0

عالمی بینک کی معاشی استحکام کے لیے پاکستان کو مکمل حمایت کی یقین دہانی

اسلام آباد: پاکستان اور عالمی بینک نے اصلاحات اور ترقی کا ایجنڈا آگے بڑھانے کے لیے ایک نئے مضبوط اور پرجوش کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک پر کام کرنے پر اتفاق کرلیا ہے اور عالمی بینک نے معیشت کو مستحکم کرنے، جامع اور لچکدار ترقی کو تیز کرنے کے لیے مکمل تعاون اور حمایت کی یقین دہانی کروائی ہے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے عالمی بینک کے نائب صدر برائے جنوبی ایشیا مارٹن رائسر نے پاکستان کا تین روزہ دورہ مکمل کر لیا اور انہوں نے اپنے دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) ملک امجد زبیر ٹوانہ سمیت دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔جنوبی ایشیا کے لیے عالمی بینک کے نائب صدر مارٹن رائسر نے وفد کے ہمراہ وزیراعظم میاں شہباز شریف سے ملاقات کے موقع پر پاکستان میں عالمی بینک کے کنٹری نمائندے ناجی بینہسین بھی موجود تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے مارٹن رائسر کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کی ترقی میں عالمی بینک کے تعاون اور پاکستان میں 2022 کے سیلاب کے تناظر میں موسمیاتی لچکدار انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے لیے بینک کی طرف سے دی جانے والی امداد کو بھی سراہا۔انہوں نے وفد کو حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کے بارے میں بتایا جس میں ٹیکس کے پورے نظام کی ڈیجیٹائزیشن، پاور سیکٹر میں اصلاحات، زرعی شعبے میں فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ، بچوں کی نشوونما کے مسئلے حل کرنا شامل ہیں۔پاکستان کے جارحانہ اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہتے ہوئے مارٹن رائسر نے کہا کہ عالمی بینک پائیدار ترقی کے مقصد سے معیشت کی تبدیلی کے سفر میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔دونوں فریقین نے ایک نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے تحت ایک طویل مدتی شراکت داری میں شامل ہونے پر اتفاق کیا، جس میں سالانہ جائزہ میکانزم کے ساتھ پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ نتائج حاصل ہوں، حکمت عملی میں مستقبل کی ضروریات کی شمولیت کے لیے لچک شامل ہوگی۔ترجیحات کے جن شعبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں ڈھانچہ جاتی اقتصادی اصلاحات بشمول گھریلو وسائل متحرک کرنا خاص طور پر ڈیجیٹلائزیشن اور ٹیکس پالیسی میں اصلاحات شامل ہیں۔اجلاس میں نسانی سرمائے کی نشوونما خاص طور پر بچوں کی نشوونما اور بنیادی تعلیم بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اسی طرح توانائی کے شعبے میں اصلاحات، بشمول ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن میں نجی شعبے کی شراکت میں اضافہ اور توانائی کو سستا، صاف ستھرا اور مالی طور پر پائیدار بنانے کے لیے گرین انرجی کی طرف منتقلی پر بھی اتفاق کیا گیا۔زرعی شعبے سمیت معاشی مواقع میں اضافے کے لیے پاکستان عالمی مہارت اور بہترین طریقوں کو متحرک کرنے، ادارہ جاتی صلاحیت کی تعمیر، ڈیجیٹل تبدیلی سے فائدہ اٹھانے اور نجی شعبے کی شراکت میں عالمی بینک، نجی شعبے، بین الاقوامی مالیاتی ادارہ، کارپوریشن اور کثیرالجہتی سرمایہ کاری کی گارنٹی ایجنسی کے ذریعے عالمی سطح کی مہارت سے فائدہ اٹھائے گا۔دونوں فریقین نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ نئے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کی تیاری کا عمل وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم، ارکان پارلیمنٹ، سول سوسائٹی، ترقیاتی شراکت داروں اور نجی شعبے کے ساتھ مشاورت پر مشتمل ہوگا۔عالمی بینک اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطہ قائم کرے گا تاکہ شراکت داری کی ترجیحات پر بات چیت کی جائے جو حکومت پاکستان کی کلیدی ترقیاتی ترجیحات اور حکمت عملی کے مطابق ہیں۔عالمی بینک کے کنٹری نمائندے مسٹر ناجی بینہسین اور سیکریٹری اقتصادی امور ڈویژن ڈاکٹر کاظم نیاز نے اس سلسلے میں اعلامیہ پر دستخط کردیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں