0

صدر نے ایک سیکیورٹی گارڈ سے معافی مانگ لی، ای او بی آئی کو بھی معافی مانگنے کا حکم

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی ای او بی آئی کو سیکیورٹی گارڈ سے معافی مانگنے کی ہدایت کردی۔ایوانِ صدر کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان کے صدر کی حیثیت سے شہری سے معافی مانگتا ہوں، پنشن کے حصول کیلئے سیکورٹی گارڈ کو دفترکے احاطے میں داخلے کی اجازت تک نہیں دی گئی۔صدر مملکت نے کہا کہ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن اپنے غریب مخالف اور غیر دوستانہ طرز عمل پر گہری نظر ڈالے، ایک عام مزدور کو پنشن کیلئے برسوں انتظار کروانا شرمناک امر ہے ، شکایت کنندہ کی فائل گم ہونے کی وجہ سے سال بیت گئے، فائل سفارش کروانے پر ڈھونڈی گئی۔عارف علوی نے وفاقی محتسب کے فیصلے کے خلاف ای او بی آئی کی درخواست پر فیصلہ سنایا جس کے مطابق سیکیورٹی گارڈ ، افتخار حسین ، ایک پرائیویٹ سیکیورٹی ایجنسی میں کام کرتے تھے ، افتخار حسین 2008 ء میں سروس کے دوران حادثے میں معذور ہوگئے تھے ، سیکورٹی گارڈ افتخار حسین نے پنشن کیلئے ای او بی آئی سے رجوع کیا۔ای او بی آئی نے پنشن گرانٹ کی ادائیگی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ افتخار حسین کی مدت ِ ملازمت 15 سال سے کم ہے ، وہ صرف اولڈ ایج گرانٹ کے حقدار ہیں۔ اس پر ریٹائرڈ سیکورٹی گارڈ نے وفاقی محتسب سے رابطہ کیا، جس نے ادارے کو کیس پر غور کرنے کی ہدایت کیمحتسب کے فیصلے کے خلاف ای او بی آئی نے صدر مملکت کو اپیل دائر کی ، جسے صدر نے نمٹاتے ہوئے کہا کہ ایک عام مزدور (سیکیورٹی گارڈ) کو انصاف کی تلاش میں برسوں گزارنے پڑے، مایوسی ہوئی کہ گارڈ کیس کی پیروی کیلئے دفتر گیا تو داخلہ تک نہ ملا، ایک ریٹائرڈ افسر کی مداخلت کے بعد شہری کو احاطے میں داخلہ دیا گیا۔صدر مملکت نے کہا کہ کیس کی سماعت کے دوران ادارے کے نمائندے نے یقین دہانی کرائی کہ شکایت پر قانون کے مطابق غور کیا جائے گا، معاملہ ادارے کے چیئرمین کے بجائے ادارے کی اتھارٹی کے سامنے پیش کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں