0

الٹراساؤنڈ لہروں سے پلاسٹک آلودگی کو دور کرنے کا طریقہ کار متعارف

پلاسٹک کے چھوٹے چھوٹے ذرات دنیا بھر میں پانی کو آلودہ کرتے ہیں بشمول پینے کا پانی اور ساتھ ہی ہوا اور بہت سی خوراک کو بھی۔ تاہم اب محققین کی ایک ٹیم نے الٹراساؤنڈ لہروں کی مدد سے اسے ختم کرنے کا طریقہ کار متعارف کروایا ہے۔اعداد و شمار ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم سب کے جسم میں بھی مائیکرو پلاسٹک موجود ہیں اور سائنسدانوں کو ابھی تک ان پلاسٹک کے ذرات سے لاحق تمام خطرات کا مکمل علم نہیں ہے جو کہ 5 ملی میٹر (0.2 انچ) جتنے یا اس بھی چھوٹے ہوتے ہیں۔کچھ پلاسٹک کے اجزاء زہریلے ہو سکتے ہیں۔ اور بہت سے آلودگی پھیلانے والے کیمیکل کے ساتھ مل زہریلا مادہ تیار کرسکتے ہیں۔ اسی طرح وائرس اور بیکٹیریا بھی اس متحرک ہو سکتے ہیں ۔ حیرت کی بات نہیں کہ پلاسٹک کے یہ ٹکڑے دریاؤں سے لے کر سمندر تک ہر چیز میں جنگلی حیات کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔میناکے پیاسینا نیو میکسیکو انسٹی ٹیوٹ آف مائننگ اینڈ ٹیکنالوجی میں کیمیا دان ہیں۔ انہوں نے نیلم پریرا کے ساتھ مل کر نئے پراجیکٹ پر کام کیا۔ ماضی میں، پیاسینا نے جرثوموں اور دیگر خلیوں کو سیالوں سے الگ کرنے کے لیے الٹراساؤنڈ کی لہروں کا استعمال کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اس پر غور کیا تھا کہ کیا ہوگا اگر ہم مائکرو پلاسٹک کو مرتکز کرنے کے لیے اس طریقہ کو استعمال کر سکیں؟۔مذکورہ بالا طریقہ کار میں محققین آلودہ پانی کو ایک ٹیوب کے نیچے بھیجتے ہیں۔ پلاسٹک کے ٹکڑے پورے مائع میں پائے جا سکتے ہیں۔ ٹیوب کا پانی ٹرانسڈیوسر کے پاس سے گزرتا ہے، ایک ایسا آلہ جو برقی توانائی کو صوتی توانائی میں تبدیل کرتا ہے۔ یہ الٹراساؤنڈ لہریں بناتا ہے جو ٹیوب کے ایک طرف سے دوسری طرف سفر کرتی ہیں اور مائع کو گونج کے ذریعے اچھالتی ہیں جس کے بعد یہ لہریں مائع میں موجود مائیکرو پلاسٹک ذرات سے ٹکراتی ہیں اور زرات کو اس طرح مائع سے الگ کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں