0

چوہے بھی تصور کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، تحقیق

بحیثیت انسان ہم اپنے خیالات میں رہتے ہیں، کوئی رات کو کھانے میں کیا بنانا ہے اس بارے میں سوچ رہا ہوتا ہے یا پھر کوئی کسی خوبصورت ساحل سمندر پر اپنی چھٹیاں گزارنے کے بارے میں خواب دیکھ رہا ہوتا ہے۔ لیکن کیا ہو اگر کوئی جانور بھی ایسے ہی خواب دیکھتا ہو۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ہوگورٹس ہیوجس میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایچ ایچ ایم آئی) کے جینیلیا ریسرچ کیمپس کے محققین نے نئے مطالعے میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ جانور بھی تخیل کے مالک ہوتے ہیں۔ لی اینڈ ہیرس لیبز کی ایک ٹیم نے چوہے کے خیالات کی تحقیقات کے لیے ورچوئل رئیلٹی اور دماغی مشین کے انٹرفیس کو ملا کر ایک نیا نظام تیار کیا۔انہوں نے پایا کہ انسانوں کی طرح جانور بھی ان جگہوں اور اشیاء کے بارے میں تصور کر سکتے ہیں جو ان کے سامنے نہیں ہیں، اپنے خیالات کا استعمال کرتے ہوئے کسی مقام پر چلنے یا کسی دور دراز چیز کو کسی خاص جگہ پر منتقل کرنے کا تصور تک کر سکتے ہیں۔انسانوں کی طرح جب چوہا جگہوں اور واقعات کا تجربہ کرتے ہیں، تو دماغ کے حصے ہپپوکیمپس میں مخصوص اعصابی سرگرمی کے نمونے متحرک ہو جاتے ہیں۔ ہیپوکیمپس دماغ کا ایک علاقہ ہوتا ہے جو مقامی یادداشت کے لیے ذمہ دار ہے۔ نئے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ چوہے رضاکارانہ طور پر اس میں ایسی سرگرمی کے پیٹرن پیدا کرسکتے ہیں جس سے وہ دور دراز کے مقامات کا تصور کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں