چین سے کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اسلام آباد ( بیورورپورٹ )وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ لازوال دوستی کا عملی مظاہرہ کیا، چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کو 7 دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں ہم اس سال کو شایان شان طریقے سے منائیں گے اور اپنے تعلقات اور دوستی کے نئے باب رقم کریں گے، چین کیساتھ تعلقات اور دوستی کے نئے باب رقم کریں گے، چین نے کورونا ویکسین کی 5 لاکھ خوراکیں بطور تحفہ دیں، کورونا کے خلاف اقدامات میں چین پاکستان کے ساتھ رہا ویکسین کے آنے سے عوام خود کو محفوظ تصور کر رہے ہیں،پاکستان چین دوستی صرف حکومتی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر ہے۔تفصیلات کے مطابق چین سے کورونا وائرس کی ویکسین کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت فیصل سلطان اور چینی سفیر کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کے اہم عہدیدار موجود تھے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ویکسین وصول کی ۔نور خان ایئر بیس پر ویکسین کی حوالگی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے انتہائی خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ چین نے پاکستان کے ساتھ اپنی لازوال دوستی کا عملی مظاہرہ کیا ہے اس سال کی ہماری دوستی اور تعلقات میں اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ ہمارے سفارتی تعلقات کو اس سال 7 دہائیاں مکمل ہونے کو ہیں اور ہمارا واضح منصوبہ ہے کہ ہم اس سال کو شایان شان طریقے سے منائیں گے اور اپنے تعلقات اور دوستی کے نئے باب رقم کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ میں حکومت پاکستان، وزیر اعظم عمران خان اور پاکستان کے عوام کی طرف سے چین کی حکومت خصوصاً صدر شی جن پنگ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے ناصرف یہ کہا کہ جس دن یہ ویکسین تیار ہو گی ہم اس کو مفاد عامہ اور لوگوں کی جانوں کے تحفظ کے لیے استعمال کریں گے، اس کا عملی مظاہرہ انہوں نے کردیا ہے اور اس کا آغاز پاکستان سے کیا ہے، یہ ہے عملی ثبوت پاکستان چین دوستی کا مظہر ہے۔اس موقع پر انہوں نے اسٹیٹ قونصلر وزیر خارجہ وونگ گی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وونگ گی سے میری اس ویکسین کے حصول کے لیے مستقل بات چیت چل رہی تھی، دسمبر میں بھی ان سے درخواست کی تھی اور 21 جنوری کو جب ان سے دوبارہ بات ہوئی تو انہوں نے خوشخبری سنائی کہ چین پاکستان کو یہ پانچ لاکھ خوراک بطور تحفیہ پیش کرتا ہے کیونکہ پاکستان سے ہماری دوستی اس نوعیت کی ہے۔ انہو ںنے مزید کہا کہ جس دن سے ہم نے وزیر اعظم کی سربراہی میں کووڈ-19 کا مقابلہ کرنے کا آغاز کیا، ہم نے ایک حکمت عملی اپنائی، این سی او سی اور وزارت صحت نے اپنا کام شروع کیا تو چین ہمارے شانہ بشانہ کھڑا رہا اور ہمیں وہ جس طرح ہماری مدد کرتے رہے وہ پوری قوم کے سامنے ہے پیپلز لبریشن آرمی اور چین کے ڈاکٹرز نے یہاں تشریف لا کر ہمارے ڈاکٹرز کی رہنمائی کی اور اپنے تجربات ہم سے شیئر کیے اور جس طرح سے ہماری ٹریننگ کی وہ قابل ذکر ہے اور میں اس کا بھی اعتراف کرنا چاہوں گا۔وزیر خارجہ نے انکشاف کیا کہ چین اور پاکستان نے مل کر ایک ویکسین کے تجربات کا آغاز کیا تھا، یہاں ٹرائل ہو رہے تھے جو مکمل ہو چکے ہیں، کینسائنو کے نام سے ویکسین چین اور پاکستان مل کر آگے بڑھ رہے ہیں اور اس کی ابتدائی رپورٹس حوصلہ افزا ہیں، اگر اس میں ہمیں کامیابی ملتی ہے تو یہ پاکستان کے لوگوں اور فرنٹ لائن ڈاکٹرز کے لیے حوصہ افزا خبر ہو گی۔اس مو قع پر چینی سفیر نے کہا کہ آج چینی حکومت کی جانب سے عطیہ کی گئی ویکسین پاکستان پہنچ گئی ہے مجھے یہ بتاتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے کہ پاکستان دنیا میں پہلا ملک ہے جسے چینی حکومت کی جانب سے عطیہ کی گئی ویکسین ملی ہے مجھے امید ہے کہ ہر کوئی اس بات میں مجھ سے اتفاق کرے گا کہ صرف اس ویکسین کی پاکستان میں ضرورت نہیں تھی بلکہ یہ ہمارے بھائی چارے کا عملی مظہر ہے۔چینی سفیر نئے کہا کہ صدر شی متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ چین نے اپنے وعدے پر پورا اترتے ہوئے ایک ماہ کے اندر ہی دنیا بھر کو ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی ہے اور اس سلسلے میں معاوت کے لیے اپنی بہترین کاوشوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دیرینہ دوست کی حیثیت سے ہماری پہلی ترجیح ہے اور میں سینوفارم ویکسین کے ایمرجنسی بنیادوں پر استعمال کی منظوری اور اس سلسلے میں تعاون کرنے پر ہم پاکستان کے شکر گزار ہیں، ہمیں امید ہے کہ اس دوطرفہ تعاون سے مزید لوگ استفادہ کریں گے۔انہوں نے کہا کہ اس سال پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ ہے، ہمیں اس دوستی پر فخر ہے جو پہاڑوں سے بلند، سمندروں سے گہری اور شہد سے میٹھی ہے۔چینی سفیر نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری سمیت دوطرفہ تعلقات میں مستقل پیشرفت ہو رہی ہے اور چین پاکستان کو اس وبا سے پاک کرنے کی مہم، معیشت کی بحالی اور سماجی ترقی میں ساتھ دینے کے لیے تیار ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں