0

جوئے کی آمدنی سے حصہ نہیں چاہیے، اسٹار پاکستانی کرکٹرز کا فیصلہ

جوئے کی آمدنی سے حصہ نہیں چاہیے، اسٹار پاکستانی کرکٹرز نے فیصلہ کرلیا۔کئی پاکستانی کرکٹرز سیروگیٹ اسپانسر شپ کی مخالفت کر چکے ہیں، ان میں سے سب سے نمایاں محمد رضوان رہے جنھوں نے رواں سال بطور کپتان ملتان سلطانز کی جانب سے پی ایس ایل میں سیروگیٹ اسپانسر کے لوگو پر ٹیپ لگا کر حصہ لیا، اسی ایونٹ میں بعض دیگر کرکٹرز نے بھی اعتراض کیا مگر انھیں مختلف طریقوں سے قائل کر لیا گیا تھا۔حال ہی میں لنکا پریمیئر لیگ میں بابر اعظم نے اپنی ٹیم پر پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی متنازع کمپنی کا کٹ پر لوگو نہیں لگائیں گے،فرنچائز نے ان کا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ بابر اور رضوان سمیت کئی اسٹار کرکٹرز نے فیصلہ کر لیا ہے کہ وہ اسے اپنے ہر لیگ معاہدے کا حصہ بنائیں گے۔ ساتھ ایسی کسی اسپانسر شپ کی کمائی سے اپنا معاوضہ بھی نہیں لیں گے،آئی ایل ٹی ٹوئنٹی اور بنگلہ دیش پریمیئر لیگ سے اس کا آغاز ہوا۔ذرائع کے مطابق کنٹریکٹ کی ایک شق میں واضح ہے کہ کرکٹر شراب، جوئے، سیروگیٹ بیٹنگ، پورک کی اشیا یا بالغان کی انٹرٹینمنٹ اسپانسرز کا لوگو کٹ پر نہیں لگائیں گے۔مذکورہ کمپنیز کو اپنی کسی بھی تشہیری سرگرمی کیلیے کھلاڑی کی تصاویر استعمال کرنے کی بھی اجازت نہ ہو گی،ان کی کوئی بھی فیس یا بونس ایسی کمپنیز سے ملنے والی رقم سے نہیں دی جائے گی،ادائیگی دیگر اسپانسر شپ،ٹیم یا لیگ اونر شپ سے ہوگی، اس کی وجہ کھلاڑی کے مذہبی،ثقافتی اور ذاتی اقدار کو قرار دیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بعض کرکٹرز نے انہی شرائط کو پی سی بی کے سامنے بھی رکھا اور وہ اسے سینٹرل کنٹریکٹ کا حصہ بنانا چاہتے ہیں،واضح رہے کہ پاکستان میں سیروگیٹ بیٹنگ کمپنیز کی اسپانسر شپ اب عام ہو چکی ہے، اس میں جوئے کی کمپنیز نام میں معمولی تبدیلی کر کے معاہدے کرتی ہیں، پی سی بی نے کھلاڑیوں کے سامنے اپنی مجبوری پیش کی کہ اسپانسرز کی کمی کے سبب ایسا کرنا پڑا تھا،ساتھ یقین دلایا ہے کہ موجودہ معاہدے ختم ہونے پردوبارہ نہیں کیے جائیں گے۔یاد رہے کہ لنکا پریمیئر لیگ کے دوران بعض پاکستانی کرکٹرز کی تصاویر کا سیروگیٹ کمپنیز نے استعمال کیا تو چند گھنٹوں میں ہی نوٹس لے کر وکلا کے ذریعے انھیں ہٹوایا گیا۔اس حوالے سے پی ایس ایل کے دوران تنازع سامنے آ سکتا ہے کیونکہ کئی فرنچائزز نے سیروگیٹ کمپنیز سے معاہدے کیے ہوئے ہیں، اونرز پی سی بی سے پالیسی پر وضاحت چاہتے ہیں مگر انھیں چیئرمین مینجمنٹ کمیٹی ذکا اشرف سے تاحال ملاقات کا موقع ہی نہیں ملا ،یاد رہے کہ خود پی سی بی کے بھی بعض ایسے اسپانسرز ہیں۔حال ہی میں لنکا پریمیئر لیگ میں بیشتر اسپانسرز سیروگیٹ بیٹنگ سائٹس یا کرپٹو کرنسی کی کمپنیز تھیں، بعض ٹیم اونرز کا بھی ان سے تعلق بتایا گیا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کے کئی اسٹار کرکٹرز اس ایونٹ میں شریک ہوئے تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں