0

نہ جے شاہ، نہ بھارتی ٹیم پاکستان آئے گی! آئی پی ایل چیئرمین

انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے چیئرمین ارون دھومل نے انکشاف کیا ہے کہ پاک بھارت بورڈ سربراہان کی ملاقات کے باوجود بھارت ایشیاکپ کیلئے پاکستان کا دورہ نہیں کرے گا۔بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے چیئرمین ارون دھومل کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ذکا اشرف اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے سربراہ جے شاہ کے درمیان ملاقات ہوئی تھی تاہم ایسی کوئی بات نہیں ہوئی کہ بھارتی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی یا ہمارے سیکریٹری پاکستان جائیں گے۔رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں ایشیاکپ اور ورلڈکپ کے شیڈول کو حتمی شکل دی گئی ہے۔ذکا اشرف سے ملاقات، جے شاہ نے پاکستان میں ایشیاکپ دیکھنے کی دعوت قبول کرلی گزشتہ روز خبریں گردش کررہیں تھی کہ پاک بھارت کرکٹ تعلقات میں برف پگھلنا شروع ہوگئی ہے، ذکا اشرف اور جے شاہ کی ملاقات میں دونوں ممالک کے مابین دو طرفہ کرکٹ تعلقات پر بات چیت ہوئی جس میں دونوں بورڈ عہدیداران نے کرکٹ روابط میں بہتری لانے پر اتفاق کیا۔ذکا اشرف نے جے شاہ کو ایشیاکپ دیکھنے پاکستان آنے کی دعوت دی جو جے شاہ نے قبول کرلی ہے، جواب میں جے شاہ نے ذکا اشرف کو بھارت آکر ورلڈکپ دیکھنے کی دعوت دی جس کو چیئرمین پی سی بی نے خوش دلی سے قبول کیا تھا۔قبل ازیں وفاقی وزیر برائے بین الصوبائی رابطہ احسان مزاری نے بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) کو سخت وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایشیاکپ کی طرح اپنائے گئے ہائبرڈ ماڈل کے تحت پاکستان کو بھی غیر جانبدار مقام کی درخواست کرنے کا حق حاصل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بی سی سی آئی پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میری وزارت کے ماتحت آتا ہے، اگر بھارت اپنے ایشیاکپ کے میچز کسی غیر جانبدار مقام پر کھیلنے کا مطالبہ کرتا ہے، تو ہم بھارت میں ہونے والے ورلڈکپ کے لیے بھی یہی مطالبہ کریں گے۔پاکستان کی شمولیت پر غیر یقینی کے سائے منڈلانے لگےاحسان مزاری نے کہا کہ پاکستان ایشیاکپ کے میزبان ہے اور تمام میچز کروانے کا حق رکھتا ہے، کرکٹ کے شائقین یہی چاہتے ہیں کہ ہمیں ہائبرڈ ماڈل منظور نہیں۔بھارت کی جانب سے پاکستان کا سفر کرنے سے انکار کے بعد ایشیا کپ 2023 ایک ہائبرڈ ماڈل کے تحت کھیلا جائے گا جبکہ پاکستان اور سری لنکا اس ٹورنامنٹ کی مشترکہ میزبانی ہوں گے، بھارت کے میچ سری لنکا میں شیڈول رکھے گئے ہیں جبکہ پاکستان صرف 4 میچون کی میزبانی کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں