0

اسرائیل کی پناہ گزین کیمپ پر وحشیانہ بمباری؛ 200 فلسطینی شہید اور 700 زخمی

اسرائیل نے غزہ میں جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر تیسری بار بمباری کی اور اس بار کی وحشیانہ کارروائی میں 200 فلسطینی شہید اور 700 سے زائد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیل نے آج مسلسل تیسرے روز بھی جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر بمباری کی۔ جس میں ایک گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور آس پاس کی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔اس وحشیانہ بمباری کے بعد اقوام متحدہ نے اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ جبالیہ پنای گزین کیمپ پر بمباری جنگی جرائم کے ذمرے میں آسکتی ہے۔ اسرائیل باز رہے۔اسرائیل کی جبالیہ پناہ گزین کیمپ پر بمباری میں شہید ہونے والوں کی تعداد 200 تک جاپہنچی جب کہ 777 فلسطینی زخمی ہیں اور 120 لاپتا ہیں۔ جن کے بارے میں خدشہ ہے کہ وہ تباہ ہونے والی عمارتوں کے ملبے میں دبے ہوئے ہیں۔غزہ پر 7 اکتوبر سے اسرائیلی بمباری میں اب تک 8 ہزار 700 سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں نصف تعداد بچوں اور خواتین کی ہیں جب کہ 22 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔اسرائیلی جارحیت پر اس کا سب سے بڑا حمایتی امریکا بھی جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کرنے لگا ہے۔ صدر جوبائیڈن جو جنگ بندی کو حماس کے مضبوط ہونے کا باعث سمجھتے تھے نے اب کہا ہے کہ انسانی ہمدردی کے تحت جنگ میں توقف کی حمایت کرتے ہیں۔اسرائیلی بمباری میں چار بڑے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں جن میں ملک کا واحد کینسر کا اسپتال بھی شامل ہے جب کہ اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث غزہ میں ایندھن کی فراہمی نہ ہونے سے اسپتال کے جنریٹرز بند ہونے کا خدشہ ہے۔اسرائیل نے 7 اکتوبر سے غزہ کو بجلی، خوراک، پانی اور ایندھن کی فراہمی بند کر رکھی ہے جب کہ رفح کراسنگ کو قطر کی ثالثی کے باعث محدو پیمانے پر کھول دیا گیا۔ اور 100 سے زائد امدادی ٹرکوں کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دیدی گئی۔اسی طرح غزہ سے مصر میں داخل ہو کر علاج کرانے یا انخلا کے لیے بھی 596 غیرملکیوں اور دہری شہریت کے حامل افراد کو رفح بارڈر سے جانے دیا گیا۔واضح رہے کہ 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں 8 ہزار 800 کے قریب فلسطینی شہید اور 22 ہزار سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جب کہ 1400 سے زائد اسرائیلی بھی مارے گئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں