Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمسماجی میل جول نہ چھوڑیں!

سماجی میل جول نہ چھوڑیں!

کیپٹن (ر) صفدر اور مریم نواز کے صاحبزادے جنید کی شادی کی تقریبات کو پھیلا دیا گیا ہے اور جاتی امراء میں راوئتی اور رسمی تقریبات جاری ہیں، جن کو شہرت بھی مل رہی ہے۔ جنید کی رسم نکاح لندن میں ادا ہوئی اور مریم نواز وہاں شریک نہ ہو سکیں، نہ ہی ان کے چچا محمد شہباز شریف اور حمزہ شہباز جا سکے۔ لندن میں موجود نانا محمد نوازشریف اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے حصہ لیا اور اب مریم نواز اپنی خوشی پوری کر رہی ہیں، جبکہ لندن والوں کی باری ویڈیو دیکھنے کی ہے، شریف خاندان سیاست میں ہے تو ان سے متعلق خبریں بننا بھی لازم ہے اور بعض ہوئی بھی ہوتی ہیں، خبروں کے حوالے سے مریم نواز نے تو اپیل کی کہ یہ ذاتی تقریب ہے اسے اسی حد تک رہنے دیا جائے لیکن یہ ممکن کیسے ہے؟ خود مریم نواز کے شوہر اور جنید کے والد کیپٹن صفدر نے یہ موقع فراہم کر دیا کہ خبر بنتی رہے، ابھی گزشتہ روز ہی انہوں نے مریم نواز کے تقریب میں گانا گنگنانے کے حوالے سے کہا ہمارا خوشی کا موقع ہے، اگر مریم نے ایسا کیا تو کیا ہوا۔ میں خود بھی گاؤں گا بلکہ الٹا سیدھا ناچوں گا بھی، بات یہاں تک رہتی تو ٹھیک ہی تھا، تاہم انہوں نے مزید بات کرکے آج کے میڈیا کو یہ موقع دے دیا کہ وہ خبروں کی تلاش جاری رکھیں۔ انہوں نے کہا آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو بھلے نہ آئیں، فکر کی بات نہیں، وہ ہمارے دل میں رہتے ہیں، محترم کیپٹن صفدر کی اس بات ہی سے اب میڈیا کو یہ کریدنا ہوگا کہ دعوت ولیمہ میں شرکت کے لئے کن سیاسی شخصیات کو مدعو کیا گیا اور کون کون شرکت کرے گا، یہ تقریب 15دسمبر کو ہونا ہے۔

میڈیکل کالج میں مبینہ خود کشی کرنے والی طالبہ نوشین شاہ کی کیمیکل رپورٹ آگئی
کیپٹن (ر) صفدر کی طرف سے آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو کے حوالے سے بات کرنے سے کئی دروا ہوئے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ کیا وہ مدعو کئے گئے؟ اور اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا انہوں نے شرکت سے معذرت کی ہے؟ ان سوالوں کا جواب اب لازم ہو گیا کہ میرے نزدیک مدعو کیا جانا بھی سماجی روایت اور ان کی شرکت جوابی مثبت روایت ہوگی۔ اس لئے اب ان سوالات کے جواب کے لئے منتظر رہنا ہوگا، بہرحال دلہا جنید کے والد محترم نے موقع دے دیا ہے کہ ان کی بات پر ردعمل بھی آئے۔

کیپٹن (ر) صفدر کی ایسی گفتگو اب موضوع سخن ہے کہ حال ہی میں لاہور کے حلقہ این اے 133میں جو ضمنی انتخاب ہوا، وہ ان دونوں جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان ہوا تھا اور اس حوالے سے انتخابی مہم اور انتخابی نتیجے کے حوالے سے بعض سوال جواب بھی ہوئے، بلکہ تلخی سی بھی در آئی۔ اگرچہ ایسی تلخی ہونا نہیں چاہیے تھی۔ بتایا یہ جا رہا ہے کہ انتخابی نتیجے کے بعد سابق صدر آصف علی زرداری نے جو ردعمل دیا، اس سے مسلم لیگ (ن) والوں کو کچھ ”محسوس“ ہوا اور انہوں نے جوابی گولہ باری کر دی۔ آصف علی زرداری نے اسلم گل کو 32ہزار سے زائد ووٹ ملنے پر جس خوشی کا اظہار کیا، اس کے ساتھ ہی انہوں نے پنجاب کے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں بھی بھرپور حصہ لینے کا اعلان کر دیا اور پنجاب میں اپنی حمایت کی پذیرائی کی نوید دے کر آئندہ حکومت بنانے کا بھی دعویٰ کر دیا تھا، اگرچہ ان کی طرف سے کوئی خاص تنقیدی بات تو نہ کی گئی، تاہم ان کا یہ کہنا ہی ”کافی“ ثابت ہوا کہ میاں صاحب (نوازشریف) نے حلقے قبیلوں اور برادریوں کی بنیاد پر چھوٹے بنائے، ہم آکر حلقے بڑے کریں گے۔ آصف علی زرداری کی یکایک خوشی کے ساتھ باہر آنے والی ”حرکات“ نے شاید مسلم لیگ (ن) کے عقابوں کو متحرک کر دیا اور محترم طلال نے تو اپنا روائتی انداز اختیار کرتے ہوئے
ناگفتنی کر دی اور اب خواجہ آصف نے دور کی کوڑی والا فلسفہ بیان کیا اور کہا، ہم جانتے ہیں کہ زرداری کیا چاہتے ہیں۔یوں میثاق جمہوریت، اس کے بعد اب پی ڈی ایم اور پارلیمنٹ میں مشترکہ حزب اختلاف کی صورت میں جو اختلاف اور اتحاد سامنے آیا، وہ پھر سے کچھ کچھ محاز آرائی کی طرف بڑھنے لگا ہے، میری تجویز تو یہی ہوگی کہ شریف فیملی نے اگر زرداری اور بلاول کو مدعو کیا ہے تو ان کو ضرور شرکت کرنا چاہیے۔ اور اگر وہ اب تک مدعو نہیں کئے گئے اور کیپٹن صفدر کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے تو وہ مڑ کر دیکھیں اور مدعو کریں بلکہ فون بھی کر لیں کہ بدقسمتی سے ہمارے سیاسی ماحول میں ایسے لمحات آ گئے کہ سماجی تعلقات بھی ختم ہو کر رہ جاتے ہیں اور یہ بہت بڑا المیہ ہے۔ ماضی میں ایسا نہیں ہوتا تھا، میں مزید کچھ نہیں کہوں گا اور مثبت توقع رکھتا ہوں کہ جاتی امرا میں خوشی کی محفل میں شرکت بہتر سماجی تعلقات کی بنیاد بنے گی اور ملک اور ملکی سیاست کے لئے بھی درست ہوگا، ابھی کل ہی کی تو بات ہے کہ یہ سب لوگ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ اکٹھے ہوئے تھے اور پھر اختلاف کی بناء پر پیپلزپارٹی اور اے این پی الگ ہوئیں، اس کے بعد احتیاط کی گئی لیکن جلسوں میں اب ممکن نہ ہوا، بہرحال پارلیمنٹ کی سطح پر تو خوشگواری موجود ہے۔
ہر روز ایسا ہو رہا ہے کہ بات کچھ اور کرنا ہوتی ہے، تاہم حالات کہیں اور لے جاتے ہیں۔ مجھے حلقہ این اے 133کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے عرض کرنا تھا۔ اس پر آصف علی زرداری پھولے نہیں سما رہے اور ایسا ہونا بھی چاہیے کہ عرصہ بعد رجحان میں تبدیلی کا اشارہ ملا ہے۔ لیکن اس کے لئے غور کرنا بھی ضروری ہے کہ عوامل کیا ہوئے۔ محترم آصف علی زرداری نے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کی۔ بلاول بھٹو دبئی آرام کرنے چلے گئے اور خود زرداری بلاول ہاؤس میں جم گئے، اس کے بعد انہوں نے پارٹی کی قریباً ساری قیادت کو اس مہم میں شامل کر لیا، بُرا نہ سمجھا جائے تو عرض کروں کہ سربراہ کی موجودگی سے فنانسر بھی میدان میں آ گئے۔ گاڑیاں،پروپیگنڈہ میٹیریل اور کھابوں کا بھی بندوبست ہوا اور جلسوں کے اخراجات بھی برداشت کر لئے گئے۔ یہ صرف ایک حلقہ تھا اس لئے ایسا کرنا ممکن ہو گیا، جبکہ جنرل الیکشن میں صورت حال مختلف ہوگی۔ ہر امیدوار کو اپنے پروں پر اڑنا ہوگا اور اتنی سخت کنویسنگ ممکن نہ ہوگی جبکہ دوسری جماعتیں بھی اپنا حصہ وصول کرنے میدان میں ہوں گی، اس لئے اس خوشی میں یہ بات بھی یاد رکھی جائے۔
میرے خیال میں اب بھی آصف علی زرداری پارٹی کی مضبوط تنظیم پر بات نہیں کر رہے اور انہوں نے اپنی حکمت عملی پر ہی پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور پھر الیکشن کے بعد اب تک ان کی طرف سے تنظیم سازی پر بات نہیں کی گئی اور نہ ہی راجہ پرویز اشرف نے اس سمت کچھ کام کیا ہے۔ بہتر عمل تو یہی ہے کہ تنظیم سازی پر بھرپور توجہ دیں اور یہ جو گھروں میں جا کر منانے والا ”راگ الاپ“ ہے، اسے بھی عملی جامہ پہنائیں اور یہ نہ سمجھ لیں کہ ضمنی انتخاب نے یہ کام ازخود کر دیا ہے۔ تنظیم سازی لازم امر ہے۔ میں یہ اس لئے بھی عرض کر رہا ہوں کہ میرے نزدیک ملک کے سیاسی ماحول کو بہتر بنانا ضروری ہے اور اس کے لئے ملک گیر قومی جماعتوں کا ہونا لازم ہے۔ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) تحریک انصاف، حتیٰ کہ جمعیت علماء اسلام (ف) بھی اس معیار پر پورا اترتی ہیں اور ان کو اسے برقرار رکھنا چاہیے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments