0

آئی جی پنجاب کی کانسٹیبل کی برطرفی کی درخواست خارج

سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے کانسٹیبل کی برطرفی کی درخواست خارج کردی۔سپریم کورٹ نے پنجاب پولیس کے کانسٹیبل کی برطرفی کے کیس کی سماعت کی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ کانسٹیبل اسلم ایک خاتون کے ساتھ گھر میں نازیبا حرکات میں ملوث پایا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خاتون تو کہتی ہے کہ کانسٹیبل اس کا شوہر ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ نجی گھر میں بغیر وارنٹ کے پولیس ریڈ کیسے کر سکتی ہے؟ پولیس غیر قانونی ریڈ کر کے اپنے اختیار کا ناجائز استعمال کر رہی ہے، کیا پولیس کے غیر قانونی اقدام کی سپریم کورٹ توثیق کرے؟چیف جسٹس پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے ایس پی انویسٹی گیشن بہاولنگر کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کیا بہاولنگر میں آج کرائم ریٹ صفر ہے جو ایس پی خود اٹھ کر ایک معمولی کیس کے لیے سپریم کورٹ آ گئے؟ کیا پولیس افسران اپنے ذاتی خرچ پر آئے ہیں یا سرکار سے ٹی اے ڈی اے لیں گے؟، افسران تو ایسے آئے جیسے یہ اتنا بڑا کیس ہے کہ اس سے تو پاکستان کی دیواریں ہل جائیں گی۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے جواب دیا کہ پولیس افسران کے مطابق انہیں ہدایات ہیں کہ سپریم کورٹ عدالت نمبر ایک میں کیس میں خود پیش ہوں۔عدالت نے کانسٹیبل اسلم کی برطرفی کی آئی جی پنجاب کی درخواست خارج کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے کانسٹیبل اسلم کی برطرفی ختم کر دی تھی۔ آئی جی پنجاب نے برطرفی کی درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں