0

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو تاحکم ثانی ایم پی او آرڈرز جاری کرنے سے روک دیا گیا

ہائی کورٹ نے ڈپٹی کمشنر کو تاحکم ثانی ایم پی او آرڈرز جاری کرنے سے روک دیا۔شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کی ایم پی او کے تحت گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ہوئی، جس میں عدالت نے تاحکم ثانی ڈی سی اسلام آباد کو تھری ایم پی او اختیارات استعمال کرنے سے روک دیا۔دوران سماعت جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ ایم پی او کا اختیار ڈی سی اسلام آباد کس اختیار کے تحت استعمال کرتا ہے ؟لا افسر کی جانب سے عدالت میں دلائل دیے گئے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کس دائرہ اختیار کے تحت ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ایم پی او جاری کر رہے ہیں؟۔ آپ نے صرف 1965ء کا نوٹی فکیشن پیش کیا ہے ؟ اٹارنی جنرل کو نوٹس کرنا پڑے گا ۔ جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ وفاقی دارالحکومت کیسے چل رہا ہے ؟ عدالتی معاونت کی ضرورت ہے ۔عدالت نے ڈی سی عرفان میمن سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو کوئی نوٹی فکیشن دیا گیا؟، جس پر ڈی سی اسلام آباد نے جواب دیا کہ جب بھی کوئی ڈی سی تعینات ہوتا ہے تو اسے نوٹی فکیشن دیا جاتا ہے ۔ عدالت نے پوچھا کہ آپ نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ 1960ء کا قانون ہے، اس کا استعمال اسلام آباد پر کیسے ہو گا؟۔عدالت نے اسٹیٹ کونسل کا جواب غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے تھری ایم پی او کی آئینی اور قانونی حیثیت سے متعلق معاونت کے لیے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیے۔جسٹس بابر ستار نے ڈی سی اسلام آباد سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ سماعت تک آپ ایم پی او کا کوئی آرڈر پاس نہیں کریں گے، ڈی سی صاحب آپ سمجھ رہے ہیں ناں؟۔ بتائیں کہ قانون میں کہاں سے آپ یہ اختیار استعمال کررہے ہیں؟۔بعد ازاں عدالت نے شہریار آفریدی اور شاندانہ گلزار کو کسی بھی کیس میں گرفتار نہ کرنے کے حکم میں توسیع کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں