0

فیض آباد دھرنا؛ سپریم کورٹ فیصلے پرعمل درآمد کیس کی سماعت شروع

اسلام آبادسپریم کورٹ میں فیض آباد دھرنا نظرثانی کیس کی سماعت شروع ہوگئی۔ چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسٰی کی زیر سربراہی بینچ میں جسٹس امین الدین خان اور جسٹس اطہر من اللہ شامل ہیں۔سماعت شروع ہونے سے قبل وفاقی حکومت نے فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے کمیشن تشکیل دیا جس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ شیخ رشید کی نظرثانی درخواست واپس لینے پر سپریم کورٹ نے خارج کر دی۔چیف جسٹس نے شیخ رشید سے استفسار کیا کہ آپ نے نظرثانی کی درخواست دائر ہی کیوں کی تھی، نظرثانی دائر کر کے چار سال لٹکائے رکھا۔ یہ نہیں ہوگا کہ اوپر سے حکم آیا ہے تو نظرثانی دائر کر دی۔وکیل شیخ رشید نے کہا کہ کچھ غلط فہمی پیدا ہوئی تھی اس لیے نظرثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سچ سب کو پتہ ہے بولتا کوئی نہیں کوئی ہمت نہیں کرتا، وکیل شیخ رشید نے کہا کہ آج کل تو سچ بولنا اور ہمت کرنا کچھ زیادہ مشکل ہوگیا ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آج کل کی بات نہ کریں ہم اس وقت کی بات کر رہے ہیں۔عدالت نے 12 درخواستیں واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی تھیں جبکہ فیض آباد دھرنا کیس میں گزشتہ سماعت پر وزارت دفاع اور آئی بی کی نظرثانی درخواست واپس لینے کی استدعا منظور کی تھی۔پی ٹی آئی، ایم کیو ایم اور اعجاز الحق کی درخواست بھی واپس لینے کی بنیاد پر نمٹا دی گئیں۔ عدالت نے فیض آباد دھرنا کیس میں شیخ رشید کو نظرثانی واپسی لینے کے لیے مہلت دی تھی۔سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے بنائی گئی فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی مسترد کی تھی۔ اٹارنی جنرل آج عدالت کو انکوائری کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے آگاہ کریں گے۔سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کی ٹی ایل پی کے فارن فنڈنگ کی تفصیلات مسترد کی تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں