Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمعثمان بزدار کے چھاپے؟

عثمان بزدار کے چھاپے؟

پنجاب میں بیورو کریسی کیسے من مانی کر رہی ہے،اس کی ایک مثال اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے سکریٹری سیاحت پنجاب کے دفتر واقع شادمان لاہور کا اچانک دورہ کیا۔ دفتر میں سیکرٹری سمیت تمام عملہ غیر حاضر تھا، وزیر اعلیٰ نے ایک بڑا کام یہ کیا چھوٹے عملے کو تبدیل کرنے کی بجائے سیکریٹری کو او ایس ڈی بنانے کا حکم دیا۔ ظاہر ہے جب محکمے کا سربراہ ہی وقت پر دفتر نہیں آئے گا تو باقی عملہ کیوں وقت ضائع کرنے کے لئے دفتر میں بیٹھے گا۔ اگلے روز وزیر اعلیٰ نے اپنے ہی آفس کا اچانک دورہ کیا تاکہ یہ جان سکیں چراغ تلے اندھیرا تو نہیں وہاں انہیں تمام عملے کے ارکان اپنے دفتروں میں موجود ملے، انہوں نے ہدایات جاری کیں کہ کوئی فائل مقررہ وقت سے زائد نہ روکی جائے اور ہر کام سرعت اور تیز رفتاری سے کیا جائے۔ اچھی بات ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار گاہے بہ گاہے ایسے کام بھی کر جاتے ہیں جو عوامی فلاح کے لئے سود مند ثابت ہوتے ہیں، وگرنہ بیورو کریسی کی حد تک تو آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ جو افسران وقت پر دفتر نہیں آتے وہ عوام کے مسائل کیسے حل کرتے ہوں گے۔ سائلوں کو افسران دفاتر میں مل جائیں تو ان کی آدھی تکلیفیں دور ہو جاتی ہیں کہ کم از کم انہوں نے اپنا وکھڑا سرکاری افسر کو سنا تو دیا ہے۔ یہاں تو دوردراز کے شہروں سے آنے والے لوگوں کو لاہور پہنچ کر علم ہوتا ہے کہ صاحب بہادر تو دستیاب ہی نہیں اس کے انتظار میں انہیں گھنٹوں بیٹھنا پڑتا ہے۔ شام ہو جائے تو ہوٹل میں رہ کر اگلے دن کی پھر حاضری لگوانی پڑتی ہے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اب ایک منجھے ہوئے وسیم اکرم بن چکے ہیں انہیں حکومت کے تمام اسرارو رموز سمجھ آ چکے ہیں، اس لئے وہ کریز سے باہر نکل کر چوکے چھکے لگانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان کی یہ بات عین وقت کی ضرورت ہے کہ وہ اچانک چھاپوں کا یہ سلسلہ جاری رکھیں گے اور عوامی مسائل حل نہ کرنے والے افسروں کو فیلڈ میں نہیں رہنے دیں گے۔

میڈیکل کالج میں مبینہ خود کشی کرنے والی طالبہ نوشین شاہ کی کیمیکل رپورٹ آگئی
تاہم یہ معاملہ صرف لاہور تک محدود نہ رکھیں۔ پنجاب کے کروڑوں عوام ایک اچھی گورننس چاہتے ہیں میں جانتا ہوں وزیر اعلیٰ ہر چھوٹی بڑی بات کا نوٹس لیتے ہیں، فوری رپورٹ طلب کرتے ہیں، انہوں نے سوشل میڈیا کو بھی فوکس کیا ہوا ہے، وہاں رونما ہونے والا کوئی بھی واقعہ ان کے نوٹس میں آجاتا ہے، جس پر وہ فوری ایکشن بھی لیتے ہیں تاہم اچانک چھاپوں کا سلسلہ اگر وہ پنجاب کے دور دراز شہروں تک پھیلا دیں تو زنگ لگی ہوئی بیورو کریسی کی کچھ صفائی ہو سکتی ہے۔ یہ بات میرے ذاتی علم میں ہے کہ شہروں میں تعینات سرکاری افسر دن کے بارہ بجے دفاتر میں آتے ہیں، کچھ کے دفاتر تو کھلتے ہی شام کے وقت ہیں جب سے جنوبی پنجاب میں علیحدہ سکریٹریٹ بنا ہے،ایڈیشنل سیکرٹریوں کی فوج ظفر موج تو تعینات ہو گئی ہے تاہم عوام کو دفاتر میں ریلیف ملنے کا سلسلہ شروع نہیں ہوا۔ ایک زمانے میں شہباز شریف نے چیف سکریٹری کے ذریعے تمام سیکرٹریوں اور ضلعی ڈویژنل افسروں کو پابند کیا تھا کہ وہ صبح نو بجے اپنے دفتر کے لینڈ لائن نمبر سے کال کر کے اپنی حاضری لگوائیں۔ مجھے یاد ہے اس زمانے میں ایسے واقعات بھی ہوئے کہ افسر وقت مقررہ پر دفتر آتے اور کال کرنے کے بعد دوبارہ گھروں میں جا کے بیٹھ جاتے۔ جب تک بیورو کریسی کے اندر از خود کام کرنے کا جذبہ پیدا نہ ہو اسے ڈنڈے کے زور پر پابند نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم اس حوالے سے کوششیں ضروری کی جا سکتی ہیں اور کی جانی چاہئیں۔ اس لئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے افسروں کی دفاتر میں موجودگی یقینی بنانے کے لئے چھاپوں کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اسے جاری رہنا چاہئے اس کے نتیجے میں کوئی بہت بڑی تبدیلی نہ بھی آئی تو یہ تبدیلی ضرور آئے گی کہ عوام کو افسر دستیاب ضرور ہو جائیں گے۔

چارج سنبھالتے ہی آئی جی اسلام ؔآباد کا ایسا اقدام کہ جان کر آپ کو بھی خوشی ہو
وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو مانیٹرنگ کا ایسا نظام بھی لاگو کرنا چاہئے جس سے اندازہ ہو سکے کس دفتر میں ایک ہفتے کے درمیان کتنے سائل آئے، ان کے مسائل حل ہوئے یا نہیں، کتنوں کو ریلف ملا اور کتنے ریلیف کے انتظار میں ہیں اور فوری ریلیف نہ ملنے کی وجہ کیا ہے؟عوام کے زیادہ تر مسائل ضلعوں اور ڈویژنوں میں بیٹھے ہوئے افسروں سے متعلق ہوتے ہیں۔ جب وہاں ان کے مسائل حل نہیں ہوتے تو وہ یا تو عدالتوں میں جاتے ہیں یا پھر لاہور کا رخ کرتے ہیں۔ کارکردگی جانچنے کا ایک پیمانہ یہ بھی بنایا جا سکتا ہے کس افسر کے خلاف کتنے لوگوں نے عدالتوں سے رجوع کیا یا محکمے کے سیکریٹری تک فریاد لے کر پہنچے۔ ضلعوں میں تعینات ڈپٹی کمشنر اگر پوری تندہی سے کام کرنے لگیں تو عوام کے مسائل حل ہونے میں دیر نہ لگے۔ اچھے افسر کیسے حکومت کی نیک نامی کا باعث بنتے ہیں، میں اس کے لئے ملتان کے ڈپٹی کمشنر عامر کریم کی مثال دیتا ہوں۔ میں ان سے کبھی ملا نہیں ہوں تاہم ان کی کارکردگی اور کاموں کے بارے میں مجھے بخوبی علم ہے۔ ایک دوبار فون پر انہوں نے مجھے ایسے اقدامات کے بارے میں بتایا جو مسائل اور مشکلات کے حل کی طرف اچھی پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے کسی ایک حلقے کے مسائل کا سروے کرایا، تو علاقے کے ایم پی اے اور تمام سرکاری محکموں کے افسروں کے ساتھ خود اس علاقے کا دورہ کیا۔
میں جس علاقے میں رہتا ہوں وہ ملتان کی قدیمی آبادی قاسم بیلہ ہے۔ وہ اس حلقے کے ایم پی اے سلیم لابر کے ہمراہ سرکاری افسروں کی معیت میں آئے، عوام کے مسائل سنے دیکھے اور تمام محکموں کے نمائندوں کو یہ ہدف دیا کہ ایک ماہ میں مسائل حل ہونے چاہئیں۔ ٹھیک ایک ماہ بعد وہ حلقے میں آئے تو 99 فیصد مسائل حل ہو چکے تھے۔ حال ہی میں انہوں نے مخیر حضرات کے تعاون سے احساس شرکت پروگرام شروع کیا، جس کے ذریعے موسمِ سرما کے حوالے سے جو شخص بھی گرم کپڑے یا جوتے چاہتا ہے اسے مفت فراہم کئے جا رہے ہیں۔ عامر کریم نے بتایا اس پروگرام کے ذریعے کوئی بھی شخص شناختی کارڈ دکھا کر ہفتے میں دو بار اپنے بچوں کے لئے گرم کپڑے، سکول بیگ اور جوتے لے سکتا ہے اس پر حکومت کی طرف سے کچھ خرچ نہیں آتا بلکہ یہ سب صاحب ثروت حضرات کے تعاون سے کیا جا رہا ہے۔ عامر کریم صبح سویرے منڈیوں اور گلی محلوں میں نظر آتے ہیں اور ٹھیک وقت پر دفتر بھی پہنچ جاتے ہیں۔
بیورو کریسی چاہے تو اس ملک کی تقدیر بدل سکتی ہے مگر افسوس اسے کسی نہ کسی کے نوٹس یا ڈنڈے کا انتظار رہتا ہے۔ اچھے افسروں کی کمی نہیں مگر نا اہل اور برے افسران بھی اپنا سکہ جمائے ہوئے ہیں جن کے لئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو کبھی کبھار ایکشن لنیا پڑ جاتا ہے۔ یہاں پولیس کا ذکر بھی ضروری ہے، جسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں ملک کا سب سے کرپٹ ادارہ قرار دیا ہے عثمان بزدار پنجاب کے چھ آئی جی بدل چکے ہیں مگر پولیس کی کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی۔ وزیر اعلیٰ کو سرپرائز وزت کا سلسلہ ضلعوں اور ڈویژنوں کے سی پی او اور آر پی اوز کے دفاتر کی انسپیکشن تک بڑھا دینا چاہئے صرف تھانوں کا وزٹ کافی نہیں، اُنہیں یہ دیکھنا چاہئے ضلعی اور ڈویژنل افسروں کے دفاتر میں سائلوں کی بھرمار کیوں ہے۔ اس کا صاف مطلب تو یہی ہے تھانوں میں انصاف نہیں مل رہا۔ تھانوں مں ی انصاف نہیں ملتا تو اس کی ذمہ داری انہی افسروں پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر اعلیٰ عثمان بزدار لاہور سے نکلیں اور ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازیخان کا رخ کریں کیونکہ یہاں گورننس کا شدید فقدان ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments