0

امریکا میں گن کلچر بچوں کی ہلاکتوں کی سب سے بڑی وجہ بن گیا

امریکہ میں گزشتہ سالوں میں گن وائلنس میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جبکہ پستول/بندوقیں بچوں میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بن گئی ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق 2018 سے 2021 تک کی تحقیق میں پستولوں سے ہلاک ہونے والے امریکی بچوں کی تعداد کا جائزہ لیا گیا۔ مطالعے میں دیکھا گیا کہ اس عرصے کے دوران آتشیں اسلحے سے ہونے والی اموات میں 42 فیصد کے قریب اضافہ ہوا۔پیڈیاٹرک ٹروما سرجن اور نیو ہائیڈ پارک میں نارتھ ویل ہیلتھ کے سینٹر فار گن وائلنس پریوینشن کے ڈائریکٹراور مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر چیتن ستھیا کا کہنا تھا ملک میں آتشیں اسلحے سے ہونے والے تشدد کی شرح آسمان کو چھو رہی ہے اور یہ بدتر ہوتی جا رہی ہے ۔بچوں میں گن وائلنس کی شرحوں میں نسلی اور معاشی تعصب بھی بڑھ رہا ہے جس سے سیاہ فام بچے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں اوران سنگین اعدادوشمار میں اضافے کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ڈاکٹر نے بتایا کہ ان اموات میں سے زیادہ تر کیسز گھروں میں رکھی گئی بندوق/پستولوں سے غیر ارادی طور پر فائرنگ کے ہیں تاہم اس کے علاوہ اسلحے سے قتل، تشدد اور حملے بھی ان شرحوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ڈاکٹر نے یہ بھی کہا کہ 2020 میں بندوقوں سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد میں 28.8 فیصد اضافہ ہوا کیونکہ COVID-19 وبا کے ابتدائی مرحلے کے دوران زیادہ لوگوں نے اسلحہ خریدا جس کے بعد گن اسلحہ خریدنے میں تیزی آئی۔ مطالعے سے پتہ چلتا ہے 2021 میں بچوں میں آتشیں اسلحے سے 4,752 اموات ہوئیں جو 2020 کے مقابلے میں 8.8 فیصد زیادہ ہے۔ان اموات میں سے 64.3 فیصد قتل عام تھے، 30 فیصد خودکشیاں تھیں اور 3.5 فیصد غیر ارادی حادثے کا نتیجہ تھیں۔

کیٹاگری میں : صحت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں