0

چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا پر کوئی خوشی نہیں، مٹھائی بانٹنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کو دی گئی سزا پر قطعاً کوئی خوشی نہیں۔وزیراعظم شہباز شریف سے پارلیمنٹ سے الوداعی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی حکومت کیلئے 16 ماہ مختصر ترین عرصہ ہے ، اس کے برعکس بے پناہ چینلجز اور مسائل تھے، گزشتہ حکومت کی ناکامیوں اور نااہلی کا بوجھ ہم پر آن پڑا۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ گزشتہ حکومت نے تار تار کردیا، خارجی محاذ پر ہمارے دوست اور برادر ممالک کو ناراض کیا، سائفر کے جھوٹے بیانیے سے امریکہ کو ناراض کیا، چین کیخلاف پروپگینڈہ کیا، عمران نیازی حکومت اپنی ذات کی خاطر ملک کو قربان کرنا چاہتی تھی۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور کی بات اسے ناجائز طور پر تنگ تک نہیں کیا یا نیب کو پیچھے نہیں لگایا، اگر آج ایک پارٹی کے لیڈر کو سزا ملی ہے تو ہمیں اس کی قطعا کوئی خوشی نہیں، دشمن کے لیے بھی بددعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ سے رحم اور معافی مانگنی چاہیے، اس پر قطعا مٹھائی بانٹنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا، کسی نے ایسا کیا ہے تو قطعا اچھی روایت نہیں۔9 مئی کو آرمی چیف کیخلاف بغاوت کی گئی وزیراعظم نے کہا کہ 9 مئی کو شہدا اور غازیوں کی یادگاروں کی بے حرمتی کی گئی، وہ دن رہتی دنیا تک یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائیگا، 9 مئی کو جو ہوا یہ ریاست، فوج اور آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کیخلاف بغاوت تھی۔ٹی ٹی پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ سابقہ وزیراعظم نے ’انہیں‘ دعوت دی کہ پاکستان میں آکر بسیں، جس کے بعد دہشت گردی نے سر اٹھایا، وہ آئے اور سوات میں آکر ادھم مچایا، تھانوں پر قبضہ کیا، آج ملک کے مختلف حصوں میں دہشتگردی کے حملے دوبارہ شروع ہوگئے، شہدا کی قربانیوں کے بعد ملک میں امن تھا، لیکن اب پھر دہشت گردی دوبارہ شروع ہوگئی۔انہوں نے مزید کہا کہ آج رات صدر پاکستان کو اسمبلی کی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے کل ملاقات کروں گا، آج پھر اس ایوان کو 9 مئی کی سازش کا نوٹس لے کر قرارداد منظور کرنی چاہیے کہ قیامت تک ملک و فوج کے خلاف کوئی ایسی جرات کا سوچ بھی نہ سکے۔13 جماعتی اتحادی حکومت انوکھا واقعہ ہے، یہ گلدستہ نہ پہلے بنا تھا نہ دوبارہ بنے گاوزیراعظم نے کہا کہ 13 جماعتی اتحاد کی حکومت ملک کی تاریخ کا انوکھا واقعہ ہے، سب کے اپنے مزاج و سوچ ہیں، لیکن سب پاکستانی ہیں، چاروں صوبوں سے مل کر یہ گلدستہ بنا تھا جو نہ پہلے کبھی بنا تھا اور نہ دوبارہ کبھی بنے گا، مثبت تنقید کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے، گردن میں سریا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اعتراف کرتا ہوں باقی صوبوں کے مقابلے میں بلوچستان پیچھے رہ گیا، صوبے کے جائز مطالبات تسلیم کرنے کی پوری کوشش کی، باقی حل طلب مسائل کےلیے سب مل جل کر کوشش کریں گے، بلوچستان کے بغیر پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں