Monday, July 4, 2022
spot_imgspot_imgspot_imgspot_img
Homeکالمجب تک میں زندہ ہوں

جب تک میں زندہ ہوں

وزیراعظم عمران خان نے عدنان ملک کے اعزاز میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ: ”جب تک میں زندہ ہوں، سانحہء سیالکوٹ جیسے واقعات نہیں ہونے دوں گا“۔ عدنان ملک کو تمغہء شجاعت سے بھی نوازا گیا اور پوری کابینہ نے اس مردِ جری کی جوانمردی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ملک صاحب نے سری لنکن شہری پریانتھا کمارا کو بچانے کی کوشش کی تھی۔ سیالکوٹ کی ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن بھی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس کے کسی وکیل / ایڈووکیٹ نے سانحہء سیالکوٹ کے مجرموں کے مقدمات کی وکالت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وکلاء برادری کا یہ رویہ قابلِ ستائش ہے لیکن اسی برادری کا کوئی رکن سیالکوٹ ڈسٹرکٹ بار سے نہیں تو کسی اور ڈسٹرکٹ بار سے آکر وکالت کے یہ ’فرائض‘ سنبھال لے گا…… اللہ اللہ خیر سلّا!…… ہمارے وکلاء کی وکلاء گردی ایک طویل عرصے سے پاکستانی معاشرہ دیکھ رہا ہے۔ ابھی کل ہی کی بات ہے کہ اسی سیالکوٹی علاقے کی ایک اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ جو سلوک وکلاء برادری نے کیا اس کے بالمقابل وکلاء کا یہ بیان کہ وہ مجرمینِ سانحہء سیالکوٹ کے خلاف عدالت میں پیش نہیں ہوں گے، ایک طرح کا بہت روح افزا شربت ہے۔سوچتا ہوں امن و سلامتی کے نام پر جو ملک حاصل کیا گیا تھا، ہم نے اس کا کیا حال بنا دیا ہے۔ ہم اور ہمارے سیاسی قائدین گاہے ماہے اس قسم کے بیان داغتے رہتے ہیں کہ ’ابکے‘ اگر ایسا سانحہ ہوا تو ہم ذمہ داران کا تیاپانچہ کر دیں گے لیکن ذمہ دار دندناتے پھرتے رہے ہیں اور پھر رہے ہیں۔ ”شیرآیا، شیر آیا“ کی رٹ بار بار لگائی جاتی ہے لیکن شیر کبھی آتا ہی نہیں۔ سوچتا ہوں کہ ’شیر‘ کیسے آ سکتا ہے۔ جب ہمارے سیاستدان، ہمارے وکلاء، ہماری عدالتیں اور ہمارا میڈیا اس شیر کی آمد کا منتظر رہتا ہے لیکن یہ شیر ایک ایسی حقیقتِ منتظر ہے کہ کبھی لباسِ مجاز میں نظر نہیں آتی۔کیا ہمارا معاشرہ اتنا ہی بے حس ہو چکا ہے کہ انسانی نفسیات کا کوئی ادراک، کوئی احساس نہیں رکھتا؟…… اگر ہم نے دوسرے ترقی یافتہ معاشروں کے میڈیا ہاؤسز سے کچھ سبق نہیں سیکھنا تو خدارا اپنے میڈیا ہاؤسز کو تو کم از کم معطل کر دیں (اگر مکمل بندش کا یارا نہیں)…… میڈیا کا اگر ایک پروگرام کسی حکومتی اقدام کے حق میں ہوتا ہے تو دوسرا اس کی بھرپور مخالفت میں آ جاتا ہے، اگر ایک ٹاک شو کے موضوع پر شرکائے مباحثہ کا ایک رکن مشرق کو جاتا تو دوسرا مغرب کا رخ کرتا ہے۔ یعنی ہمارا یہ میڈیا گویا دو قطبین کو ملانے کا کردار ادا کر رہا ہے۔ کیا ہم نہیں جانتے کہ یہ قطبین آپس میں کبھی نہیں ملتے۔ اس میڈیا کی رسائیاں دور تک ہیں اور ہم بے خبر سو رہے ہیں۔ کوئی معاشرہ جس کی رِدا دلدوز جرائم سے تار تار ہو اور اس میں وحوش و بہائم کی اکثریت ہو اور اس کا وزیراعظم اگر مسلسل یہ راگ الاپے کہ ریاست مدینہ کا احیاء میرا مقصود ہے تو ایسے لیڈر کو آپ کیا نام دیں گے؟ اگر آپ نے واقعی ریاست مدینہ کی پیروی کرنی ہےخاتم الانبیاؐ کے اس فرمان کو یاد کریں کہ ”اگر میری بیٹی فاطمہؓ بھی چوری کرتی پکڑی جائے گی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹنے کا حکم دوں گا“…… کیا ہم اسلام کا نظامِ عدل رائج کر رہے ہیں؟ اگر آپ زبان سے ”لا الہ“کہے جائیں گے لیکن دل و نگاہ مسلمان نہیں ہوں گے تو یہ دہرا معیار اور یہ تناقض (Anamoly) کب تک چلے گی؟ وزیراعظم دیکھتے رہے ہیں کہ ان کو تین سالوں میں ایک صوبے کے IGs کو پانچ سات بار بدلنا پڑا ہے، اعلیٰ بیورو کریسی کا بھی یہی حال ہے، عدالتوں کا ذکر اوپر کر آیا ہوں اور باقی فوج رہ گئی تو ہمارے آرمی چیف نے سانحہء سیالکوٹ پر بھی دکھ کا اظہار کیا ہے لیکن اظہارِ درد ایک بات ہے اور علاجِ درد بالکل دوسری بات ہے۔ ہم سب نے دعویٰ تو کر دیا ہے کہ سری لنکن مقتول کے قتل کا حساب لیں گے لیکن دنیا ہمارے ماضی کو دیکھتی ہے اور ہنستی ہے کہ پاکستانیوں کا قول و فعل، تضادات کا کیسا مجموعہ ہے۔ خدارا اگر آپ نے انصاف ہوتا ہوا دکھانا ہے تو زیادہ دیر نہ کریں۔ سانحہء سیالکوٹ کے مجرموں کا جرم ان کے دماغ میں ہے، ہاتھوں میں نہیں اور وہ مرورِ ایام سے پختہ تر ہوتا جاتا ہے۔ آئے روز ہمارا میڈیا سماجی، سیاسی، دینی، اقتصادی اور نفسیاتی ”انہونیاں“ دکھا رہا ہے لیکن وہ تو خود ایک ”انہونی“ بن چکا ہے۔ کسی میڈیا ہاؤس کی کوئی قومی پالیسی نہیں۔ پاکستان کی اساسی کمزوری اس کے عوام اور اس کے صاحبانِ اقتدار کی اکثریت کے دماغوں میں ہے،جب تک یہ دماغ صاف نہیں ہوں گے، ریاست مدینہ کی تقلید کا تاثر و تصور ایک خواب بنا رہے گا۔ حکمرانوں کو یا تو اس خواب کی تعبیر کے لئے ایک بڑا سا کڑوا گھونٹ نگلنا پڑے گا یا یہ خواب دائمی بن جائے گا، ساری پاکستانی قوم محوِ خواب رہے گی، اس کی بیداری کی جھلکیاں اگر میڈیا پر نہیں لائی جائیں گی تو یہ دعویٰ ذہن سے نکال دیں کہ ”جب تک میں زندہ ہوں، سانحہء سیالکوٹ جیسے واقعات نہیں ہونے دوں گا!“

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -spot_img

Most Popular

Recent Comments

AllEscortAllEscort