0

مسلسل انسانی آغوش کے باوجود یتیم والرس بچہ چل بسا

گزشتہ ہفتے والرس کے یتیم بچے کو بچانے کے لیے خاص تربیت یافتہ عملہ رکھا گیا تھا لیکن تمام کوششوں کے باوجود یہ بے زبان زندگی ہار بیٹھا ہے۔جنگلی حیات کے ماہرین والرس کے ایک یتیم بچے کو زندہ رکھنے کی سرتوڑ کوششیں کرتے رہے کیونکہ ماں کی عدم موجودگی میں اسے ویسی ہی آغوش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کےلیے 24 گھنٹے تک مختلف افراد انسانی لمس سے بھری آغوش فراہم کی گئی تھی۔ اس جانور کی خبریں اور ویڈیو دنیا بھر میں مقبول ہورہی تھیں۔الاسکا کے برفیلے پانیوں میں کئی میل دور سے بھوری جلد والا والرس کا بچہ ملا تھا جس کی عمر مشکل سے ایک ماہ سے کچھ زائد تھی۔ لیکن بہت کوشش کے باوجود اس کی ماں نظرنہیں آئی اور ’میل پیسیفک والرس‘ نسل کے اس کے بچے کو وہاں سے اٹھالیا گیا تھا۔جانوروں کے حقوق کی ایک غیرمنافع بخش تنظیم اور عوامی ایکویریئم نے مشترکہ طور پر اسے بچانے کی کوشش کی اور 24 گھنٹے انسانی آغوش فراہم کی جارہی تھی۔ یہ بچہ الاسکا سی لائف سینٹر میں موجود رہا تھا۔ یکم اگست کو تیل نکالنے والے کارکنوں نے اسے سمندر سے 6 کلومیٹر اندر خشکی پر دیکھا تھا۔ اسے فوری طور پر الاسکا کے ہی ایک مرکز میں لایا گیا تھا۔بھورے ، سخت جلد والے اور انفیکشن اور بھوک کے شکار اس بچے کو ہر تین گھنٹے بعد کھانا دیا جارہا تھا۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ جانور وہاں کس طرح پہنچا۔ انسانوں کی طرح والرس کے بچے کو دو برس تک ماں کی آغوش درکار ہوتی ہے۔ لیکن اس کے پاس کوئی بالغ والرس نہ تھا اور اس کے زندہ رہنے پر خود ماہرین بھی حیران رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں