0

انگلینڈ کیوں برا کھیلا؟ کیا وہ ہمارے سسٹم کا حصہ تھا، عامر کا سوال

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر کا کہنا ہے کہ آئی سی سی ورلڈکپ 2023 کے دوران پاکستان کی خراب کارکردگی کا ذمہ دار سسٹم کو نہیں ٹھہرانا چاہیے۔مقامی ٹی وی چینل کو دئیے گئے انٹرویو میں قومی ٹیم کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے کہا کہ میں بابراعظم کی کپتانی سے ذرا برابر متاثر نہیں ہوں، انہیں اپنی سوچ بدلنا ہوگی، 5 اور 6 افراد کو پاکستان کرکٹ چلانے کی ذمہ داری دی گئی ہے، کپتان بھی ان میں سے ایک ہیں۔1992 میں عمران خان کی قیادت میں ہم نے ورلڈکپ جیتا، یہی سسٹم تھا، 1999 میں ہماری ٹیم فائنل تک پہنچی، 2009 کا ٹی20 ورلڈکپ جیتا اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی بھی اسی سسٹم میں رہ کر جیتی گئی تھی۔بابراعظم 4 سال سے کپتان ہیں، انہوں نے اپنی ٹیم مکمل طور پر خود بنائی۔ بٹلر ہمارے سسٹم کا حصہ نہیں تو پھر انگلینڈ نے اتنا برا کیوں کھیلا؟ کیا انگلینڈ کے نظام کو بھی تبدیلی کی ضرورت ہے؟ 2015 کی شکست کے بعد مورگن نے کہا کہ میں اس برانڈ کی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں، مجھے یہ 25 کھلاڑی چاہیے۔سسٹم جوں کا توں رہا، کپتان ہی ہے جس نے اپنا مائنڈ سیٹ بدلا، جب تک کپتان کا مائنڈ سیٹ نہیں بدلے گا، سسٹم کچھ نہیں کرسکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں