سبسڈیز کا خاتمہ آئی ایم ایف کی شرائط میں ہے۔ایک زمانہ تھا کہ آئی ایم ایف معاہدہ کرتے ہوئے صرف شرح سود طے کرتا تھا ہماری معاشی بد اعمالیوں نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ وہ اب یہ بھی بتاتا ہے قرضہ کہاں خرچ کرنا ہے۔ عوام کا لہو کیسے نچوڑنا ہے، معیشت کا کیسے بیڑہ غرق کرنا ہے اور کسے فائدہ پہنچانا ہے، کسے نقصان سے دو چار کرنا ہے۔ ہر حکومت نے انتخابات سے پہلے یہ بڑھک ضرور ماری کہ وہ کشکول توڑ دے گی، آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کے پاس نہیں جائے گی، پیٹ پر پتھر باندھنے اور گھاس تک کھانے کی دقیانوسی باتیں بھی کی گئیں مگر صاحب پاکستان نے جتنا قرضہ لے رکھا ہے اور اس پر جتنا بھاری سود اسے ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے تو نہیں لگتا وہ قرضوں کی اس دلدل سے سو سال تک بھی نکل سکے گا۔ یہ معاشی غلامی جو بدترین غلامی ہے ہمارا مقدر بنی ہوئی ہے۔ بنگلہ دیش نے اپنی معیشت کو بہتر کیا ہے، بھارت ہم سے آگے جا رہا ہے، خطے کے دیگر ممالک ترقی کر رہے ہیں، مگر ہم ہیں کہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہیں، دو قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ جس ملک نے ہر سال اربوں ڈالر نہ صرف قرضوں اور ان کے سود کی مدد میں واپس کرنے ہوں۔ وہ ملک کیسے اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکتا ہے۔ اسے تو قرض واپس کرنے کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ یوں یہ شیطانی چکر مزید بڑھ جاتا ہے۔ شاباش ہے ہماری حکومتوں اور حال و ماضی کے حکمرانوں پر، قرض کی پیتے رہے، پی رہے ہیں، یہ نہیں سوچتے۔ جنجال پورہ کیسے ختم ہوگا۔ جس طرح نواز حکومت بھاری قرضوں کابوجھ چھوڑ گئی، اسی طرح یہ حکومت بھی چھوڑ جائے گی۔ قرضے لے کر ایسے اڑائے جاتے رہے جیسے مال غنیمت اڑایا جاتا ہے۔ کوئی بتائے کوئی سمجھائے 35 ہزار ارب روپے کا قرضہ آخر کہاں گیا۔ اس کا کبھی کوئی جواب نہیں ملا، بس یہ ضرور کہا جاتا رہا کہ جانے والے حکمران لوٹ کر کھا گئے۔وزیر اعظم عمران خان بھی اپنی تمامتر باتوں کے باوجود ایک روائیتی حکمران ثابت ہوئے۔ اقتدار سے باہر تھے تو کیسے کیسے دعوے کرتے تھے، قرض کو ایک ذلت قرار دیتے اور اس کی وجہ سے اپنی آزادی کو گروی رکھنے کے عذاب سے نجات دلانے کی نوید سناتے، تاہم جب اقتدار کی کشتی میں بیٹھ کر دریا میں اترے تو احساس ہوا کہ چپو ہے اور نہ ملاح، یہ تو سب کچھ عالمی استعمار کے پاس ہے، جس کے آگے دست سوال دراز کئے بنا یہ کشتی آگے چل ہی نہیں سکتی۔ آج ہم سب تنقید کر رہے ہیں حکومت آئی ایم ایف کے پاس کیوں گئی، بجلی، گیس پٹرول کیوں مہنگے کر رہی ہے۔ عوام پر ٹیکس کیوں لگا رہی ہے، جواب ایک ہی ہے کہ ایسا نہ کرتی تو ملک دیوالیہ ہو جاتا، آئی ایم ایف کے کھلے جبڑے ہمیں نگل جاتے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ماضی کی حکومتیں آئی ایم ایف سے اچھی ڈیل کرتی رہیں۔ قرض بھی لیتی رہیں اور رعائتیں بھی مانگتی رہیں۔ موجودہ حکومت کو قرض بھی مشکل سے مل رہا ہے اور رعایت بھی نہیں دی جا رہی الٹا عوام کے کس بل نکالنے کی فرمائشیں کی جا رہی ہیں اور حکومت بے چون و چرا انہیں قبول کر رہی ہے۔ بس یہی اس کی سب سے بڑی ناکامی ہے اس کے معاشی مینجروں کی بے تدبیری ہے، جس نے آئی ایم ایف کو اب ہماری معیشت ہی نہیں قومی سلامتی کے بھی درپے کر دیا ہے۔ایسی معیشت کے ساتھ اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ہماری خارجہ پالیسی بھی آزاد ہو، عالمی سطح پر عزت بھی ہو، ہمیں کوئی دبانے کی کوشش بھی نہ کرے اور ہم امریکہ کے ڈومور کو بھی جھٹک دیں تو یہ دیوانے کے خواب ہی کہلائیں گے۔ موجودہ گلوبل ویلج میں ہر ملک دوسروں کا محتاج بن کر رہ گیا ہے۔ خاص طور پر وہ ممالک جو کمزور معیشت پر کھڑے ہیں۔ یہ امپورٹ اور ایکسپورٹ کا جال بھی کچھ کم سخت نہیں۔ اس کے لئے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ تمامتر کوششوں کے باوجود ڈالر کا توڑ نہیں ڈھونڈا جا سکا۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک امریکی ڈالر کو عالمی نظام قرار دیتے ہیں۔ ڈالر کی برتری کا مطلب ہے امریکی تسلط، یا تو ہماری معیشت اتنی مضبوط ہو جتنی چین کی ہے، اتنی برآمدات ہوں جتنی اس کی ہیں تو ڈالر ہمارے پاؤں کی زنجیر نہ بنے، لیکن ہماری درآمدات 2.5 ارب ڈالرز کی ہوتی ہیں تو برآمدات صرف 10 ارب ڈالر تک محدود رہتی ہیں، ایسے میں پندرہ ارب ڈالرز کے لئے ہمیں دستِ سوال دراز کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے قرضوں کی معیشت ہونے کے باوجود ہماری حکومتوں کے اخراجات کبھی کم نہیں ہوئے۔ ہماری کابینہ دنیا کی سب سے بڑی کابینہ ہوتی ہے۔ مراعات یافتہ طبقوں نے اپنے لئے ہر چیز مفت رکھی ہوئی ہے۔ اربوں روپے کا پٹرول اسی مفت سکیم میں ضائع ہو جاتا ہے۔ قربانی صرف عوام سے مانگی جاتی ہے۔ حالانکہ جب گھر مشکل میں ہو تو سب کو قربانی دینی چاہئے۔ مگر حکمران طبقہ کبھی ایسا نہیں کرتا۔ اس کے اللے تللے دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں یہ ایسی قوم کے افراد ہیں جو ناک تک قرضوں میں ڈوبی ہوئی ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments