0

چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور

ہائی کورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی پر حملے میں ملوث ملزم کی ضمانت منظور کرلی۔جسٹس عالیہ نیلم اور جسٹس شہرام سرور چوہدری پر مشتمل لاہور ہائی کورٹ کے 2 رکنی بینچ نے وزیرآباد فائرنگ کیس کی سماعت کی جس میں عدالت نے شریک ملزم طیب جہانگیر بٹ کی ضمانت منظور کرلی۔دوران سماعت شریک ملزم طیب جہانگیر بٹ کی طرف سے میاں داؤد ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور اپنے دلائل میں کہا کہ پولیس نے طیب بٹ کو4 نومبر2021ء سے گرفتار کر رکھا ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کے ایما پر جے آئی ٹی نے طیب بٹ کی 10 جنوری کو گرفتاری ظاہر کی۔وکیل نے عدالت کوبتایا کہ جے آئی ٹی کے سربراہ غلام محمود ڈوگر نے تحریک انصاف کی قیادت کے ایما پر طیب بٹ پر تشدد کر کے مرضی کے بیانات لیے۔ پراسیکیوشن نے طیب بٹ پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 120 بی کے تحت سازش کا کردار لکھا ہے۔ وقوعے میں طیب بٹ کا انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت اجتماعی ذمے دار کا کردار بھی لکھا گیا ہے۔عدالت میں دلائل دیتے ہوئے ملزم کے وکیل میاں داؤد ایڈووکیٹ نے کہا کہ پراسیکیوشن کے مطابق طیب بٹ نے عمران خان پر حملے کے لیے مرکزی ملزم نوید کو پستول فراہم کیا۔ پراسیکیوشن کی6 ماہ کی تفتیش میں شریک ملزم طیب بٹ کے خلاف ایک بھی آزاد اور ٹھوس شہادت اکٹھی نہیں کی جا سکی۔ تحریک انصاف حکومت کی 5 جے آئی ٹیز بھی طیب بٹ کے خلاف آزاد اور ٹھوس ثبوت اکٹھے کرنے میں ناکام رہیں۔وکیل نے کہا کہ پراسیکیوشن 6 ماہ گزرنے کے باوجود تفتیش مکمل کرنے اور حتمی چالان جمع کرانے میں ناکام ہے۔ قانون کے مطابق الزام کتنا بھی سنگین ہو پھر بھی کسی ملزم کو غیر معینہ مدت تک قید نہیں رکھا جا سکتا۔ لاہور ہائیکورٹ شریک ملزم طیب بٹ کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے۔سماعت کے دوران پراسیکیوشن کی طرف سے مقدمے کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ طیب بٹ کو شریک ملزم وقاص کے بیان پر نامزد کیا گیا، جس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ طیب بٹ کی وقوعے میں شمولیت یا سازش کی کوئی براہ راست شہادت موجود نہیں۔بعد ازاں عدالت نے دلائل سننے کے بعد 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم طیب جہانگیر بٹ کی ضمانت منظور کرلی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں