0

غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں 500 فلسطینی شہید

غزہ کے اسپتال پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں 500 سے زائد فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے الاحلی اسپتال کو نشانہ بنایا گیا جہاں 10 روز سے جاری اسرائیلی بمباری میں زخمی ہونے والے شہریوں کو مسلسل طبی امداد کیلئے لایا جارہا تھا۔غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اسپتال پر ہونے والے حملے میں کم از کم 500 افراد شہید ہوئے ہیں۔ اسرائیلی افواج نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام اسکول میں موجود پناہ گزینوں کو بھی نشانہ بنایا۔فلسطینی صدر محمود عباس نے غزہ کے الاحلی اسپتال پر فضائی حملے کے بعد تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ غزہ میں حماس حکومت کے میڈیا آفس نے اسپتال پر حملے کو جنگی جرم قرار دیا ہے۔سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب روس اور متحدہ عرب امارات نے غزہ میں اسپتال پر اسرائیلی میزائل حملے کے بعد 18 اکتوبر کو صبح 10 بجے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کردی ہے۔حماس سربراہ کے گھر پر بھی بمباری دریں اثنا فلسطین کی مزاحمت کار تنظیم حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کے گھر پر اسرائیلی فورسز نے فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے۔فلسطین کے محکمہ صحت کے ذرائع نے بتایا کہ غزہ شہر میں واقع شیخ ردوان میں اسماعیل ہنیہ کا گھر تھا جس کو اسرائیلی فورسز نے نشانہ بنایا۔ میزائل حملے کے نتیجے میں اُن کی فیملی کے 14 افراد شہید ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطابق اسرائیلی فورسز کی کارروائی کے نتیجے میں قطر میں مقیم حماس کے سربراہ کے بھائی، بیٹے اور بھانجے کی شہادت ہوئی ہے۔عالمی برادری کی مذمت پاکستان سمیت عالمی برادری نے اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں اسپتال کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ترکیہ، سعودی عرب، اردن، سمیت کئی ممالک نے بھی اسپتال پر حملے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے غزہ کے اسپتال پر صیہونی فوج کے بھیانک حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔مختلف ممالک میں احتجاج الاحلی اسپتال پر حملے کیخلاف مختلف ممالک میں شدید احتجاج کیا گیا، کولمبیا نے اسرائیلی سفیر کو ملک بدر کردیا۔ اردن میں اسرائیل کے سفاتخانے کو آگ لگادی گئی۔استنبول میں ہزاروں افراد نے اسرائیلی قونصل خانے کے باہر شدید احتجاج کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں