0

ہریانہ فسادات، مسلمان گھروں پر نمازِ جمعہ ادا کرنے پر مجبور

بھارتی ریاست ہریانہ بجرنگ دل اور وشو ہندو پریشد کے مذہبی جلوس کے دوران پرتشدد تصادم میں مرنے والوں کی تعداد 6 تک پہنچ گئی ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہریانہ کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹنے کے باعث انتظامیہ نے انٹرنیٹ سروسز کو معطل کر کے بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں نے گھروں پر ہی جمعے کی نماز کی ادائیگی کا فیصلہ کیا ہے۔گزشتہ دنوں ہندو انتہا پسند ہجوم نے ہریانہ کے شہر گرو گرام کی مسجد پر آدھی رات کو دھاوا بول دیا تھا۔ بلوائیوں نے مسجد میں توڑ پھوڑ کی اور مسجد کو آگ لگا کر مسجد کو بچانے کی کوشش کرنے والے امام کو شہید کر دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق حکومت نے کہا ہے کہ نوح، فرید آباد اور پلوال اضلاع کے ساتھ ساتھ گروگرام ضلع کے سوہنا، پٹودی اور مانیسر سب ڈویژنز میں امن کو برقرار رکھنے کیلئے 5 اگست تک انٹرنیٹ سروس معطل رہے گی جبکہ بڑے اجتماعات پر بھی پابندی رہے گی۔نوح میں مذہبی جلوس کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد 6 ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ اِس افواہ کے پھیلنے کے بعد پیش آیا تھا کہ گائے کے محافظ مونو مانیسر جو کہ بھیوانی قتل کے اہم ملزم ہیں، جلوس میں شرکت کریں گے۔تاہم مانیسر اس جلوس میں شریک نہیں ہوئے اور بدھ اس نے کو دعویٰ کیا کہ اس کا تشدد یا ہلاکتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔خیال رہے کہ بھیوانی قتل کا معاملہ راجستھان کے دو مسلمان بھائیوں کی موت سے جڑا ہوا ہے، جن کی جلی ہوئی لاشیں فروری میں ہریانہ کے علاقے بھیوانی سے ملی تھیں۔یاد رہے کہ گروگرام سے متصل نوح میں ایک مذہبی جلوس کے دوران تشدد شروع ہوا تھا۔ وشو ہندو پریشد کے زیر اہتمام برج منڈل جلابھشیک یاترا کو نوجوانوں کے ایک گروپ نے گروگرام-الور قومی شاہراہ پر روک کر جلوس پر پتھراؤ کیا تھا اور متعدد گاڑیوں کو آگ لگا دی تھی جس کے بعد ریاست ہریانہ کے مختلف علاقوں میں فرقہ وارانہ فسادات پھوٹ پڑے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں