Monday, January 17, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمنظم و ضبط اور میرٹ کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی بہتری کی...

نظم و ضبط اور میرٹ کے حوالے سے پنجاب یونیورسٹی بہتری کی جانب گامزن

پنجاب یونیورسٹی کا تاسیسی ماٹو ”یقین محکم اتحاد اور نظم و ضبط“ ہے، مگرماضی میں اس پر عمل نہیں کیا جاتا رہا۔ موجودہ وائس چانسلر محترم ڈاکٹر نیاز احمد نے ان اصولوں پر عمل کر کے دکھا دیا۔ آپ یونیورسٹی میں داخل ہوں تو نظم و ضبط صاف نظر آتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے طلباء کی اخلاقی تربیت کے لیے ایک مرکز قائم کیا ہے تاکہ مادر علمی سے فارغ ہونے والے طلباء جب سماج میں جائیں تو وہ مثالی کردار کے حامل ہوں اور پاکستان میں اجالا کرنے کا باعث بن سکیں۔انہوں نے اپنی تقرری کے فوراً بعد یہ بات واضح کر دی کہ آئندہ یونیورسٹی میں ہر کام قانون، میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ کسی استاد کو ذاتی پسند یا ناپسند پر نہ ترقی ملے گی اور نہ عہدے ملیں گے۔ آئندہ ایک پروفیسر ایک ہی عہدے پر کام کرے گا۔31 مئی 2018ء کو پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر، پنجاب یونیورسٹی کے پہلے مستقل وائس چانسلر تعینات ہوئے۔آپ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان سے ہے۔ آپ نے 1977ء میں ملتان بورڈ سے میٹرک کا امتحان (فرسٹ ڈویژن کے ساتھ) پاس کیا اور 1985-86ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے کیمیکل انجینئرنگ میں بی۔ایس۔سی مکمل کرنے کے بعد 1995ء میں یونیورسٹی آف لیڈز سے ماحولیاتی مینجمنٹ میں پی ایچ ڈی کے ساتھ تعلیم مکمل کی۔ڈاکٹر نیاز احمدکی اَنتھک تعلیمی خدمات کی وجہ سے ستارۂ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے۔انہوں نے اپنی تقرری سے لے کر آج تک انتہائی جان فشانی اور بڑی لگن سے اس ادارے کو پروان چڑھایا، جس کی مثال آج سب کے سامنے موجود ہے کہ آج جامعہ پنجاب دنیا بھر کی بہترین جامعات کی صف میں شامل ہو گئی ہے۔ جامعات کی عالمی رینکنگ کرنے والے ادارے کیو ایس کی جاری کردہ رینکنگ میں پنجاب یونیورسٹی کو دنیا کی 1000 بہترین جامعات میں شامل کیا گیا ہے۔یہ بہت خوش آئند بات ہے کہ ڈیرہ غازیخان سے تعلق رکھنے والی ایک قابل، فعال اور تعلیم یافتہ شخصیت کوپنجاب یونیورسٹی کا چانسلر بنایا گیا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد یہ پہلی بار ہواہے کہ پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلرکا تقرر جنوبی پنجاب سے ہوا ہے۔ضروری ہے یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہنا چاہیے۔پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر سر جیمز براڈ ووڈ لیال تھے اور اس وقت اس کا رقبہ 300 ایکٹر پر محیط تھا۔ جامعہ کا آغاز اورینٹل لرننگ کی ڈگریز سے ہوا۔شروع میں تو اورینٹل لرننگ،لیکن بعد میں ہر طرح کی فیکلٹی جامعہ پنجاب کا حصہ بن گئی۔ اب تو کوئی ایسا مضمون نہیں جو نہ پڑھایا جاتا ہو۔ محترم ڈاکٹرنیاز احمد نے جب اپنے عہدے کا چارج سنبھالا تو پنجاب یونیورسٹی میں 13 فیکلٹیز، 10کانسٹیٹیونٹ کالجز، 73 ڈیپارٹمنٹ تھے، جو موجودہ دور کی تعلیمی ضروریات کے مطابق ناکافی تھے۔ انہوں نے آئندہ پچاس سال کی ملکی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام فیکلٹیوں اور شعبہ جات کے ڈھانچے کو جدید دور کی تعلیمی و تحقیقی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کے لئے کام شروع کیا۔ ان کی محنت اور توجہ کی بدولت آج پنجاب یونیورسٹی میں کل 19 فیکلٹیاں قائم ہو چکی ہیں، جبکہ شعبہ جات کی تعداد اور سنٹر 150 ہو چکے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی فیکلٹیوں اور شعبہ جات کی تنظیم ِ نو سے ملکی سطح پر تعلیمی قیادت کے فقدان سے نمٹنے اور تمام شعبوں میں جدید تقاضوں کے مطابق بین الاقوامی معیار کے گریجوایٹس پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
پاکستان بننے کے بعد پنجاب یونیورسٹی کا ایک نیا سفر شروع ہوا تو حکومت وقت نے اس کو وسعت دینے کا سوچا اور اس کا ایک کیمپس شہر سے باہر بنانے کا فیصلہ کیا گیا اور 1962ء میں نہر کنارے جہاں اس وقت نیو کیمپس یا قائد اعظم کیمپس ہے یہاں انسٹی ٹیوٹ آف ایڈمنسٹریٹیو سائنسز کی بنیاد رکھی گئی۔اس کے بعد یونیورسٹی کا پھیلاؤ وسیع ہو گیا یہاں تقریباً 1700 ایکڑ پر نیو کیمپس بنایا گیا جہاں بڑے پیمانے پر ہاسٹلز بنائے گئے۔ اب بھی لگ بھگ 30 ہزار طلباو طالبات ہاسٹلز میں رہتے ہیں، جبکہ ان کیمپس میں 45000 سے زائد طلباء و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی نے ملک کے ہر شعبے میں گراں قدر خدمات دی ہیں۔اس ادارے نے کئی وزرائے اعظم اس ملک کو دیئے ہیں۔ کئی سائنس دان اور کئی انجینئر اور لاکھوں کی تعداد میں پروفیشنلز نے اس مادر علمی سے شناخت حاصل کی ہے۔تقسیم کے بعد پنجاب یونیورسٹی نے دو نوبل انعام یافتہ سائنس دان پیدا کیے۔پہلا انعام ڈاکٹر گوبند کھورانا نے میڈیسن کے شعبے میں 1968ء میں حاصل کیا، جبکہ فزکس کا نوبل انعام ڈاکٹر عبدالسلام کے حصے میں 1979ء میں آیا۔پنجاب یونیورسٹی اپنے بجٹ کا 70 فیصد اپنے وسائل سے پورا کرتی ہے۔ہم اب ریسرچ کے شعبے پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ یونیورسٹی کی عالمی درجہ بندی بہتر ہو، اسی لیے ہم نے کئی انسٹی ٹیوٹس کے ذیلی ڈیپارٹمنٹس بڑھا دیئے ہیں تاکہ ہر شعبے پر انفرادی توجہ دی جا سکے۔اب وقت آگیا ہے کہ جامعہ پنجاب کا سوشل ڈیویلپمنٹ میں بھی رول بڑھایا جائے اور یہاں کی تحقیقات کو نہ صرف عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو، بلکہ ان تحقیقات کا سماجی سطح پر پاکستان کے سوشل فیبرک میں ہمارا حصہ پہلے سے زیادہ ہو۔وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز صاحب نے ثابت کر دکھایا ہے کہ اگر پاکستان میں نیک نیت، دیانت دار اور اہل افراد کو اداروں کی سربراہی کا موقع دیا جائے تو اداروں کو کامیابی کے ساتھ چلایا جا سکتا ہے اور ان کی استعداد کارکو بڑھایا جا سکتا ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments