0

200 یونٹ سے کم کیلیے بجلی ریٹ نہ بڑھائیں، قائمہ کمیٹی سینیٹ

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے توانائی نے پاور ڈویژن کو200 یونٹ ماہانہ سے کم استعمال کرنے والے صارفین کیلیے بجلی کے نرخوں میں اضافہ نہ کرنے کی سفارش کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ بجلی کے اضافی بل عوام کو سول نافرمانی پر مجبور کر سکتے ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس چیئرمین سیف اللہ ابڑو کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے پاور ڈویژن اور پاور ریگولیٹر کے حکام سے بجلی کے مہنگے بلوں کے بارے میں سوالات کئے جس پر عوام بڑے پیمانے پر احتجاج کررہے ہیں۔ارکان نے گھریلو صارفین کو ریلیف دینے کیلئے پاور ڈویژن کی مبہم اور پیچیدہ پالیسیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور اتفاق رائے سے مطالبہ کیا کہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوںکیلئے ٹیرف میں اضافہ غیرمشروط طور پر ختم کیا جائے اور ماہانہ بنیادوں پر پالیسی کی کلاز 6 کا اطلاق نہ کریں۔کمیٹی نے پاور ڈویژن سے بریفنگ لی۔ اضافی بجلی بلوں کے معاملے پر غور و خوض کے بعد چیئرمین کمیٹی نے کہا اس ملک گیر بحران کا واحد حل یہ ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے پر پر نظرثانی کی کوشش کی جائے اور قانونی فریم ورک کے مطابق بجلی کی تخمینہ جاتی قیمت کا دوبارہ جائزہ لیا جائے، آئی پی پیز کو کسی نگرانی کے بغیر آزادانہ طور پرکام نہیں کرنا چاہئے جس سے اوور انوائسنگ ہوتی ہے۔ پورے ڈھانچے کو دوبارہ جانچنے اور غلط معلومات اور دھوکہ دہی سے متعلق شقوں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ بجلی کا پورا شعبہ آئی پی پیز نے قائم کیا تھا، کمیٹی نے استفسار کیا کہ آئی پی پیز کو ادائیگیاں کس بنیاد پر کی جاتی ہیں۔انہوں نے کہا عوام کو اس وقت تک ریلیف نہیں ملے گا جب تک کہ پاور ڈویژن میں نااہل افسران کی تقرری کی جاتی رہیگی۔ کمیٹی نے آئی پی پیز کو 10 سال کے دوران ادائیگی کی تفصیلات کی عدم فراہمی پر تحفظات کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے آئی پی پیزکو گزشتہ دس برسوں کے دوران کی گئی ادائیگیوں کی تفصیلات طلب کرلیں اور کہا آئی پی پیز نے غلط بلنگ کی ہے، دیکھنا چاہتے ہیں کس بنیاد پر ادائیگیاں ہوئیں۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ حکومت بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔ 46 آئی پی پیز میں سے، 34 کمپنیوں نے پچھلی حکومت کے دوران معاہدے کئے تھے۔ حکومت آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر عملدرآمد کی پابند ہے۔ کمیٹی نے 44,943 میگا واٹ انسٹالڈ کیپسٹی کی تفصیلات طلب کیں تو پاور ڈویژن کے حکام تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔کمیٹی کو بتایا گیا کہ کل گھریلو صارفین میں سے 63.5 فیصد کیلئے ٹیرف میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا جبکہ 31.6 فیصد کو 3 سے 6.5 روپے فی یونٹ ٹیرف میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کمیٹی نے مشاہدہ کیا کہ ری بیسنگ اور ٹیرف میں اضافے میں یکسانیت دکھائی نہیں دیتی اور زور دیا کہ معاشرے کے کمزور طبقوں کو ٹیرف میں آئے روز جھٹکے دینے کی بجائے ان کے حق میں پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے۔کمیٹی نے سیکرٹری پاور اور چیئرمین نیپرا کی اجلاس میں عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کیا۔ قائمہ کمیٹی نے نگران وزیر توانائی، سیکرٹری توانائی اور چیئرمین نیپرا کو طلب کرلیا اور کہا نیپرا اور پاور ڈویژن غیر سنجیدگی دکھا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں