0

ٹرین حادثہ پٹڑی ٹوٹنے سے ہوا، تخریب کاری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، ابتدائی رپورٹ

ٹرین حادثے کی ابتدائی رپورٹ مرتب کرلی گئی جس میں شعبہ سول اور شعبہ مکینیکل کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، بتایا گیا ہے کہ پٹڑی ٹوٹنے، فش پلیٹ نہ ہونے، انجن کے خراب وہیل اور ٹریک میں بھی خرابی کے عوامل حادثے کا سبب بنے، تخریب کاری کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہزارہ ایکسپریس ٹرین حادثے کی ابتدائی جوائنٹ سرٹیفکیٹ رپورٹ مرتب کرلی گئی جو کہ لاہور ریلوے ہیڈ کوارٹر کو موصول ہوگئی۔ریلوے ذرائع کے مطابق ٹرین حادثے کی وجہ شعبہ سول اور شعبہ مکینیکل کی نااہلی بتائی گئی ہے، حادثے میں تخریب کاری کے عوامل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، جوائنٹ سرٹیفیکیٹ میں حادثے کی وجہ پٹڑی کا ٹوٹنا اور فش پلیٹ نہ ہونا بھی بتایا گیا ہے جب کہ ٹرین انجن وہیل اور ٹریک میں خرابی بھی حادثے کی وجوہات میں شامل ہیں۔دوسری جانب ریلوے شعبہ سول اور شعبہ مکینیکل نے حادثے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کردیا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حادثے کی شکار ٹرین انجن کے وہیل ڈیمج پائے گئے، ٹریک کو آپس میں جوڑنے کے لیے فش پلیٹ موجود نہیں تھی۔ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ جوائنٹ سرٹیفکیٹ رپورٹ حتمی نہیں ہوتی، حتمی رپورٹ وفاقی انسپکٹر ریلوے اپنی مکمل تحقیقات کے بعد جاری کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں