0

جج ہمایوں دلاور کو لندن میں ہراساں کرنے پر پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج

برطانیہ میں جج ہمایوں دلاور کو ہراساں کرنے پر اسلام آباد کے تھانے میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سمیت دیگر ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج مقدمے میں انسداد دہشت گردی ایکٹ سمیت دیگر دفعات شامل کی گئیں ہیں جبکہ یہ مقدمہ جی الیون مرکز کے رہائشی ناصر اقبال کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق مدعی نے مؤقف اختیار کیا کہ شایان علی کی چھ اگست کو سوشل میڈیا پر مختلف وڈیوز وائرل ہوئیں جن میں وہ جج کی زندگی کو جہنم بنانے کی دھمکیاں دے رہا ہے جبکہ پانچ وڈیوز میں شایان علی نے جج کو بھی دھمکیاں بھی دیں اور ہمایوں دلاور کے ٹریننگ کے مقام کے باہر بھی لوگوں کا مجمع بھی اکٹھا کیا۔ایف آئی آر کے متن میں لکھا گیا ہے کہ برطانوی سکیورٹی حکام نے جج ہمایوں دلاور کو جسمانی حملے سے بچایا، پاکستان تحریک انصاف برطانیہ کے رہنما عمران خلیل اور عادل فاروق راجہ نے بھی ملزم کا ساتھ دیا۔مدعی مقدمہ کے مطابق ملزمان کا مقصد جج کو دباؤمیں لا کر مخصوص سیاسی جماعت کے حق میں فیصلے کروانا ہے، ملزمان دہشت گردی کی کارروائیوں کے ذریعے سیاسی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ انٹرنیٹ پر وائرل ویڈیو کلپ میں برطانیہ میں مقیم شایان علی مستقل طور پر لاہور کا رہائشی ہے جس نے ہمایوں دلاور کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیں۔ناصر اقبال (مدعی مقدمہ) کے مطابق شایان علی نے مجموعی طور پر اسی طرح کے پانچ ویڈیوکلپ سوشل میڈیا پر شیئر کیں، ایک اور کلپ میں شایان اپنی ٹیم کے ہمراہ ایئرپورٹ پر تھا جس میں لوگوں نے ہمایوں دلاور کے خلاف پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر درج تھا کہ ’انگلیںڈ میں ٹریننگ کیلیے آنے والے جج کو ہم پکڑیں گے‘۔مدعی مقدمہ نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری طور پربرطانیہ ٹریننگ کے لئے گئے جج جہاں ٹریننگ لے رہے تھے انکی شیشے کے پیچھے سے بھی ویڈیوبنائی گئی، پاکستانی جج کے ساتھ دیگر ممالک کے ججز اور خواتین کی بھی وڈیو بنائی گئی جبکہ پی ٹی آئی برطانیہ کے رہنما عمران خلیل نے دعوی کیاکہ اس نے جج کودہشت زدہ کرنے کی خاطر ہالیڈے ان اور مرینا ہوٹل میں بکنگ بھی کرائی ہوئی ہے۔مدعی مقدمہ کے مطابق شایان علی کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو عادل فاروق راجہ نے نہ صرف آن جوائن کیابلکہ سارہ میر اوردیگر کی دھمکیوں میں اضافہ کرکے ویڈیوز آگے بھیجیں۔ملزمان کی گرفتاری کیلیے انٹرپول سے رجوع کیا جائے گا، سینئر پولیس افسر دوسری جانب سینئر پولیس افسر نے کہا ہے کہ مقدمہ میں نامزد ملزمان کی گرفتاری کیلیے انٹرپول سے رجوع کیا جائے گا اور پاکستان میں ملزمان کی جائیدادیں سیل کی جائیں گی، مروجہ طریقہ کاراورقانونی تقاضے پورے کرکے ریڈ وارنٹ عدالت سے حاصل کریں گے۔انگلینڈ میں موجود نامزد ملزمان کے پاکستان کے ایڈریسزبھی دستیاب ہیں، ملزمان کوتمام قانونی تقاضے پورے کرکے قانون کی گرفت میں لایاجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں