Wednesday, January 19, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمبے داغ سیاسی عمل کی ضرورت!

بے داغ سیاسی عمل کی ضرورت!

معاشرے میں عدم برداشت اور لاقانونیت کے پے در پے واقعات سامنے آنے سے ہمارا معاشرتی چہرہ بھی بہت بھیانک ہو گیا ہے۔ سیالکوٹ میں سری لنکن شہری کی موت نے مغربی ممالک کو ایک مرتبہ پھر میرے پیارے پاکستان کے خلاف زہر اگلنے کا بہانہ دے دیا ہے۔ پہلے ہی سے یہ شکایت تھی کہ دنیا اپنے مفادات کی غرض سے بھارت میں ہونے والے ہمہ جہت مظالم اور کشمیریوں کے خلاف بربریت کو نظر انداز کر رہی ہے اور پاکستان کے خلاف اس لئے مذموم مہم چلائی جاتی ہے کہ ہمارا ملک واحد مسلمان ملک ہے جو ایٹمی صلاحیت کا مالک ہے اور اپنے دفاع کا اہل بھی ہے، سری لنکن شہری کی ہلاکت کے حوالے سے بھی دنیا نے اپنا یہی چہرہ دکھایا ہے اور اب پاکستان کے خلاف پھر سے منظم مہم شروع کر دی گئی ہے کہ یہ ملک دہشت گردوں (مبینہ) کا ملک ہے۔ حالانکہ بھارت میں مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اورہندوتواکے فلسفے والے اقلیتوں (خصوصاً مسلمان +عیسائی +دلت) کا جینا محال کئے ہوئے ہیں، ہمیں اس گھناؤنے چہرے کو بے نقاب کرنا ہے کہ عدم برداشت اور قانون شکنی کے رجحان نے دفاع پر مجبور کر دیا ہے اور اب دن رات، ایسے اقدامات کئے جا رہے ہیں جن سے یہ تاثر زائل ہو کہ پاکستانی بطور شہری یا قوم ملوث ہیں، یہ انفرادی فعل ہیں، جن کا تعلق ریاست اور معاشرے سے نہیں، بدقسمتی سے یہ ہمارا موقف ہے کہ ہم دل کو تسلی دے سکتے ہیں، لیکن دنیا اسے ماننے کو تیار نہیں۔اب لازم ہو گیا کہ ان حالات و واقعات کے تمام پہلوؤں کو تحقیقی نظر سے دیکھا جائے اور ایسا لائحہ عمل تیار کیا جائے جو قوم کو واپس اصل ڈگر پر لا سکے۔ اس حوالے سے بڑے بڑے (صاحب اقتدار) لوگ، دانشور اور تجزیہ نگار اپنی اپنی رائے سے مستفید فرما رہے ہیں، تاہم اس امر کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ عدم برداشت کا یہ پہلو ہمارے لئے کوئی اچھا مستقبل نہیں ہے، بلکہ منتشر قوم کو اور بھی ٹکڑے ٹکڑے کرتا چلا جا رہا ہے۔سوچنے، بولنے اور تجزیہ کرنے والے جوچاہے کہتے رہیں، حقیقت کو تو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور حقائق یہی ہیں کہ پے در پے عدم برداشت اور لاقانونیت کے واقعات ہوتے چلے جا رہے ہیں، ان واقعات سے بدنامی تو لازم ہے، لیکن عدم تحفظ اور لاتعلقی کا جو عمل معاشرے میں در آیا ہے، اس کی وجہ سے راہ راست پر آنا بہت ہی مشکل ہے۔ میرے ذاتی خیال (پڑھنے والوں کا متفق ہونا ضروری نہیں) میں اور بہت سی وجوہ کے ساتھ بڑی وجہ سیاسی عمل کی بے عملی ہے کہ ہمارے ملک میں سیاست کو بھی عبادت سے نکال کر گناہ کی دلدل بنا دیا گیا اور یہ سب آنکھیں کھول کر کیا گیا، میرے پاکستان میں سیاسی عمل ہی کو تو زہر آلود اور گندہ کیا گیا ہے کہ یہ اب منفعت کا ذریعہ اور ایک کاروبار بن چکا، دکھ یہ ہے کہ اس کی درستگی کے لئے کوئی غور کرتا ہے نہ عمل، بلکہ الزام تراشی اور دشنام طرازی کا کاروبار الگ زور پکڑ چکا ہے۔عمر کے حوالے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے عرض کروں کہ ہمارے ملک میں قائدین خدمت ہی کے جذبے سے سرشار تھے۔ حسین شہید سہروردی جیسی قد آور شخصیات بھی تھیں، لیکن یہاں اختیار کلی کے خواہش مندوں نے ہمارے ملک کو آمریت کی گود میں دھکیل دیا اور اس آمریت کی کوکھ سے جس سیاست نے جنم دیا، اسی نے ہمیں آج اس حال تک پہنچا دیا کہ ہمیں ہماری خبر بھی نہیں۔ کیا یہ ہماری بدقسمتی نہیں کہ ”ملک خطرے میں ہے“ سنتے سنتے ہمارے کان کے پردے تو نہ پھٹے ملک دولخت ضرور ہو گیا اور اس سانحہ نے ہمیں سبق کیا دینا تھا، الٹا ہم اور خراب ہوتے چلے گئے، کبھی کبھی مجھے ایک دانشور (غیر سیاسی) کی بات درست لگتی ہے، جس نے معاشرے کے حالات کو دیکھ کر کہا ملک کا قیام قائداعظم کی مساعی جمیلہ سے تو سیاسی طور پر عمل میں آیا، لیکن قیام پاکستان سے پہلے سول نافرمانی اور بعد میں انگریز کی عیارانہ حکمت کی وجہ سے خونریزی نے قانون شکنی کا رجحان ذہنوں میں جاگزیں کر دیا، مجھے ان کی بات بہت درست لگتی ہے کہ یہ مظاہرہ پہلے تو سڑکوں پر ٹریفک قواعد کی جان بوجھ کر خلاف ورزی سے کیا جاتا تھا اور اب نوبت بڑے جرائم تک بھی آ گئی ہے۔

جب سے پاکستان پر آمریت مسلط ہوئی، اس ملک سے سیاسی عمل ناپید ہو گیا اور آمریت کی گود میں مفاد پلتا رہا، یہاں سیاست کی نرسری کی طرف کبھی دھیان ہی نہ دیا گیا، جن حضرات نے لوکل باڈیز ادارے بنائے انہوں نے اپنے مفادات کی روشنی میں ان کا ڈھانچہ مرتب کیا، ہم کیسی ”باہوش“ قوم ہیں کہ ابھی تک کسی بلدیاتی نظام پر متفق ہو کر اسے رائج ہی نہیں کر سکے اور امور تو اختلافی ہیں، تاہم بلدیات کے حوالے سے تیتر، بٹیر والا سلسلہ جاری ہے جو کوئی برسراقتدار آتا ہے وہ لوکل باڈیز کو بھی اپنا مطیع و فرمانبردار بنانا چاہتا ہے۔ نام تو نچلی سطح تک اختیارات کی منتقلی کا لیا جاتا ہے، لیکن عمل یہ ہے کہ کوئی بھی صوبائی وفاقی حکومت اپنے اختیارات میں کمی نہیں چاہتی، اس کے علاوہ سیاسی عمل کی حالت بھی ہمیشہ پتلی رہی، آمروں نے جمہوریت اور پارلیمان کو درخور اعتنا نہ جانا تو یہ ان کی طاقت کے منبع کی وجہ سے تھا اور ہے، تاہم ہم سویلین جن کے حلق جمہوریت، جمہوریت کرتے نہیں تھکتے، خود ہی سارے اختیار ذات میں مرکوز رکھتے ہیں، شخصی اور خاندانی سیاسی وراثت کی مخالفت کرتے بلکہ گالی دیتے ہیں، لیکن عملاً ہم اس کے خلاف رہتے ہیں اور شخصیت پرستی کو پہلے سے زیادہ عروج مل جاتا ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments