0

چین 2 ارب ڈالر قرضہ ری شیڈول کرنے پر تیار، ای سی سی نے معاہدے کی منظوری دیدی

چین پاکستان کے ذمے اپنا 2 ارب ڈالر قرضہ ری شیڈول کرنے پر تیار ہوگیا جب کہ وزیرخزانہ اسحق ڈارکی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے کی شرائط کی منظوری دیدی ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے تاحال اس معاہدے کا سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا۔تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے کراچی میں 2ایٹمی بجلی گھر قائم کیے ہیں جن کی مجموعی پیداواری صلاحیت 2 ہزار117 میگاواٹ ہے۔ان پلانٹس پرکل لاگت ساڑھے 9 ارب ڈالر آئی اس میں ساڑھے 6 ارب ڈالر کی فنانسنگ چین کے ایگزم بینک نے کی تھی۔ سرکاری گارنٹی کے اس قرضہ میں 2 ارب ڈالر کی ادائیگی پاکستان کو دوسال میں کرنا تھی۔چین نے اس ادائیگی میں پاکستان کو سہولت دیدی ہے۔پاکستانی عہدیداروں کے مطابق چین پاکستان کوڈیفالٹ سے بچانے کیلیے اس کی باربار مدد کرتا رہا ہے ۔اس کیلیے نہ صرف وہ اپنے قرضے مؤخرکرتا رہا ہے بلکہ اس نے نئے قرضے بھی فراہم کیے ہیں۔ابھی جون میں ہی پاکستان کو ایک ارب 30 کروڑ ڈالر فراہم کیے گئے۔یہ رقم ملنے کے بعد پاکستان ڈیفالٹ سے بچ گیا اور اس نے بروقت بیرونی ادائیگیاں کردیں۔یہ سب ایسے موقع پر کیا گیا جب پاکستان کیلئے آئی ایم ایف پروگرام آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔اب آئی ایم ایف کا نیا پروگرام ملنے کے بعد پاکستان کے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائرساڑھے چار ارب ڈالر سے بڑھ کر8 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگئے ہیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اگلے عام انتخابات کیلیے الیکشن کمیشن کو ساڑھے 42 ارب روپے جاری کرنے کی بھی منظوری دیدی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق الیکشن کمیشن کو 10 ارب ڈالر فوری جاری کرنے کی اجازت دیدی گئی ہے ۔باقی رقم اسے اس کی ضروریات کو مدنظر رکھ کرجاری کی جائے گی۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹی کونسل کو بھی 20 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ جاری کرنے کی منظوری دے دی ہے۔خلیجی ممالک سے دفاع ،زراعت ،معدنیات ،آئی ٹی اورانرجی کے شعبوں میں سرمایہ کاری لانے کیلئے ایک سول ملٹری ہائیرڈکونسل قائم کی گئی ہے۔اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹی کونسل کا سیکرٹریٹ وزیراعظم آفس میں قائم کیا گیا ہے جس میں مختلف وزارتوں سے لیے گئے افسران تعینات ہیں۔یہ سیکرٹریٹ ابھی بجٹ میں فنڈ مختص نہ کرنے کی وجہ سے فعال نہیں ہوا۔اقتصادی رابطہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ کونسل نے 20 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ مانگی ہے،اس کے علاوہ فرنیچر کی خریداری کیلئے اس پر عائد پابندی ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔کمیٹی کے اجلاس میں فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے سینماؤں سے بجلی کے ریٹس کے معاملے پر وزارت اطلاعات کی سمری پر بھی غورکیا گیا۔کمیٹی نے اس تجویز کی بھی منظوری دیدی جس کے مطابق سینماؤں سے انڈسٹری کے بجلی ریٹ وصول کیے جائیں گے۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز سے زمین کے راستے افغانستان کو ویجیٹیبل گھی اور کوکنگ آئل برآمد کرنے کیلئے وزارت تجارت کی سمری پر بھی غورکیا گیا۔اجلاس میں2023-24 کیلئے تمباکو پر ٹیکس کے ریٹس کے معاملے پروزارت فوڈسکیورٹی اور ریسرچ کی سمری پر بھی غورکیا گیا۔کمیٹی نے اس ضمن میں نظرثانی شدہ ریٹس کی بھی منظوری دیدی۔نئی ٹیکس شرحوں کے مطابق ورجینیا تمباکو پر ٹیکس کی شرح تین فیصد اضافے کے ساتھ 9.3 روپے فی کلوگرام کردی گئی ہے۔اسی طرح ڈارک ایئرتمباکو پر5.70 روپے فی کلوٹیکس وصول کیا جائے گا۔تمباکو پتہ پر ٹیکس کی شرح 4.38 روپے فی کلو،برلے پر9.7 روپے فی کلو اور سن کیورڈ ورجینیا پر ٹیکس کی شرح 6 روپے فی کلوگرام ہوگی۔وزارت فوڈ سکیورٹی کو نظرثانی شدہ ٹیکس ریٹس کی مد میں مجموعی طور پر 115ارب روپے وصول ہونگے۔اس رقم میں سے 113 ارب روپے ملازمین کی تنخواہوں پرہی خرچ ہوجائیں گے۔اجلاس میں سوئی مائننگ کی لیز کا معاملہ حل کرنے کیلئے پٹرولیم ڈویژن کی سمری پر غور مؤخر کردیا گیا۔اس معاملے پربلوچستان حکومت کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ پٹرولیم ڈویژن پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ کی جانب سے 12 ارب روپے کی ادائیگی کے بعد بلوچستان حکومت سے اس معاملے پر بات کریگی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں