0

گوگل کی جانب سے طبی چیٹ بوٹ کی آزمائش شروع

حال ہی میں جدید سُپر کمپیوٹرز سے زیادہ تیز کام کرنے والا کمپیوٹر بنانے کا اعلان کرنے والی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اب مایو کلینک اور دیگر اسپتالوں میں میڈ-پی اے ایل ایم 2(Med-PaLM 2) مصنوعی ذہانت کی چیٹ ٹیکنالوجی کی آزمائش کر رہی ہے۔یہ ٹیکنالوجی گوگل I/O تقریب میں لانچ کرائے جانے والے کمپنی کے پی اے ایل ایم 2 لارج لینگوئج ماڈل (ایل ایل ایم) پر مبنی ہے جو چیٹ جی پی ٹی کے حریف گوگل بارڈ کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق بیس ماڈل کے برعکس Med-PaLM 2 کی تربیت میڈیکل لائسنسنگ کے امتحانات کے سوال و جواب سے کی گئی ہے اور اس کی معلومات طبی ماہرین کے عملی مظاہروں سے ترتیب دی گئی ہےجو اس ماڈل کو صحت سے متعلق سوالات کے جواب دینے میں مہارت دیتا ہے اور اس کے ساتھ یہ ماڈل محنت طلب کام جیسے کہ دستاویزات کی تلخیص اور تحقیقی ڈیٹا کا ترتیب بھی کرسکتا ہے۔I/O تقریب کے دوران گوگل نے ایک مقالہ جاری کیا تھا جس میں Med-PaLM2 کے متعلق تفصیلات موجود تھیں۔گوگل کے مطابق جدید ماڈل ایسے ممالک میں جہاں ڈاکٹروں تک محدود رسائی ہوتی ہے انتہائی اہم ثابت ہوسکتا ہے۔ البتہ، کمپنی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ یہ ٹیکنالوجی ابھی اپنے ابتدائی مراحل میں ہے۔دوسری جانب مائیکرو سافٹ بھی اوپن اے آئی کے چیٹ جی پی ٹی پر مبنی مصنوعی ذہانت کا طبی چیٹ بوٹ بنا رہی ہے، جس کے لیے ٹیک جائنٹ نے ہیلتھ کیئر سافٹ ویئر کمپنی ’ایپِک‘ کے ساتھ ہاتھ ملائے ہیں۔رواں برس مارچ میں گوگل کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ کمپنی اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی الٹرا ساؤنڈ تشخیص اور کینسر تھیراپی کے لیے استعمال کرنے پر کام کر رہی ہے۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں