Wednesday, January 19, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمکورونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں؟

کورونا کے بعد سموگ کا علاج بھی چھٹیاں؟

پاکستانی قوم چھٹیوں سے بڑی خوش ہوتی ہے،کسی نیک بخت کی دُعا قبول ہوئی اور پاکستان کے مستقبل طلبہ و طالبات، قوم کے معماروں کو چھٹیاں بددعا کی صورت میں ایسی لگیں، حکومت نے بھی ہر مسئلے کا حل چھٹیوں میں ڈھونڈ لیا۔گزشتہ دو سال سے وبائی مرض کورونا نے شاید اتنی تباہی نہ مچائی ہو جتنی ہماری حکومت کی طرف سے تعلیمی اداروں کو بند کر کے مچائی گئی ہے۔کورونا نے تو چند سو کی جان لی اور چند ہزار کو پاکستان میں متاثر کیا،مگر کورونا کی وجہ سے بند ہونے والے تعلیمی اداروں سے دور رہ کر ملک بھر کے کروڑوں بچے بچیوں کا جو اخلاقی دیوالیہ نکلا ہے،ذہنی طور پر مفلوج ہوئے ہیں،تعلیم اور تربیت سے عاری ہوئے ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے،والدین بالعموم اور تعلیمی ادارے/ اکیڈمی مالکان بالخصوص اس بات پر زور لگاتے ہیں کہ ہمارے ادارے کے بچے بورڈ میں زیادہ سے زیادہ نمبرز لیں تاکہ ہمارے تعلیمی ادارے اور ہماری اکیڈمی دیگر سے نمایاں اور ممتاز ہو۔والدین کی توجہ کا مرکز بن جائیں، بچے بچیوں کو داخل کرانا پسندیدہ عمل بن جائے اور ادارے کا محلے،شہر اور ملک میں نام بن جائے اس کے لئے غلطی سے کوئی بچہ یا بچی بورڈ یا یونیورسٹی کے کل نمبرز کے قریب ترین بھی نمبرز حاصل کر لے تو اس بچے بچی کا نام اور فوٹو اپنے اداروں اور اکیڈمی کے باہر نمایاں انداز میں چسپاں کرتے ہیں،اشتہاری مہم چلاتے ہیں،اپنے اساتذہ کو بونس دیتے ہیں کہ ان کی محنت کی وجہ سے ہمارے ادارے کے بچے بچیوں نے بورڈ کے 1100 نمبروں میں سے1050 نمبر حاصل کر لئے ہیں۔505 میں سے460 نمبرز حاصل کر لئے ہیں مبارک بادیں وصول کی جاتیں ہیں،نمایاں پوزیشن لینے والے طلبہ و طالبات کو شیلڈیں جاتی ہیں۔کورونا کے دو سال نے نظام تعلیم اور امتحانی نظام کا ایسا جنازہ نکالا ہے،فروری میں ہونے والے امتحانات مئی جون میں ہو رہے ہیں۔اپریل میں آنے والا رزلٹ دسمبر میں آ رہا ہے،اندھیر نگری نہیں تو کیا ہے۔گزشتہ سال 9ویں کلاس کا سیشن ڈیڑھ سے پونے دو سال کا رہا ہے،سونے پر سہاگہ دو سال میں تعلیمی پالیسی نظر نہیں آئی،چھٹیوں والے بابا کے نام سے شہرت پانے والے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے ایسی دانشمندی دکھائی ہے، دو فیصد انٹرنیٹ رکھنے والے تعلیمی اداروں کو سہولت دینے کے لئے 98فیصد نیٹ سے محروم تعلیمی اداروں کو بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے۔ دو فیصد آن لائن کے حامل اداروں کا کلیہ آن لائن نظام سے محروم98 فیصد پر مسلط کیے رکھا ہے جس کا نتیجہ کیا نکلا۔1100 نمبرز میں سے1100 نمبر حاصل کرنے والے اور 505 میں سے505 نمبرز حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات فخر سے اپنے نمبرز بتانے کی بجائے شرمندہ شرمندہ نظر آ رہے ہیں۔یہی حال تعلیمی اداروں اور اکیڈمی کے مالکان اور والدین کا ہے،اداروں کے باہر جو بورڈز لگے ہیں اکیڈمی میں پڑھنے والے200 بچے بچیوں میں سے 90 نے1100 میں سے1100 اور باقی سو بچے بچیوں نے505 میں سے505 نمبر حاصل کرنے والوں کے نام لگا رکھے ہیں۔ اتنے نمبرز کیسے لگے کرائی ٹیریا کیا تھا۔ بحث مقصود نہیں ہے المیہ جو ہے پڑھنے والے ذہین بچے بچیاں احساس کمتری کا شکار ہو رہے ہیں۔1100 والے سینکڑوں بچے بچیاں این ٹی ایس میں فیل ہو گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے،1100 نمبرز جیسے تیسے حاصل کرنے والے خوش نصیبی پر خوش ہو رہے ہیں اب ان کا داخلہ ایم بی بی ایس میں پکا۔ 1100نمبرز خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا ثبوت تھا،مگر این ٹی ایس کورونا سے زیادہ خوفناک ثابت ہوا اور بچے جو 1100نمبرز حاصل کر کے دوبارہ امتحان تو نہیں دے سکتے۔پاکستان میں نئی نسل سے جو سب سے زیادہ زیادتی کی گئی ہے وہ ڈیٹ شیٹ دے کر امتحان لے کر پیپر چیک کر کے نتائج کے اعلان سے چند روز پہلے سب کو پاس کر دیا گیا اس کا خمیازہ پاکستانی قوم کو آئندہ برسوں میں بھگتنا پڑے گا۔کورونا کو کنٹرول کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کے بچے بچیوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا تعلیمی اداروں میں موجود کروڑوں بچے بچیوں کی ویکسین آسانی سے کی جا سکتی تھی،مگر نااہلی کا ثبوت دیتے ہوئے اس کے برعکس کیا گیا،چھٹیاں دے کر پورے نظام کو داؤ پر لگا دیا گیا اور لاکھوں چھوٹے ملازمین اور ہزاروں چھوٹے سکولوں کو بے رحم بے روز گاری کے کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔کورونا کے خوفناک اثرات سے ابھی نبرد آزما نہیں ہوئے کہ اب سموگ کا کوڑا برسنے لگا ہے،اس کا علاج کرنے اور اس کو روکنے کے لئے موثر منصوبہ بندی کرنے کی بجائے وفاقی وزیر تعلیم کی نام نہاد دور اندیشی سے سبق سیکھنے کی بجائے انہی کی سنت کو دوبارہ دہرانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے، چاہئے تو یہ تھا سموگ کے محرکات کا جائزہ لیا جاتا اور پھر اس کی روک تھام کے لئے طریقہ کار ڈھونڈا جاتا، ایسا نہیں کیا گیا پورے لاہور کو سموگ کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا سموگ کا علاج تعلیمی اداروں کو تین چھٹیوں میں تلاش کر لیا گیا، افسوس کہ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔لاہور جو اِس وقت آلودگی میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر ہے اس میں آلودگی سے بچنے اور سموگ سے بچاؤ کا طریقہ ہفتہ اتوار اور پیر تعلیمی اداروں کی بندش کو سمجھ لیا گیا ہے۔ عقل کے اندھے قوم کو سبق دے رہے ہیں بچے بچیوں کو لانے والی گاڑیاں سکولوں میں نہیں آئیں گی تو دھواں نہیں ہو گا، آلودگی نہیں پھیلے گی۔ ہفتہ اتوار اور پیر کی چھٹیاں گزشتہ پندرہ دن سے جاری ہیں لاہور کے سکولوں اور اکیڈمیوں میں استعمال ہونے والی گاڑیاں اور رکشے ایک منٹ کے لئے بھی نہیں روکے، البتہ طلبہ و طالبات ایک دفعہ پھر ریلیکس ہونا شروع ہو گئے ہیں،گھروں میں ساری رات موبائل، ٹی وی اور دن سو کر گزارتے ہیں، والدین کے لئے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔حکومت پنجاب نے سموگ کے دیگر عوامل پر قابو پانے کے لئے کون سی مہم چلائی ہے،دھواں دینے والی کتنی گاڑیاں بند کی گئی ہیں۔ پی ایچ اے نے کیا کردار ادا کیا ہے ماحولیات والے بینر لگا کر فرض ادا کر چکے ہیں، خدارا جوش کی بجائے ہوش سے کام لیجئے ہمارا مستقبل خطرے میں ہے،آلودگی صرف سموگ کی نہیں ہے،آلودگی ہماری سیاسی بھی ہے، آلودگی ہمارے ذہنوں کی بھی ہے،آلودگی ہماری معیشت کی بھی ہے، آلودگی ہماری اخلاقیات کی بھی ہے، ہر مسئلے کا حل چھٹیاں نہیں ہیں،بلکہ قائداعظمؒ کے فرمان میں ہے کام اور بس کام اب قوم کو کام دینے اور سمجھانے کی اور تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔چھٹیاں جو پہلے ہو چکی ہیں ان کا خمیازہ بھگتنے کی مشترکہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے نہ کہ مزید چھٹیاں دینے کی!

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments