0

ہم کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ وزیراعظم

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہم کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ یہ ایک چھبتا ہوا سوال ہے۔اسلام آباد میں خواتین کے حقوق سے متعلق ویمن پاور انیشیٹو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہماری خواتین ملکی آبادی کا نصف سے زائد ہیں اور اس معاشرے کا اہم حصہ ہیں جو ملک کے اہم عہدوں پر خدمات سرانجام دے رہی ہیں، ہم 75 برس میں خواتین کو مواقع اور حقوق فراہم نہیں کرسکے اور دوسری قومیں اس معاملے میں ہم سے آگے بڑھ گئیں جب کہ ہم ابھی تک سفر طے کررہے ہیں۔آئی ایم ایف کا پروگرام مجبوری میں قبول کیا، وزیراعظم انہوں ںے کہا کہ سعودی عرب نے دو ارب ڈالر دے کر ایک بار پھر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا لیکن ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے اور کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے؟ یہ ایک چھبتا ہوا سوال ہے، ہمارے لیے سب سے بڑا چیلنج معاشی ترقی اور خوشحالی کا ہے، رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا ایسا کریں گے تو تباہی ہمارا مقدر ہوگی، ہمیں ماضی میں جھانکنے کے بجائے ماضی سے سبق حاصل کرنا ہوگا۔اگر پاکستان کو ترقی دینی ہے تو مردوں اور خواتین کو مل کر ملک کے لیے کام کرنا ہوگا، یہ ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک آئی ایم ایف کے پاس جاتے رہیں گے، یہ قرضے اصل میں زنجیریں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں