0

طورخم بارڈر کو 10 روز کی بندش کے بعد کھول دیا گیا

پاکستان نے افغان حکومت کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے بعد طورخم بارڈر کو 10 روز کی بندش کے بعد کھول دیا گیا ہے۔بارڈر ذرائع کے مطابق افغانستان کو پیدل آمدورفت شروع ہوگئی اور سیکڑوں مسافر افغانستان جانے کے لیے طورخم ایمیگریشن سیکشن کے سامنے جمع ہوگئے ہیں۔تجارتی سرگرمیاں بھی شروع ہونے سے امپورٹ اور ایکسپورٹ سمیت ٹرانزٹ گاڑیوں کی آمدو رفت بحال ہوگئی ہے۔ کسٹم عملہ نے تجارتی سامان کی کلیئرنس کا کام شروع کر دیا۔گزشتہ 10 دنوں میں سرحد کے دونوں جانب ہزاروں کارگوں گاڑیاں پھنس گئی تھیں۔واضح رہے کہ طورخم بارڈر 6 ستمبر کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث کر دیا گیا تھا، بارڈر کو اسوقت بند کیا گیا جب افغان سرزمین پر سرحد کے قریب تعمیرات کی جارہی تھیں اور اس دوران سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا۔بعد ازاں پاکستان نے طورخم بارڈر کو مکمل بند کر دیا تھا جس کے بعد زمینی راستہ بالکل منقطع ہوگیا تھا اور ٹرکوں سمیت پیدل آمد و رفت بند ہوگئی تھی۔طورخم سرحدی امور کے انچارج عصمت اللہ یعقوب نے ایکسپریس ٹریبیون کو سرحد دوبارہ کھولنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ’جمعے کو صبح 8 بجے سے گیٹ کو معمول کے مطابق کھول دیا جائے گا، جس کے بعد ٹرانزٹ اور مسافروں کی آمد و رفت شروع ہوجائے گی۔ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد نے ضلع چترال سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کے انخلا پر دوبارہ کھولنے کی شرط رکھی تھی۔ ذرائع سے ملنے والی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کابل حکومت کی دراندازی کے بعد سرحدی علاقوں سے مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئی ہے۔اس سے قبل گزشتہ روز دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا تھا کہ سرحد کی بندش عارضی ہے اور آنے والے دنوں میں اس میں کچھ پیش رفت ہوگی۔دوسری جانب ذرائع سے یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ افغان حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے والوں کیخلاف کارروائی کا عندیہ دے دیا۔افغان عبوری حکومت کے وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی کی طرف سے فراہم کردہ یقین دہانیوں ’’افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں کیا جائے گا‘‘ کی یقین دہانی کروائی اور انسانی بنیادوں پر سرحد کھولنے کی درخواست کی، جس پر پاکستان نے رضامندی ظاہر کردی تھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں