Monday, July 4, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeشوبزسال 2021 میں انتقال کرنے والی مشہور شخصیات!!!

سال 2021 میں انتقال کرنے والی مشہور شخصیات!!!

لاہور:(این اے نیوز)سال 2021 بھی اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے اور باقیوں کی طرح یہ سال بھی جاتے جاتے ہم سے ایسی شخصیات کو لے گیا جنہوں نے لوگوں کے دلوں پر راج کیا،آج ایسی ہی کچھ شخصیات کے بارے بتائیں گے جن کا اس دنیا سے جانا رواں سال موضوع بحث بنارہا اور پوری قوم کو غمزدہ کرگیا۔

عمرشریف

سال 2021 میں جس شخصیت کی موت نے پاکستانیوں کو سب سے زیادہ غمزدہ کیا ان میں کامیڈی کنگ عمر شریف سرفہرست ہیں۔

سٹیج کے بے تاج بادشاہ کامیڈی کنگ عمر شریف 2اکتوبر 2021 کو66برس کی عمر میں دارفانی سے کوچ کرگئے ،وہ علاج کے لئے امریکا روانہ ہوئے تھے، طبیعت خراب ہونے پر عمر شریف کو جرمنی کے ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے ، عمر شریف کے انتقال کی تصدیق ان کی اہلیہ نے کی تھی۔

عمر شریف کے انتقال پر وزیراعظم عمران خان،صدر مملکت عارف علوی سمیت سیاسی ،سماجی،کھیلوں اور شوبز سے منسلک شخصیات نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا۔

عمر شریف یعنی محمد عمر 19 اپریل1955 کو پیدا ہوئے ایک معروف تھیٹر، سٹیج، فلم اور ٹی وی کے اداکار تھے۔ ان کی بنیادی وجہ شہرت مزاحیہ سٹیج ڈرامے تھے۔ وہ عمر شریف کے نام سے مشہور تھے۔ کیرئیر کا آغاز 1974ء میں 14 سال کی عمر میں سٹیج اداکاری سے کیا۔1980ء میں پہلی بار انہوں نے آڈیو کیسٹ سے اپنے ڈرامے ریلیز کیے۔ پاکستان کے ساتھ ساتھ عمر شریف، ہندوستان میں بھی کافی مقبول رہے۔

عمر شریف نے اداکاری اور میزبانی کے ساتھ مزاحیہ پروگرامز میں بطور جج بھی فرائض سرانجام دیے۔ان شوز میں میں بھارت کا مقبول ترین پروگرام ’دی گریٹ انڈین لافٹر چیلنج‘ سرفہرست ہے، جہاں انہوں نے نوجوت سنگھ سدھو کے ہمراہ جج کے فرائض سرانجام دیے۔

مرحوم سٹیج اداکار، فلم ڈائریکٹر کے طور پر جانے جاتے تھے، انہوں نے سٹیج و تھیٹر کی دنیا میں ناصرف ملک میں بلکہ سرحد پار بھی بہت مقبولیت حاصل کی۔انہوں نے تقریبا 5 دہائیوں تک شوبز میں کام کیا اور درجنوں، ڈراموں، سٹیج تھیٹرز اور لائیو پروگرامز میں پرفارم کیا۔

عمر شریف پاکستان کی کچھ فلموں میں بھی مرکزی کردار میں جلوہ گر ہوئے اور وہاں بھی خوب نام کمایا۔ فلموں میں شکیلہ قریشی کے ساتھ ان کی جوڑی کو خوب پسند کیا گیا۔ان کی مقبول فلموں میں مسٹر 420، مسٹر چارلی، خاندان اور لاٹ صاحب شامل ہیں۔ مسٹر 420 میں بہترین اداکار کرنے پر انہیں ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔

حسینہ معین

26مارچ 2021 کو معروف ڈرامہ نویس، مصنفہ اور مکالمہ نگار حسینہ معین 79 برس کی عمر میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کرگئیں۔

ڈرامہ نگار کے بھتیجے سعید کا کہنا تھا کہ حسینہ معین لاہور جانے کے لیے تیار ہو رہی تھیں کہ اچانک دل کا دورہ پڑا۔

واضح رہے کہ حسینہ معین 20 نومبر1941ء کو بھارت کے شہر کانپور میں پیدا ہوئیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کانپور سے حاصل کی۔

پی ٹی وی کی مقبول ترین ڈرامہ نویس کا اعزاز اپنے نام کرنے والی حسینہ معین نے جامعۂ کراچی سے 1963 میں تاریخ میں ماسٹرزکیا۔

حسینہ معین نے پی ٹی وی کے لیے بہت سے یادگار ڈرامے لکھے جن میں شہزوری، زیر زبر پیش، انکل عرفی، ان کہی، تنہائیاں، دھوپ کنارے، دھند، آہٹ، کہر، پڑوسی، آنسو، بندش، آئینہ شامل ہیں۔

حسینہ معین کی لکھی ہوئی پاکستانی فلموں میں پہلی فلم ’یہاں سے وہاں تک‘ تھی، جس میں وحید مراد نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔

اس کے بعد عثمان پیرزادہ کے لیے لکھی گئی فلم’نزدیکیاں‘ اور جاوید شیخ کے لیے لکھی گئی فلم ’کہیں پیار نہ ہوجائے‘تھی۔ ان تمام فلموں کی کہانیاں اپنی اپنی جگہ دلچسپ اور تخلیق سے بھرپور تھیں۔

حسینہ معین نے معروف بھارتی اداکار اور پروڈیوسر ’راج کپور‘ کی خواہش پر ان کی فلم ’حنا‘ کے لیے مکالمے تحریرکیے جس میں زیبا بختیار نے بھی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے۔

ڈرامہ نگارنے بہت سے ممالک کا دورہ کیا اور متعدد ایوارڈز جیتے، 1987 میں انہیں پرفارمنگ آرٹس کی خدمت پر تمغہ حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

طلعت اقبال

پاکستان ٹی وی کے سینئر اداکار طلعت اقبال 24ستمبر 2021 کو امریکا میں انتقال کرگئے تھے۔

اداکار طلعت اقبال کے انتقال کی تصدیق ان کے اہلخانہ نے کی تھی، طلعت اقبال شدید علالت کے باعث وینٹی لیٹر پر تھے اور ان کا امریکا کے شہر ڈیلاس میں علاج جاری تھا تاہم وہ جانبر نہ ہوسکے تھے۔

طلعت اقبال اور ان کی اہلیہ سنبل طلعت کا شمار ماضی کی کامیاب اداکارجوڑی میں ہوتا تھا، 1968 میں ریڈیو پاکستان سے کیرئیر کا آغازکرنے والے طلعت اقبال نے ٹیلی وژن کے بے شمارڈراموں میں کام کیا۔ ان کے معروف ڈراموں میں شکست آرزو، دودونی پانچ، آخری چٹان، آبگینے، کیف بہاراں، کاروان اوراب دیکھ خدا کیا کرتا ہے شامل ہیں۔

ان کی بیٹی ثومی طلعت بھی ایک ڈرامے میں کردارنگاری کرچکی ہیں، طلعت اقبال 1999میں اپنے اہل خانہ کے ہمراہ امریکا منتقل ہوگئے تھے۔ اس دوران وہ کئی مرتبہ پاکستان آئے، بیٹی سارہ کے انتقال صدمے نے انہیں ہسپتال پہنچا دیاتھا۔

دردانہ بٹ

سال 2021 میں پاکستانیوں سے بچھڑنے والی سینئر اور ہنس مکھ اداکارہ دردانہ بٹ بھی تھیں جو کہ12اگست کو 83 برس کی عمر میں کورونا وائرس کے باعث خالق حقیقی سے جاملیں۔

اداکار خالد ملک نے دردانہ بٹ کے انتقال کی تصدیق اپنے ایک سوشل میڈیا پیغام میں کی اور لکھا تھا کہ دردانہ آپا دنیا چھوڑ کر خالقِ حقیقی سے جا ملی ہیں، عقلمند، مزاحیہ، بصیرت والی داردانہ بٹ ایک خاص روح تھیں، جو اب اس دنیا میں نہیں رہی ہیں۔

اداکار کی پوسٹ پر صارفین کی بڑی تعداد نے دردانہ بٹ کیلئے دعائے مغفرت بھی کی ۔

اس سے قبل خالد ملک نے ہی ان کی علالت اور وینٹیلیٹر پر منتقل کیے جانے کے حوالے سے بتایا تھا۔

دردانہ بٹ کی بھانجی ملیحہ خان کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا تھا کہ تمغۂ امتیاز حاصل کرنے والی میری خالہ دردانہ بٹ اس وقت بہادری سے کورونا کیخلاف جنگ لڑ رہی ہیں۔بھانجی کی جانب سے جاری پیغام میں مداحوں سے دعاؤں کی اپیل کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ دردانہ بٹ 9 مئی 1938ء کو لاہور میں پیدا ہوئیں اداکاری کا آغاز 70 کی دہائی میں کیا،مشہور ڈراموں میں آنگن ٹیڑھا، ڈگڈگی، تنہائیاں، ففٹی ففٹی، رسوائی، انتظار شامل ہیں۔

اداکارہ نے فلم عشق پازیٹو، بالو ماہی، دل دیاں گلاں، خشک پتے اور پرے ہٹ لو میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

سلطانہ ظفر

ماضی کی مقبول ترین اداکارہ سلطانہ ظفر15جولائی 2021 کو 66 برس کی عمر میں امریکا میں انتقال کرگئی تھیں۔

وہ پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کی ماضی کی معروف اداکارہ تھیں اورتنہائیاں جیسے ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھا چکیں۔

انہوں نے تنہائیاں، عروسہ ، آخری چٹان جیسے قابلِ ذکر ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے تھے جبکہ ڈرامہ سیریل حق مہر، روبرو، ضد، وہ دوبارہ جیسے ڈراموں میں بھی اپنی اداکاری سے مداحوں کے دل جیتے۔

سلطانہ ظفر شوبز سے کنارہ کشی اختیار کرنے کے بعد امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلاس میں ’ارملا سٹوڈیوز‘ نام کی بوتیک چلاتی تھیں۔

ڈرام سیریل ’عروسہ‘ میں ان کے ساتھ کام کرنے والی شمع جنیجو نے اپنے ٹوئٹ میں سابقہ اداکارہ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سُلطانہ آنٹی نے میرے ساتھ عُروسہ میں کام کیا تھا اور میری شادی پر بھی آئی تھیں، اُن کے ساتھ بہت ساری خوشگوار یادیں ہیں۔

انور اقبال

پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کے سینئر اداکار انور اقبال بلوچ یکم جولائی 2021 کو 71 برس کی عمر میں کینسر کے باعث طویل علالت کے بعد دارفانی سے کوچ کرگئے تھے۔

اہلِ خانہ کے مطابق انور اقبال بلوچ کی تدفین میوہ شاہ قبرستان میں کی گئی ۔ انور اقبال کی اہلیہ کا بھی ان سے چندہ ماہ قبل انتقال ہوگیا تھا جبکہ انہوں نے چار بیٹیاں سوگوار چھوڑیں۔

ڈرامہ سیریل ’شمع‘ میں اداکاری کے جوہر دِکھا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے انور اقبال بلوچ نے بےشمار اردو اور سندھی ڈراموں میں کام کیا۔

جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے 1976 میں پروڈکشن سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔

بلوچی زبان کی پہلی فلم ’حمل و ماہ گنج‘ بنانے کا کریڈٹ بھی انہی کے نام ہے، اس فلم کو پروڈیوس بھی انور اقبال نے کیا تھا جبکہ اس میں بطور ہیرو بھی خود ہی آئے تھے۔

اس فلم کی کہانی نامور شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی نے لکھی تھی جبکہ فلم کی دیگر کاسٹ میں انیتا گل، نادر شاہ عادل، اے آر بلوچ ، نور محمد لاشاری شامل تھے۔اس فلم کے سامنے آنے کے بعد ایک تنازع کھڑا ہوگیا تھا جس کے بعد اسے اسکریننگ سے روکا گیا۔

بعد ازاں بلوچی زبان کی پہلی فلم حمل و ماہ گنج کو 42 سال کے بعد 28 فروری 2017 میں ریلیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ فلم 1975 میں تیار کی گئی تھی لیکن بلوچ قوم پرستوں کے اعتراض کے باعث اس کی ریلیز روک دی گئی تھی۔

اداکاری کی دنیا میں نام کمانے والے انور اقبال اداکاری کے علاوہ ایک استاد بھی رہے ، وہ اپنی حیات میں ایک نجی سکول میں بچوں کو تعلیم دیتے رہے۔

بیگم خورشید شاہد

پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ بیگم خورشید شاہد دل کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث27جون 2021 کو 95برس کی عمر میں انتقال کر گئی تھیں۔

ریڈیو میں صداکاری اور ٹی وی پر اداکاری کے جوہر دکھانے والی فنکارہ بیگم خورشید شاہد کو عارضۂ قلب لاحق ہونے کے باعث ہسپتال داخل کرایا گیا تھا۔اس حوالے سے بیگم خورشید شاہد کے فرزند واداکار سلمان شاہد نے والدہ کے انتقال کی تصدیق کی ۔ بیگم خورشید کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تھا۔

آل انڈیا ریڈیو میں 9 سال کی عمر میں بیگم خورشید شاہد نے ایک گلوکارہ اور اداکارہ کی حیثیت سے شوبز کا کیرئیر شروع کیا اور بڑے بڑے موسیقاروں سے میوزک کی تربیت بھی حاصل کی جو آگے چل کر انہیں کام آئی۔

قیامِ پاکستان کے وقت 1947ء میں بیگم خورشید نے بھارت چھوڑ دیا اور ہجرت کرکے لاہور آئیں۔ 1964ء میں پی ٹی وی کی اداکارہ بن گئیں اور اگلے 2 عشروں تک مختلف ڈراموں میں اہم کردار ادا کیے۔پی ٹی وی کے دور میں بیگم خورشید شاہد کے ڈرامہ سیریلز زبرپیش، انکل عرفی، کرن کہانی، پرچائیں اور دھند بے حد مشہور ہوئے۔ 1984ء میں انہیں تمغہ برائے حسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔

90ء کی دہائی میں بیگم خورشید شاہد نے ٹی وی سے لاتعلقی اختیار کر لی کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ٹیلیویژن پستی کی طرف جارہا ہے۔ بیگم خورشید شاہد کے انتقال پر ملک کی معروف شخصیات نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔

طلعت صدیقی

ماضی میں پاکستان فلم انڈسٹری کو سُپر ہٹ فلمیں دینے والی سینئر اداکارہ طلعت صدیقی9 مئی 2021 کو دُنیا سے رخصت ہوئیں۔

سینئر اداکارہ طلعت صدیقی کے انتقال کی خبر اُن کی بھانجی گلوکارہ فریحہ پرویز نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں دی۔

فریحہ پرویز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بُک پر اداکارہ طلعت صدیقی کی کچھ یادگار تصاویر شیئر کیں جو اُن کے مخلتف کرداروں کی تھیں۔

گلوکارہ نے مداحوں کو اس بُری خبر سے آگاہ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ میری خالہ اور اداکارہ طلعت صِدیقی صاحبہ اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔

واضح رہے کہ طلعت صدیقی کی مشہور فلموں میں ’دل نشین‘، ’حیدر سلطان‘ اور ’کالیا‘ شامل ہیں ۔انہوں نے ناصرف لالی ووڈ میں کام کیا بلکہ ریڈیو پاکستان میں بھی کام کرچکیں جبکہ اُن کی صاحبزادی عارفہ صدیقی بھی لازوال اداکارہ رہ چکی ہیں۔

فاروق قیصر

معروف مزاح نگار اور انکل سرگم جیسے پتلی تماشا کردار کے خالق فاروق قیصر14مئی 2021 کو اس دنیا کو چھوڑ کر چلے گئے ، وہ عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔ انہوں نے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں سوگوار چھوڑے۔

فاروق قیصر کے نواسے حسنین قیصر کا کہنا تھا کہ نانا کافی عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے، طبیعت خراب ہونے پر انہیں ہسپتال لے جانے کیلئے ایمبولینس بلائی مگر ان کا پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔

کلیاں، سرگم سرگم اور ڈاک ٹائم ان کے مشہور ٹی وی شوز تھے، تاہم پی ٹی وی کا مشہور پروگرام ’کلیاں‘ ان کی پہچان بنا، اس پروگرام میں انکل سرگم کے کردار سے فاروق قیصر نے شہرت حاصل کی۔

فاروق قیصر مصنف، کالم نگار، کارٹونسٹ اور ٹی وی پروڈیوسر بھی رہے۔ انہیں 1993ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔

فاروق قیصر 31 اکتوبر 1945 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے تعلیم حاصل کی۔این سی اے اور فاطمہ جناح وومن یونیورسٹی میں تدریس سے بھی منسلک رہے۔سلیمہ ہاشمی نے انہیں 1970 میں’اکڑ بکڑ‘ کے ذریعے ٹی وی پر متعارف کروایا۔

صدر عارف علوی نے فاروق قیصر کے اِنتقال پر اظہارِ افسوس کیا تھا ،ان کا کہنا ہے کہ معروف مصنف، اداکار اور فنکار فاروق قیصر کے اِنتقال پر شدید صدمہ ہوا،

صدر مملکت نے کہا تھا کہ مرحوم نے پاکستان کے فن کے شعبے میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں، مرحوم کو تمغہ حسن کارردگی اور تمغہ امتیاز دینا ریاست کیلئے اعزاز کی بات تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ مرحوم نے ہر دلعزیز كردار “انکل سرگم” سے اہم سماجی مسائل کو اُجاگر کیا، فاروق قیصر کے جانے سے پاکستان میں شعبہ فن کا اہم باب بند ہوگیا۔

صدر مملکت نے مزید کہا تھا کہ اللّٰہ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور اہل خانہ کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی فاروق قیصر کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا تھا ۔

وزیراعظم نے اس حوالے سے ایک بیان میں کہا کہ فاروق قیصر صرف اداکار ہی نہیں تھے، انہوں نے سماجی ناانصافیوں اور مسائل کے بارے میں آگاہی پیدا کی۔

شوکت علی

پاکستان کے معروف فوک گلوکار شوکت علی سی ایم ایچ ہسپتال میں2اپریل 2021 کو انتقال کر گئے تھے، وہ طویل عرصے سے جگر کے عارضے میں مبتلا تھے اور سی ایم ایچ اسپتال لاہور میں زیر علاج تھے۔

شوکت علی کے بیٹے امیر شوکت علی نے والد کے انتقال کی تصدیق کی تھی۔گزشتہ برس وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر انہیں سندھ کے گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں داخل کرایا گیا تھا جہاں وہ کئی روز زیر علاج رہے تاہم پھر اکتوبر 2020 میں پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر انہیں سی ایم ایچ لاہور میں داخل کرایا گیا تھا۔

‏وزیراعظم عمران خان نے گلوکار شوکت علی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی تھی اور کہا تھا کہ ملک میں فن گائیکی کے حوالے سے ان کی خدمات کو سنہرے حروف میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

واضح رہے کہ گجرات ملاکوال کے فنکار گھرانے تعلق رکھنے والے فوک گلوکار شوکت علی نے صوفیانہ کلام اور پنجابی گانوں کے ذریعے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا، 1965ء کی جنگ میں ان کا گایا ہوا ملی نغمہ، ’’جاگ اٹھا ہے سارا وطن‘‘ اب بھی جوانوں کا لہو گرماتا ہے، حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں 1990 میں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے بھی نوازا جاچکا ہے۔

سہیل اصغر

پاکستان کے نامورسینئر اداکار و صداکار سہیل اصغر14نومبر 2021 کو 65 برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد دنیا سے کوچ کرگئے، افسوسناک واقعے کی اہلیہ نے تصدیق کی تھی۔

اداکار کی اہلیہ نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر گزشتہ ڈیڑھ سال سے علیل تھے، ڈیڑھ سال قبل ان کی بڑی آنت کا آپریشن ہوا لیکن وہ مکمل صحت یاب نہ ہوسکے۔اہلیہ کے مطابق گذشتہ ایک ہفتے سے طبیعت ناسازی کے باعث وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے، جہاں انتقال کرگئے۔

یاد رہے کہ سہیل اصغر کی پیدائش لاہور میں ہوئی اور وہیں انہوں نے تعلیم مکمل کی، جس کے بعد وہ ریڈیو پاکستان کا حصہ بنے، 1978 سے 1988 تک سہیل اصغر ریڈیو جوکی کے طور پر کام کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے تھیٹر ڈراموں میں اداکاری شروع کی۔

مرحوم اداکار کا شمار پاکستان کے کامیاب اور بہترین اداکاروں میں کیا جاتا تھا، اُن کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں لاگ، خدا کی بستی، کاجل گھر، دکھ سکھ ، حویلی، ریزہ ریزہ، پیاس، چاند گرہن اور دیگر ڈرامے شامل ہیں۔

اِس کے علاوہ 2003 میں مرحوم نے پہلی مرتبہ چھوٹی سکرین سے بڑی سکرین پر قدم رکھا اور فلم ’مراد ‘ میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے، اُس کے بعد اُنہوں نے فلم ’ماہ نور‘ میں بھی کام کیا۔

اعجاز درانی

یکم مارچ 2021 کو پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر اداکار اور میڈم نور جہاں کے شوہر اعجاز درانی طویل علالت کے بعد 88 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

اہل خانہ کے مطابق اعجاز درانی کی عمر 88 برس تھی، وہ طویل عرصے سے بیمار تھے،اعجاز درانی نے فلم ’ہیر رانجھا ‘ میں رانجھا کا کردار ادا کیا تھا۔

اعجاز درانی کی پیدائش جلال پور جٹاں کے نواحی گاؤں میں 1935ء میں ہوئی۔ ہدایت کار منشی دل کی فلم ’حمیدہ‘ میں وہ بہ طور ساتھی اداکار متعارف ہوئے، یہ فلم 1956ء میں ریلیز ہوئی۔

فلم ساز داؤد چاند کی اردو فلم ’مرزا صاحباں‘ میں بھی وہ سائیڈ ہیرو تھے۔ تاہم 1957 کی ریلیز فلم ’بڑا آدمی‘ میں بطور ہیرو ان کی پہلی فلم تھی،جسے ہمایوں مرزا نے ڈائریکٹ کیا۔

باکس آفس کے کامیاب اداکار ہونے کے ساتھ ساتھ اعجاز درانی نہایت کام یاب ڈسٹری بیوٹر اور نہایت منتظم منصوبہ بندی کے ساتھ فلم سازی کے فن میں بہترین صلاحیتوں کے حامل ثابت ہوئے۔

’دوستی‘، ’ہیر رانجھا‘، ’شعلے‘ جیسی باکس آفس پر تہلکہ مچا دینے والی فلمیں بحیثیت فلم ساز ان کے کریڈٹ پر ہیں۔

انہوں نے پہلی شادی ملکہ ترنم نور جہاں سے اور دوسری شادی فردوس سے کی، لیکن دونوں شادیاں طلاق پر ختم ہوئیں۔

ڈھولچی گونگا سائیں

19اپریل 2021 کو عالمی سطح پر شہرت رکھنے والے معروف ڈھولچی گونگا سائیں حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے لاہور میں انتقال کرگئے تھے۔

واضح رہے کہ معروف ڈھولچی گونگا سائیں ناصرف پاکستان بلکہ دُنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کرچکے۔

گونگا سائیں کو اُن کے شاندار فن کی بناء پر متعدد عالمی ایوارڈز بھی مل چکے ہیں، اس کے علاوہ اُنہوں نے اپنے منفرد اور مخصوص ڈھول بجانے کے انداز سے برطانیہ، امریکا اور جرمنی میں صوفی موسیقی کو روشناس کرایا۔

ڈھولچی گونگا سائیں خود ہی ڈھول بجاتے تھے اور اُس پر رقص بھی کرتے تھے، اُن کے ڈھول کی تھاپ پر رقص دیکھ کر ہر ایک اُن کی تعریف کرنے پر مجبور ہوجاتا ، ڈھول کی تھاپ پر والہانہ رقص گونگا سائیں کی خاص پہچان تھی۔

فرہاد ہمایوں

8جون 2021 کو پاکستان میوزک انڈسٹری کے نامور موسیقار اور کوک سٹوڈیو میں ڈرمر کے فرائض سرانجام دینے والے فرہاد ہمایوں انتقال کرگئے۔

اہل خانہ کے مطابق فرہاد ہمایوں دماغ کے سرطان میں مبتلا تھے، فرہاد ہمایوں کے والد شہزاد ہمایوں معروف کمنٹیٹر تھے اور والدہ نوید شہزاد معروف اداکارہ اور ڈائریکٹر ہیں۔

پاکستانی میوزک بینڈ اوور لوڈ کے بانی فرہاد ہمایوں کے انتقال کی خبر بینڈ کے تصدیق شدہ فیسبُک پیج پر بھی دی گئی تھی۔

بینڈ کی جانب سے جاری سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا گیا کہ فرہاد ہمایوں اب ہم میں نہیں رہے۔پوسٹ میں بتایا گیا کہ حیرت انگیز فرہاد ہمایوں نے بےشمار چیلنجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے کبھی اقدار میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا، وہ روحانی اور فنی دونوں لحاظ سے بہت آگے تھے۔

پوسٹ میں مداحوں، فیملی اور دوستوں سے ان کی مغفرت کی دعا کی اپیل کی گئی تھی۔موسیقار نے 2018 میں اپنی ایک انسٹاگرام پوسٹ میں بتایا تھا کہ انہیں برین ٹیومر ہوگیا ہے جس کا دنیا کے بہترین سرجن نے علاج کیا۔

فرہاد ہمایوں کا بتانا تھا کہ وہ برین ٹیومر میں مبتلا ہوگئے اس بیماری کا انہیں سیزیئر نامی بیماری کے دوران پتہ چلا۔سیزیئر ایک اعصابی بیماری ہے جس میں مبتلا شخص کو اچانک دماغ میں کرنٹ جیسے جھٹکے لگتے ہیں۔

کنول نصیر

25مارچ 2021 کو پاکستان ٹیلی ویژن کی پہلی خاتون میزبان کنول نصیر دارفانی سے کوچ کرگئیں۔

کنول نصیر کو دل کی تکلیف کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ انتقال کرگئیں۔ کنول نصیر کو ان کی خدمات کے پیش نظر مختلف اہم ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔کنول نصیر گزشتہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصہ تک پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے ساتھ وابستہ رہیں۔ ان کی اچانک وفات پر سیاسی اور سماجی شخصیات سمیت ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے افسوس کا اظہار کیا تھا۔وہ معروف براڈ کاسٹر موہنی حمید کی بیٹی تھیں انہوں نے 26 نومبر 1964ء کو پی ٹی وی کے قیام کے وقت پہلی اناؤنسمنٹ کی تھی۔ انہوں نے 17 سال کی عمر سے ٹی وی میں کام کرنا شروع کیا۔ وہ ٹی وی ڈرامے کی پہلی ہیروئن بھی تھیں۔ انہوں ںے ٹی وی سکرین پر پہلی بار ’’میرا نام کنول نصیر ہے، آج پاکستان میں ٹیلی ویژن آ گیا ہے آپ کو بھی مبارک ہو‘‘ کے الفاظ ادا کیے۔
سنبل شاہد
6مئی 2021 کو معروف ٹی وی اداکارہ سنبل شاہد کورونا کے باعث انتقال کرگئیں۔اداکارہ کی بہن بشریٰ انصاری کا کہنا تھا کہ سنبل شاہد کو ایک ماہ پہلے کورونا ہوا تھا جس کے بعد سے وہ لاہور کے مقامی ہسپتال میں زیر علاج تھیں۔سنبل شاہد کو مسلسل طبیعت بگڑنے پر 22 اپريل کو وينٹيليٹر پر منتقل کیا گيا تھا۔بشریٰ انصاری کا بتانا تھا کہ سنبل کے بڑے بیٹے شیراز کو سال 2019 میں پیراگلائڈنگ کے دوران حادثہ پیش آیا تھا جس کے باعث وہ جہانِ فانی سے کوچ کرگئے تھے۔
سنبل شاہد نے مقبول ڈراموں ملکہ عالیہ، عشقہ وے میں کام کیا، انہوں نے ڈرامے ’تاکے کی آئیگی بارات‘ میں تاکے کی ماں کا مقبول کردار نبھایا۔انہوں نے پرچھائیاں، داغ، پانی جیسا پیار، اعتراف، یہ شادی نہیں ہوسکتی، نند، ایک اور ستم و دیگر معروف ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments

AllEscortAllEscort