Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمثاقب نثار کو نوٹس ہوسکتا ہے

ثاقب نثار کو نوٹس ہوسکتا ہے

امریکہ سے پھینکے جانے والے آڈیو لیک اور برطانیہ سے پھینکے جانے والے بیان حلفی کے پتھراسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں آن گرے ہیں، حالانکہ پھینکنے والوں نے انہیں سپریم کورٹ کے احاطے کی جانب پھینکا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا آڈیو لیک اور بیان حلفی پر مشتمل ثبوت اسلام آباد ہائی کورٹ کی غلام گردشوں میں مارے جائیں گے یا پھر لڑھکتے لڑھکتے سپریم کورٹ کے احاطے میں جا پہنچیں گے۔ اگرچہ نون لیگ کی خواہش تو ہوگی کہ یہ پتھر سپریم کورٹ سے اگلے احاطے میں جا گرتے۔تاہم اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ پتھر پھینکے ہی اتنے زور سے گئے تھے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ تک جا پہنچیں یا پھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں راستے سے اچک لیا ہے۔ حقیقت کچھ بھی ہو اب معاملہ یہاں رکے گا نہیں، کیونکہ منیر نیازی کے بقول اک واری جدشروع ہو جاوے تے گل فیر ایوئیں مکدی نئیں والا معاملہ ہے اور عدالتی معاملات سے واقفیت رکھنے والے سمجھتے ہیں کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو عدالتی نوٹس ہو کر رہے گا جن کے بت میں عدلیہ کی جان ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ میڈیا اپنا موڈ کب بدلتا ہے اور 2018ء کے انتخابات کے اردگرد کی ٹیپیں کب چلاتا ہے، جنہیں آج کل نکال کر صاف کرکے رکھا جا رہا ہے تاکہ بوقت ضرورت کام آویں۔ جونہی ایسا ہوگا عدلیہ مکمل طور پر اپنا ہاتھ کھینچ لے گی، جس سے اسٹیبلشمنٹ کی طاقت بھی آدھی رہ جائے گی اور پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی سے انتخابی گٹھ جوڑ کا پروگرام بنانے کے باوجود مسلم لیگ(ن)کو پچھاڑنے کی طاقت سے محروم رہ سکتی ہے۔ خاص طور پر جب عوام کومہنگائی اور اس کے بعد لاء اینڈ آرڈر کے حالیہ بدترین واقعات نے ہلا کر رکھ دیا ہے اور وہ حکومت کی نااہلی کا رونا روتے روتے اپنی بے بسی کا نوحہ بھی پڑھنے لگے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ حکومت کی رٹ میں کھپہ پڑ گیا ہے اور اس کی لاچارگی میں اضافہ ہوگیا ہے، کیونکہ جو اس کے ساتھ ایک پیج پر تھے ان پر ایک ان دیکھی سمت سے دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، جبکہ خود حکومت کا ستیاناس کرنے کے لئے آئی ایم ایف کی شرائط سے لبریز منی بجٹ ہی کافی ہوگا جو جنوری کے وسط میں منظور کرلیا جائے گا،جس کے بعدمہنگائی کا ایک نیاطوفان بدتمیزی برپا ہوسکتا ہے۔ حکومت کی نااہلیوں نے اپوزیشن، خاص طورپر نون لیگ میں ایک نئی جان ڈال دی ہے اور پیپلز پارٹی نے این اے 133میں 33ہزار ووٹ لے کر ثابت کردیا ہے کہ پی ٹی آئی عوام کی نظرمیں غیر متعلقہ ہو چکی ہے۔اس نے ثابت کردیا ہے کہ 2008ء سے 2013ء کے دوران بدترین کارکردگی کے باوجود لوگ دوبارہ سے اسے ووٹ کرنے کو تیار ہیں، کیونکہ پی ٹی آئی نے تو خراب کارکردگی میں ان کا بھی ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اب اگر 19دسمبر کو خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا بھی کچھ ایسا ہی رزلٹ آیا تو پی ٹی آئی کی آتما تو رل جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ثاقب نثار کی آڈیو ٹیپ اور رانا شمیم کے بیان حلفی سے نون لیگ نے قطع تعلقی اختیا ر کی ہے مگر اس کے باوجود عدلیہ پر ایک انجانا دباؤ آئے روز بڑھتا جارہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ وہ کون سی طاقت ہے جو اس دباؤ کے پیچھے کارفرما ہے؟ اب چونکہ نون لیگ اس معاملے کو ownکئے بغیر پوزیشن لے رہی ہے،اس لئے پیپلز پارٹی کے پاس بھی سوائے خاموش رہنے کے کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ وہ پی ٹی آئی کی طرح اس معاملے پر نون لیگ کو ہدف تنقید نہیں بنا سکتی ہے۔این اے 133کے ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ(ن) نے پانچ وجوہات کی بنا پر اپنی جیت کو یقینی بنایا ہے۔ ان پانچ وجوہات میں اس کی ماضی کی ڈیلیوری، ڈیلیوری کی بنا پر قائم ہونے والی گڈ وِل، پی ٹی آئی اور پی پی پی کے برعکس عدم انتشار کی سیاست کے فروغ، اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اسٹیٹس کو کی پالیسی کو چیلنج اور بطور ایک سیاسی جماعت کے اپنے اندر اتحاد کو قائم رکھنے کی صلاحیت شامل ہیں۔ یہی نہیں،بلکہ جس طرح 1997ء کے انتخابات میں آصف زرداری کے خلاف مسٹر ٹین پرسنٹ کے پراپیگنڈے سے متاثر ہو کر پیپلز پارٹی کے حمایتی حلقے گھروں میں بیٹھ گئے تھے اس کے برعکس مجھے کیوں نکالا سے ووٹ کو عزت دو تک کے سفر میں نون لیگ کے حمائتی حلقے پارٹی قیادت کے خلاف کرپشن کے تاثر کو خاطر میں نہیں لائے ہیں اور پورے زور سے نواز شریف کے پیچھے کھڑے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ این اے 133میں نواز شریف مخالف قوتیں مل کر الیکشن لڑیں اور مل کر ہار گئیں،جس طرح 2018ء میں پی ٹی آئی نون لیگ کی بجائے پیپلز پارٹی کا ووٹ کھاگئی تھی،2023ء کے انتخابات میں تحریک لبیک مسلم لیگ(ن) کی بجائے پی ٹی آئی کا ووٹ کھا سکتی ہے،کیونکہ نواز شریف کا عوامی تاثر خراب ہونے سے بچا رہا ہے اور اب آڈیو ٹیپ اور بیان حلفی نے صورت حال کو مزید واضح کردیا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کا ووٹ تو جماعت اسلامی اور علامہ طاہرالقادری کی پاکستان عوامی تحریک بھی نہیں کاٹ سکے کیونکہ نون لیگ نے انتشار اور انارکی کی سیاست نہیں کی، اگر اس کا کوئی قصور ہے تو یہ ہے کہ اس نے اداروں کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنے پرمجبور کیا۔ این اے 133میں مسلم لیگ(ن) کی فتح اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگ ثاقب نثارکے خلاف لگنے والے الزامات کو درست مانتے ہیں، وہ نواز شریف کو بے قصور اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔ اس سے بھی بڑھ کر اہم بات یہ ہے کہ غیر ملکی میڈیا نواز شریف کے خلاف نہیں ہے، جس طرح اس نے آصف زرداری کو مسٹر ٹین پرسنٹ ثابت کیا تھا اس طرح نواز شریف کو پانامہ کا چور ثابت نہیں کیا ہے، بلکہ اس نے نواز شریف کے خلاف ہونے والی سازش کو بے نقاب کیا ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments