0

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس؛ یہ آج اس سماعت کا آخری دن ہے، چیف جسٹس

سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ آج اس سماعت کا آخری دن ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت، سپریم کورٹ میں پریکٹس پروسیجر کیس میں اضافی دستاویز جمع کرائی گئیں۔اضافی دستاویز میں پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کی پارلیمنٹ کارروائی کا ریکارڈ جمع کرایا گیا۔ درخواست گزار امیر خان کی جانب سے وکیل خواجہ طارق رحیم نے جمع کرایا۔ متفرق درخواست میں سپریم کورٹ سے اضافی دستاویز کو منظور کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔سپریم کورٹ میں جمیعت علمائے اسلام ف نے بھی تحریری جواب جمع کر رکھا ہے جس میں استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے خلاف درخواستیں مسترد کی جائیں، عدالتی فیصلوں کے مطابق مذکورہ ایکٹ آئینی اور قانون سے متصادم نہیں ہے، پارلیمنٹ ہی وہ فورم ہے جو قانون بنا سکتا ہے یا اس میں ترمیم کرسکتا ہے۔جے یو آئی نے جواب میں موقف اپنایا کہ درخواست گزاروں کا یہ موقف بے بنیاد ہے کہ مذکورہ قانون آرٹیکل 184(3) کے متصادم ہے، مذکورہ قانون سے عدالت عظمیٰ کو حاصل اختیارات میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، آئین پاکستان اختیارات کسی ایک فرد کو تفویض نہیں کرتا۔صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر الگ قانون سازی اختیارات سے تجاوز ہوگا، آئین پارلیمنٹ کو اس معاملے پر قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے وکیل عابد زبیری سے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ نئی قانون سازی نہیں ہوسکتی؟ آپ کے مطابق سپریم کورٹ پہلے سے موجود قانون کے مطابق رولز بنا سکتی ہے۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم سبجیکٹ ٹو لا کا لفظ کاٹ دیں فرق کیا پڑے گا؟ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ فرق نہیں پڑے گا، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فرق نہیں پڑے گا نا، تھینک یو، اگلے پوائنٹ پر چلیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ آئینی اختیارات سے سپریم کورٹ رولز بنا لے تو بعد میں کوئی قانون سازی بدل سکتی ہے؟ عابد زبیری نے کہا کہ ان کے پاس اختیار نہیں رہ جاتا قانون سازی کرنے کا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ آپ یہ سمجھ کر دلائل دے رہے ہیں کہ نہ ختم ہونے والا کیس ہے تو ایسا نہیں ہے، فل کورٹ کی کارروائی کے باعث باقی مقدمات نہیں سن پا رہے، فل کورٹ کی کارروائی کے باعث زیر التوا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، یہ آج اس سماعت کا آخری دن ہے۔چیف جسٹس نے دوران سماعت اضافی کاغذات جمع کرانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کہا تھا یہ پہلے دائر کر دینا اب کاغذ آرہے ہیں، کیا ایسے نظام عدل چلے گا کیا دنیا میں ایسے ہوتا ہے؟ مغرب کی مثالیں آپ دیتے ہیں کیا وہاں یہ ہوتا ہے؟ آپ جیسے سینیئر وکیل سے ایسی توقع نہیں ہوتی، ہمارا لیول اتنا تو کم نہ کریں، پہلے بھی کہا تھا اگر کچھ جمع کروانا ہے تو سماعت سے پہلے دے دیں، یہ درست طریقہ کار نہیں ہے، کیا عدالتی نظام ایسے چلے گا؟ کس دنیا میں ایسا ہوتا ہے؟ مغرب کی مثالیں تو سب دیتے ہیں ، مغرب میں نظام عدل ایسے چلتا ہے؟وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کم از کم امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کا تو حوالہ دیں، ہمارا لیول اتنا نا گرائیں کہ نیو جرسی کی عدالت کے فیصلے کو یہاں نظیر کے طور پر پیش کر رہے ہیں اور یہ تو فیصلہ بھی نہیں ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، اگر آئین سازوں نے مکمل اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح طور پر لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تو وہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ میں سوال واضح کر دیتا ہوں، جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل کے رولز سے متعلق آئین میں لکھا ہے کہ آئینی باڈیز خود قانون بنائیں گی، جب سپریم کورٹ کے ضابطوں سے متعلق آرٹیکل 191 میں لکھا ہے کہ قانون سے بھی بن سکتے ہیں، سوال یہ ہے کہ آئین سازوں نے خود آئین کے ساتھ قانون کا آپشن دیا۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نیو جرسی کی عدالت میں کہا گیا کہ قانون سازی کرنے اور رولز بنانے میں فرق ہے۔جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 175 ٹو کو آرٹیکل 191 کے ساتھ ملا کر پڑھیں، آرٹیکل 175 ٹو کسی بھی عدالت کے مقدمات کو سننے کا اختیار بتایا گیا ہے۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز سے متعلق آرٹیکل 142 اے اور اینٹری 55 کو ملا کر پڑھنا ہوگا، سپریم کورٹ کے رولز بنانے کے اختیار سے متعلق آئینی شق کو تنہا نہیں پڑھا جا سکتا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ فل کورٹ یہ مقدمہ سن رہی ہے تا کہ وکلاء سے کچھ سمجھ اور سیکھ سکیں، آئینی شقوں پر دلائل دیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آئینی شقوں کو ملا کر پڑھنا ہوتا ہے، آئین کے کچھ آرٹیکل اختیارات اور کچھ ان اختیارات کی حدود واضح کرتے ہیں۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ یہ تو معزز سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ہم یہاں آئین اور قانون سازوں کی نیت دیکھ رہے ہیں، اگر آئین سازوں کی نیت دیکھنی ہے تو آرٹیکل 175 دیکھیں، اگر آئین سازوں نے مکمل اختیار سپریم کورٹ کو دینا ہوتا تو واضح طور پر لکھ دیتے، اگر کوئی بھی ضابطہ قانون یا آئین سے متصادم ہوگا تو وہ خود ہی کالعدم ہو جائے گا۔ رولز کبھی ایکٹ سے اوپر نہیں ہوتے۔صدر سپریم کورٹ بار عابد زبیری نے کہا کہ رولز آئین کے بر خلاف نہیں بن سکتے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ لاہور ہائیکورٹ میں بھی قانون اور رولز بنانے کے اختیارات پر فیصلہ دیا ہے، ہائیکورٹ نے فیصلہ دیا کہ رولز بنانا ہائیکورٹ کا اختیار ہے اور پارلیمنٹ رولز نہیں بنا سکتی نہ ہی رولز بنانے کے لیے قانون سازی کر سکتی ہے، موجودہ قانون کے دائرہ کار میں رہ کر رولز میں ردو بدل کرنے کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے پاس ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ خلاف آئین کوئی رولز بنائے تو کوئی تو یاد دلائے گا کہ آئین کی حدود میں رہیں۔وکیل عابد زبیری نے دلائل میں کہا کہ آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی، رولز کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہوگی۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا وفاقی شرعی عدالت اپنے رولز بنانے کے اختیار میں سپریم کورٹ سے بھی بڑی سطح پر ہے؟ وکیل عابد زبیری نے بتایا کہ سپریم کورٹ اگر اپنے رولز خود بنائے تو وہ تمام رولز سے سب سے اونچی سطح پر ہوں گے۔جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ سپریم کورٹ کے رولز پر پارلیمنٹ نے پابندی لگائی لیکن ہائیکورٹ اور شرعی عدالت کے ضابطوں پر کیوں نہیں؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہائیکورٹس اپنے پریکٹس اینڈ پروسیجر بنانے کے لیے خود بااختیار ہے۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ اگر آج بھی سپریم کورٹ اپنے رولز خود بنا لے تو کوئی اعتراض نہیں اٹھا سکتا، آئین کہتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اپنے قوانین خود بنائے گی جن کی وقعت آئینی ضوابط کے برابر ہوگی۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ اس سے پہلے دنیا ہم پر انگلی اٹھائے خود اٹھاتے ہیں، 184(3) کا ہزاروں مقدمات میں استعمال کیا گیا ہے اور اسکا استعمال کیسے ہوا یہ ایک حقیقت ہے، پاکستان میں جو کچھ ہوا آپ اس کو نظر انداز کر رہے ہیں۔عابد زبیری نے کہا کہ 184(3) کے غلط استعمال سے متفق ہوں، غلط استعمال ہوا یا صحیح دیکھنا ہے یہ اختیار کس کو ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ پارلیمان کے پاس اختیار ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اختیار بڑھا سکتی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ سوال اچھے یا برے کا نہیں سوال قانون بنانے کی اہلیت کا ہے، آپ بتایے کس کا اختیار ہے سپریم کورٹ بارے قانون بنانے کا۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ کرنا ہے یہ اختیار پارلیمان کا ہے یا نہیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ انصاف کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہونے پر کیا قانون سازی ہو سکتی ہے یا نہیں۔ چیف جسٹس اس مقدمہ کو سماعت کے لیے مقرر کرسکتے تو دوسرے جبری گمشدگی جیسے مقدمات کیوں نہیں، آپ نے ابھی درخواست کے قابل سماعت ہونے کی رکاوٹ کو بھی عبور نہیں کیا، بتائیں کہ اس قانون سازی سے کونسا بنیادی حق متاثر ہوا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ 184(3) میں ہم یہ مقدمہ کیسے سن سکتے ہیں؟ آپ کہہ رہے ہیں نہ ہم اپنے دائرہ اختیار بڑھا سکتے ہیں نہ پارلیمان، ہمیں آپ کہہ رہے ہیں کہ 184(3) میں عدالت اپنا دائرہ اختیار بڑھا دے۔جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اس ایکٹ کو دیکھنے کے لیے پہلے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کو دیکھنا ہے۔ وکیل عابد زبیری نے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا پارلیمان کا اس قانون کو بنانے کا اختیار ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ہمیں یہ سمجھ نہیں آرہی آپ کو اس قانون سے مسئلہ کیا ہے، آپ بتائیں یہاں آئین کے آرٹیکل 184/3 کا اختیار کیسے استعمال کیا گیا، سپریم کورٹ کے ہیومن رائٹس سیل میں کیا ہوتا رہا؟ رولز میں اسکا ذکر کہاں ہے؟ اس سے پہلے کہ دنیا 184/3 کے اختیارات پر انگلی اٹھائے ہم خود درست کرلیں، اگر ہم نے غلطی درست نہیں کی تو کیا پارلیمان بھی درست نہیں کرسکتا، آپ ایک سیاسی جماعت کے وکیل ہیں۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ نہیں میں کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہیں ہوں، جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا مطلب آپ تحریک انصاف کے وکیل نہیں ہیں؟ جس پر عابد زبیری نے بتایا کہ نہیں میں سپریم کورٹ بار کا صدر ہوں آزاد حیثیت میں پیش ہوا ہوں۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا ہیومن رائٹس سیل کا تذکرہ آئین یا سپریم کورٹ رولز میں تذکرہ ہے؟ آرٹیکل 184 تھری سے متعلق ماضی کیا رہا؟ یا تو کہہ دیتے کہ 184 تین میں ہیومن رائٹس سیل بن سکتا تھا، اس بات پر تو آپ آنکھیں بند کر کے بیٹھ گئے ہیں، اس سے پہلے کہ دنیا مجھ پر انگلی اٹھائے میں خود اپنے اوپر انگلی اٹھا رہا ہوں، نیو جرسی نا جائیں، پاکستان کی ہی مثال دے دیں، سپریم کورٹ غلطی کر دے تو کیا پارلیمنٹ اس کو درست کر سکتی ہے؟وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آپ کی رائے سن چکا ہوں، ابھی آرٹیکل 184 تین پر آ رہا تھا، میں آپ سے متفق ہوں کہ آرٹیکل 184 تین کا غلط استعمال ہوتا رہا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ نے شروع میں پارلیمان کی نیت پر حملہ کیا اور میں کہتا ہوں پارلیمان کی نیت اچھی ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے ککہ اختیارات کی تقسیم کی وجوہات ہیں، اگر پارلیمان کو سپریم کورٹ کے معاملات میں مداخلت کے دروازے کھول دیں۔ ممکن ہے پارلیمان کا قانون اچھا ہو یا برا لیکن سوال دروازے کے کھولنے کا ہے۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ آئین کے اصل دائرہ اختیار 184/3 میں اپیل کا حق نہیں دیا گیا، جس چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کی جوابی دلیل میں یہ دے سکتا ہوں کہ آرٹیکل 184/3 کا استعمال کیسے ہوا، کسی سیاسی جماعت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ ہو جائے تو کیا اس کے خلاف اپیل نہیں ہونی چاہیے، اگر کوئی مریض کہیں مر رہا ہو اور کوئی میڈیکل کی ذرا سی سمجھ رکھتا ہو تو وہ اس لیے مرنے دے کہ وہ ڈاکٹر نہیں ہے؟ پارلیمنٹ نے اچھی نیت سے قانون سازی کی۔جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے کہ اگر پارلیمنٹ کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے ہر معاملے میں مداخلت کرے گی، ایک بار دروازہ کھل گیا تو اس کا کوئی سرا نہیں ہوگا، قانون سازی اچھی یا بری بھی ہو سکتی ہے، یہ نہیں ہو سکتا کہ قانون سازی درست ہے تو ٹھیک ہے یا ورنہ اس کو کالعدم قرار دے دیں، آئین اس طرح سے نہیں چل سکتا۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ماضی کو دیکھیں، ایک شخص آتا ہے اور پارلیمنٹ کو ربر اسٹیمپ کر دیتا ہے، امریکا میں یہ سب نہیں ہوتا، ہمارا ماضی بہت بوسیدہ ہے، سپریم کورٹ بار خود تو درخواست لے کر نہیں آئی۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ سپریم کورٹ بار نے جو درخواستیں کیں وہ تو مقرر نہیں ہو رہیں۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ اگر آپ اس کیس کو ختم کریں تو باقی مقرر ہوں۔جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ ایکٹ میں آئین کی کون سے شق کا حوالہ دیا گیا ہے؟ ایسے تو سادہ اکثریت سے قانون سازی کا دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ آئین میں سادہ اکثریت سے بلواسطہ ترمیم کر کے دروازہ کھولا جا رہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کل کی باتیں نا کریں آج کی صورتحال بتائیں۔جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آرٹیکل 184 تھری کے اختیار کو آئین میں رہ کر استعمال کیا گیا ہوتا تو ایسی قانون سازی نا ہوتی، آپ نا مدعی ہیں نا مدعا علیہ تو پھر اس ایکٹ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟جسٹس مظاہر نقوی نے کہا کہ آرٹیکل 184 تھری میں اپیل سے اصل دائرہ اختیار کے کیس کی دوبارہ سماعت کا حق کیسے دے دیا گیا؟چیف جسٹس قاضی فائز نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لگتا ہے آپ چاہتے ہیں آرٹیکل 184کی شق تین کے کیسز زیر التوا رہیں کبھی ختم ہی نہ ہوں۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ 184کی شق کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق ملنے سے کیا اثر پڑے گا۔وکیل عابد زبیری نے کہا کہ ایسے میں 1973سے اپیل کا حق مل جائے گا۔ چیف جسٹس نے عابد زبیری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اپیل کا حق ملنے سے ہمارا کام بڑھے گا، آپ کو کیوں گھبراہٹ ہو رہی ہے، پارلیمنٹ کو تو کہتے ہیں نمبر گیم پوری ہونی چاہیے لیکن فرد واحد آ کر آئینی ترمیم کرے تو وہ ٹھیک ہے، پارلیمنٹ کچھ اچھا کرنا چاہتی ہے تواس کو کچلنا کیوں چاہتے ہیں؟جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار بڑھانے سے متعلق دلائل دیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم بھی مانتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیوں کو ایسی قانون سازی کا اختیار نہیں ہے، بس اب دلائل ختم کریں اور یہ تاثر مت دیں کہ آپ یہ کیس ختم کرنا نہیں چاہتے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر کسی نے 188 کے تحت نظر ثانی ایک بار دائر کر دی تو وہ اپیل نہیں کر سکتا، ایکٹ کے تحت نظر ثانی کے خلاف تو اپیل کا حق نہیں دیا گیا۔سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ سماعت میں وقفہ کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں