Wednesday, January 19, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالملاقانونیت اور عدم برداشت کا کینسر

لاقانونیت اور عدم برداشت کا کینسر

واقعات ہیں کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے۔ ایسے واقعات جو معاشرے میں وحشت اور بربریت کا پتہ دیتے ہیں۔ بات صرف سیالکوٹ کے سانحے کی نہیں یہاں تو ہر روز ایک معاشرتی المیہ جنم لیتا ہے۔ ایک دن پہلے فیصل آباد اور سرگودھا میں جو واقعات رونما ہوئے ہیں، وہ ہماری بربادی کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ یہ معاشرہ کیا جنگل بنتا جا رہا ہے اور قانون یہاں سے رخصت ہو گیا ہے؟ لوگ اپنے فیصلے آپ کرنے لگے ہیں اور فیصلے بھی انتہا پسندی تک جا کر کرتے ہیں۔ فیصل آباد کے بھرے بازار میں چار خواتین کو برہنہ کرنے کا واقعہ کسی مہذب معاشرے میں تو رونما نہیں ہو سکتا۔ اگر انہوں نے چوری کی تھی تو پولیس کو بلا کر اس کے حاولے کر دینا ہی مہذب پن کہلاتا۔ یہان تو ایسا گناہ کبیرہ اور جرمِ عظیم کیا گیا،جس کی کسی مذہب اور قانون میں نظیر نہیں ملتی۔ کسی چوری پر تو مرد کے کپڑے اتروانے کی اجازت بھی نہیں چہ جائیکہ خواتین کو زبردستی برہنہ کرکے سرِ بازار گھسیٹا جائے، ان کی وڈیو بنا کے وائرل کر دی جائے۔ دوسری طرف سرگودھا کا واقعہ ہے جہاں ایک غریب عورت کو صرف اس لئے جلایا گیا کہ بھتہ لینے والوں نے اس کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ بھتہ لینے والے اتنے بے خوف تھے کہ انہوں نے ایک مظلوم عورت کو بھی نہ چھوڑا، ایسے واقعات کے بعد قانون حرکت میں آ جاتا ہے۔ ملزمان گرفتار بھی ہو جاتے ہیں، مگر قانون کا خوف پھر بھی طاری نہیں ہوتا۔ کوئی دوسرا واقعہ جلد ہی پہلے واقعات کی جگہ لے لیتا ہے۔ ہر کوئی اس تلخ حقیقت کو محسوس کر رہا ہے کہ معاشرے میں لاقانونیت اور عدم برداشت بڑھ گئی ہے۔

کیا جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر کو ماؤ باغیوں نے نشانہ بنایا؟ انڈیا میں بحث چھڑ گئی
اس کے مظاہر آئے روز نظر آتے ہیں انفرادی سطح پر معمولی باتوں کو لے کر نوبت قتل و غارت تک پہنچ جاتی ہے۔ ایک اسسٹنٹ کمشنر کی سطح کا افسر بھی اس کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ اجتماعی سطح پر طبقاتی جنگ اپنے عروج پر نظر آتی ہے۔ ایک اسلامی معاشرے میں یہ صورت حال حد درجہ قابل تشویش ہونی چاہیے، مگر ہمارے ہاں کیا اشرافیہ، کیا علمائے کرام، کیا دانشور، کیا عمال تجارت، کیا عمال حکومت اپنے کردار و عمل سے عدم برداشت کو فروغ دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ قانون جس کی لاٹھی اس کی بھینس بن گیا ہے، جس کی وجہ سے ہر شعبے میں افراتفری اور انتہا پسندی در آئی ہے۔ یوں لگتا ہے ہم خانہ جنگی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ ماہرین معاشرت کہتے ہیں لاقانونیت اور انتہا پسندی اس وقت بڑھتی ہے جب معاشرے میں عدم برداشت کا کلچر فروغ پاتا ہے۔ دوسری طرف عدم برداشت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ریاست ایک ماں کا کردار ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے اور حالات کو مختلف طبقوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتی ہے۔ ہمارے ہاں عدم برداشت کا کلچر سب سے زیادہ سیاست نے پیدا کیا ہے۔ سیاستدانوں نے ہمیشہ جنگ و جدل کا سماں پیدا کئے رکھا۔ ایک دوسرے سے نفرت، بول چال بند، میل ملاقات ختم،اوپر سے سخت زبان، حتیٰ کہ گالم گلوچ، خاندان پر حملے، کردارکشی گویا وہ سب کچھ جو عدم برداشت کو بڑھاتا ہے۔ اس کا حالیہ مظاہرہ آصف علی زرداری نے بھی لاہور میں کیا اور نوازشریف کو سخت الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا، جس کے جواب میں طلال چودھری نے جو زبان استعمال کی وہ کشیدگی کو مزید بڑھا گئی۔ اب ایسے میں کوئی سمجھتا ہے کہ ملک میں برداشت کا کلچر پیدا ہو جائے گا تو اس کی معصومیت پر تالیاں بجانے کو جی چاہتا ہے۔


سب سے خطرناک بات یہ ہے ہماری نئی نسل میں لاقانونیت اور عدم برداشت کا رویہ بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے ہم نے انہیں ماحول ہی ایسا دیا ہے۔ انہوں نے جو کچھ اپنے اردگرد دیکھا اسی سے نتیجہ اخذ کیا ہے، کچھ انصاف کی کمزوریوں نے کام دکھایا اور کچھ لاقانونیت اور بالادست طبقوں کی ماورائے قانون سرگرمیوں نے کام دکھایا، کچے ذہنوں میں اپنے نظریات اتار کر سیاسی و مذہبی جماعتوں نے اس رویے کی آبیاری کی، تعلیمی اداروں میں عدم برداشت یہ روش زیادہ قوت سے پروان چڑھی، چند روز پہلے پنجاب یونیورسٹی لاہور میں طلبہ کے درمیان تصادم بھی اسی عدم برداشت کی ایک شکل تھی۔ تعلیمی اداروں پر اپنے قبضہ اور نظریات کو ٹھونسنے کی پالیسی ایسی صورت حال کو جنم دیتی ہے۔ ایک سیاسی جماعت کا ذیلی ونگ یہ سمجھتا ہے اس ادارے پر میری اجارہ داری ہو، میرا قانون چلے تو دوسرا اپنی چودھراہٹ چاہتا ہے۔ انتظامیہ بے بس ہو جاتی ہے اور معاملہ تصادم تک پہنچ جاتا ہے۔ عجیب بات ہے ہمارے ہاں اپنی عدالتیں لگانے، طاقت کے ذریعے اپنی بات منوانے کا رویہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ ایسے واقعات جو فیصل آباد اور سرگودھا میں ہوئے یا سیالکوٹ میں پیش آئے، کسی کے اندر یہ جذبہ نہیں ابھارتے کہ وہ آگے بڑھ کر اسے روکے، سیالکوٹ میں صرف دو نوجوان ایسے تھے، جنہوں نے آگے بڑھ کر پریانتھاکمارا کو سینکڑوں کے ہجوم سے بچانے کی کوشش کی باقی سب اسے مارنے پر تلے تھے۔ فیصل آباد میں بھی تماشا دیکھنے والے بیسیوں تھے، کسی نے بھی ان درندوں کو آگے بڑھ کر نہیں روکا جو عورتوں کو تشدد کے بعد برہنہ کر رہے تھے، بلکہ لوگ ان کی وڈیو بناتے رہے۔


پہلے کسی زمانے میں بات تفرقہ بازی تک محدود تھی، مسلکی اختلافات مسائل پیدا کرتے تھے اب تو چھوٹی چھوٹی باتوں، چھوٹے چھوٹے مسئلے اور چھوٹے چھوٹے طبقاتی مفادات بڑے بڑے واقعات کی وجہ بن جاتے ہیں۔ لوگ مرتے ہیں، لاشے گرتے ہیں اور امن و امان کی صورت حال سنگین شکل اختیار کر لیتی ہے۔ ہمارے ہاں کسی کو کافر قرار دینا تو کئی دہائیوں کی روایت ہے، اب توہینِ مذہب کے الزامات بھی لگا دیئے جاتے ہیں اور جو اس کی زد میں آ جائے وہ جرم ثابت ہوئے بغیر نفرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں پریانتھا کمارا کی یاد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ اب توہین مذہب اور توہینِ رسالتؐ کے الزام کی آڑ میں کسی کو شرپسندی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اسے سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اچھی بات ہے کہ انہوں نے یہ دوٹوک پیغام دیا ہے، مگر یاد رہے کہ ابھی چند ہفتے پہلے ہی ان کی حکومت نے ایسا کرنے والوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا اور ان کے سب ”جرائم“ بھی معاف کر دیئے، جب مصلحتیں آڑے آ جائیں تو قانون ایک مکڑی کا جالا بن جاتا ہے، جس میں کمزور پھنستے ہیں اور طاقتور نکل جاتے ہیں۔

چئیرمین کورٹ چوہدری محمد اختر کا مظفر آباد میں نیشنل سپیشل ایجو کیشن سنٹر کا دورہ
سوال یہ ہے کیا ہم بحیثیت قوم اس صورتِ حال پر اسی طرح آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہیں گے۔ ایک واقعہ ہو جائے گا تو ردعمل دیں گے وگرنہ انتظار کریں گے۔ کیا ہمارے اکابرین، مصلح، دانشور، سیاستدان اور تھنک ٹینک اس پر توجہ نہیں دیں گے۔ کیا جس نئے عمرانی معاہدے کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جا رہی ہے، اس کی پہلی شق ہی یہ نہیں ہونی چاہیے کہ پاکستان میں عدم برداشت اور لاقانونیت کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ کیا ہماری سیاسی قیادت اپنی اپنی تنگنائے سے نکل کر اس نکتے پر اکٹھی نہیں ہو گی کہ ملک میں برداشت کے کلچر کو فروغ دینا ہے اور اس کا آغاز اپنے آپ سے کرنا ہے۔ کیا یہ پیغام مختلف طبقوں، تنظیموں اور گلی محلے تک نہیں پہنچنا چاہیے کہ فیصلے کرنے کا اختیار ریاست کو ہے، فرد کو نہیں۔ عدم برداشت اور لاقانونیت گھر میں ہو، شہر میں ہو یا ملک میں کینسر کی طرح تباہی پھیلاتی ہے، کیا اب اس کے علاج کا وقت نہیں آ گیا، یا ابھی مزید کسی تباہی کا انتظار ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments