0

وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدر مملکت نے قومی اسمبلی تحلیل کردی

وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی ایڈوائس پر صدر مملکت نے دستخط کردیے جس کے بعد قومی اسمبلی تحلیل اور وفاقی کابینہ ختم ہوگئی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی کی تحلیل کے لیے کچھ دیر قبل صدر مملکت کو ایڈوائس ارسال کی تھی، جسے ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 58 (1) کے تحت منظور کرلیا۔نگراں وزیراعظم کی تقرری تک شہبازشریف بطور وزیر اعظم امور انجام دیتے رہیں گے جبکہ آئین کے مطابق اسمبلی کی تحلیل کے نوے روز میں عام انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔آئینی طور پر نگراں وزیراعظم کی تقرری تک شہبازشریف بطور وزیر اعظم امور انجام دیتے رہیں گے۔دوسری جانب آئین کے مطابق نگراں وزیراعظم کی تقرری کیلیے شہباز شریف قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے آج دوپہر ڈھائی بجے ملاقات کریں گے، اس ضمن میں وزیراعظم ہاؤس نے راجہ ریاض سے رابطہ کیا۔دونوں فریقین نگراں وزیراعظم کیلیے تین تین نام پیش کر کے مذاکرات کریں گے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان نگراں وزیراعظم کی تقرری کے لیے حوالے سے آج ہونے والی ملاقات کو حتمی راؤنڈ کہا جارہا ہے۔اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگراں وزیراعظم کی تقرری میں کامیاب نہ ہوئے تو پھر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا اور اگر وہاں بھی اتفاق نہ ہوسکا تو الیکشن کمیشن نگراں وزیراعظم کی تقرری کا فیصلہ کرے گا۔اس سے قبل قومی اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا تھا کہ اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد تین دن کے اندر نگراں وزیراعظم کی تقرری کا اختیار آئین دیتا ہے، امید ہے کہ مل بیٹھ کر یہ مسئلہ حل ہوجائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں