0

کینسر کے آخری اسٹیج میں علاج ’بیکار‘ ہوجاتا ہے، تحقیق

کنیکٹی کٹ: ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کینسر کے آخری اسٹیج میں مریضوں کیلئے علاج بنیادی طور پر ’بیکار‘ ہوجاتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق جاما اونکولوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کیموتھراپی، امیونو تھراپی، ٹارگٹڈ تھراپیز اور ہارمون تھراپی جیسے کینسر کے مختلف طریقہ علاج ایسے مریضوں کو بچانے میں ناکام ہوجاتے ہیں جن میں کینسر کا آخری اسٹیج ہے اور وہ موت کے قریب ہیں۔
ییل کینسر سینٹر کی ایک ایسوسی ایٹ ریسرچ سائنسدان مورین کیناوان نے کہا کہ چونکہ ہمیں ایسے مریضوں کی بقا کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، لہٰذا اس لیے تمام آنکولوجسٹ کو چاہیے کہ وہ صاف صاف اور ایمانداری کے ساتھ اپنے مریضوں کو حقیقت سے آگاہ کردیں۔ اس حالیہ مطالعے کے بعد تو آنکولوجسٹس کو اس بات پر اور زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں